تجارتی و مالی خسارہ کنٹرول،گرے لسٹ سے نکل آئینگے،معاشی فیصلوں کے نتائج ملنا شروع آمدن میں 16فیصد اضافہ،بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال،شناختی کارڈ کی شرط کا معاملہ حل ہو جائیگا:حفیظ شیخ

تجارتی و مالی خسارہ کنٹرول،گرے لسٹ سے نکل آئینگے،معاشی فیصلوں کے نتائج ملنا ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کی معاشی کاکر دگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات اور مشکل معاشی فیصلوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے، رواں سال پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ میں 35فیصد جبکہ مالی خسارے میں 36فیصد کمی ہوئی ہے، 5لاکھ اضافی ٹیکس ہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے،حکومت نے آمدن میں 16فیصد اضافہ کیا ہے، نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 406ارب روپے اکٹھے کئے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 140فیصد اضافہ ہے، رواں سال نان ٹیکس ریونیو کی مد میں ہدف سے 400ارب زائد حاصل کریں گے،ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال ہورہا ہے،تین ماہ میں 340ملین ڈالر کا بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اہے،سٹاک مارکیٹ 28ہزار سے بڑھ کر 34ہزار تک پہنچ گئی ہے،سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزرز پر آئندہ دو ہفتوں میں پالیسی آرہی ہے،رواں مالی سال 3لاکھ 73ہزار افراد بیرون ملک روزگار کیلئے بھیجے گئے، پاکستان جلدایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا،منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے ملک کا ہر ادارہ متحد ہے اور عوام کی بہتری کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ دبئی کی حکومت نے پاکستانیوں کی پراپرٹیز کی معلومات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، متحدہ عرب امارات حکام سے اقامہ کے غلط استعمال پر بات ہوئی، تاجروں سے مذاکرات جاری ہیں، امید ہے شناختی کارڈ کی شرط تاجروں کو سمجھا دیں گے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کیلئے فکس ٹیکس سکیم متعارف کر انا چاہتے ہیں، اس سے شناختی کارڈ کی شرط والا معاملہ حل ہو جائے گا۔ہفتہ کو مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے اعلی حکام کے ہمراہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کی معاشی کارکردگی کے حواے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے نتائج سامنے آ نا شروع ہو گئے ہیں، جب حکومت آئی تو سنگین معاشی بحران کا سامنا تھا، آتے ہی زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینے کی کو شش کی اور اقدامات اٹھائے، دوست ممالک سے 7ارب ڈالر لئے اور آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اچھے منصوبے شروع کئے گئے،حکومت نے معاشی بہتری کیلئے اپنے اخراجات کم کئے،یہاں تک کہ وزیراعظم آفس کے اخراجات کم کئے گئے ہیں، دفاع کا بجٹ منجمد کیا اور افسروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ 5لاکھ اضافی ٹیکس ہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے،برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے، رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں حکومت نے 2بڑے خساروں پر قابو پالیا ہے، تجاری خسارہ میں 35فیصد کمی کی ہے، تین ماہ میں تجارتی خسارہ 9ارب ڈالر سے کم ہو کر5ارب 72کروڑ ہو گیا، حکومت نے مالیاتی خسارے میں 36فیصد کمی کی ہے، گزشتہ سال کے پہلے تین ماہ میں حکومت کا مالی خسارہ 738ارب تھا جو رواں سال کے پہلے تین ماہ میں کم ہو کر476ارب ہو گیا ہے، حکومت نے آمدن میں 16فیصد اضافہ کیا ہے، تین ماہ میں سٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی ضمنی گرانٹ لی ہے، حکومت نے اخراجات پر سخت کنٹرول رکھا ہواہے، انہوں نے کہاکہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 406ارب روپے اکٹھے کئے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 140فیصد اضافہ ہے، ناں ٹیکس ریونیو کا ہدف 1200رکھا گیا ہے لیکن  400ارب اس میں ہدف سے زائد حاصل کرنے کی امید ہے، حکومت 1600ارب نان ٹیکس ریونیو کی مد میں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، انہوں نے بتایا کہ نان ٹیکس ریونیو میں اسٹیٹ بنک کے منافع کی مد میں 185ارب حاصل کئے گئے ہیں جو گزشتہ سال 58ارب تھا جبکہ پی ٹی اے کے منافع کی مد میں 70ارب حاصل ہو ئے ہیں جو گزشتہ سال اس مدت کے دوران صرف 6ارب تھا،ایکسچینج ریٹ ماضی میں ایک حد پر رکھنے کے لئے اربوں ڈالر ضائع کئے گئے، اب اس میں استحکام آ گیا ہے، روپے کی قدر اب مارکیٹ متعین کر رہی ہے،برآمدات کے شعبے کو سبسڈی دی جا رہی ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آنے سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال ہورہا ہے،تین ماہ میں 340ملین ڈالر کا بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اہے،برآمدات میں گزشتہ 5سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا، اب اضافہ ہونا شروع  ہو گیا ہے، معاشی بہتری سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 3لاکھ 73ہزار افراد بیرون ملک روزگار کیلئے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کی نسبت ڈیڑھ لاکھ زیادہ ہے، اس سے معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، گزشتہ دو ماہ میں سٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، معیشت کے حوالے سے مشکل فیصلوں سے بہتری آئی ہے،سٹاک مارکیٹ 28ہزار سے بڑھ کر 34ہزار تک پہنچ گئی ہے، حکومت کے مشکل معاشی فیصلوں کے نتائج سامنے آ نا شروع ہو گئے ہیں، عالمی ادارے پاکستان کی معیشت پر اچھے بیانات دے رہے ہیں، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پی ایس ڈی ی میں ایک گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ پیسے جاری کئے جائیں گے، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزرز پر آئندہ دو ہفتوں میں پالیسی آرہی ہے، حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر شعبے کی مدد کرے، حکومت کا خیال ہے کہ برآمدی شعبے میں دیگر شعبوں کو شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں سے معیشت میں استحکام آ گیا ہے اس سے عوام کو فائدہ ہو گا، تین ماہ سے پٹرول کی قیمت اس لئے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آ گیا ہے جو بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ عوام کے فائدے کیلئے کر رہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ دبئی کی حکومت نے پاکستانیوں کی پراپرٹیز سی آ ر ایس سسٹم کے تحت پاکستان کو فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہاکہ تاجروں سے مذاکرات جاری ہیں، امید ہے شناختی کارڈ کی شرط تاجروں کو سمجھا دیں گے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لئے فکس ٹیکس سکیم متعارف کر انا چاہتے ہیں، اس سے شناختی کارڈ کی شرط والا معاملہ حل ہو جائے گا، تاجروں کامطالبہ ہے کہ فکس ٹیکس منافع کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کے دکان کے رقبہ کی بنیا د پر ہو، منافع کا تعین کون کرے گا اس پر بات چیت جارہی ہے، ہم نہیں چاہئے کے ایف بی آ رکے افسران جاکر منافع کو تعین کریں۔

حفیظ شیخ

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -صفحہ اول -