قومی مفاد پر اپوزیشن سے ڈائیلاگ ممکن،مولانا صاحب ایل او سی پر دھرنا دیں:وفاقی وزراء

قومی مفاد پر اپوزیشن سے ڈائیلاگ ممکن،مولانا صاحب ایل او سی پر دھرنا ...

  

اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) امیر جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن کے وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د کی جانب31اکتوبر کو آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی وزراء اور معاونین کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر بیانات کا سلسلہ جاری ہے اس ضمن میں گزشتہ روز  وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا مولانا کے آگے کنواں، پیچھے کھائی ہے، شہباز شر یف اور فضل الرحمن میں ابھی کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا، نواز شریف کو بہتر رابطوں کیلئے نیب شفٹ کیا گیا، اکتوبر، نومبر اور دسمبر اہم ہیں۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انکا کہنا تھا26 اکتوبرکو بتاؤں گا فضل الرحمان کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، انتخاب کی باتیں کرنیوالوں کی چیخیں سنائی دیں گی، نواز شریف کو پھنسوانے میں مریم نواز کا کلیدی کردار ہے، اب حسین نواز دیکھتے ہیں کیا کرتے ہیں،6 آ د می عمران خان سے این آر او مانگ رہے ہیں،6 میں سے 4 گرفتار ہیں، 2 مزید بھی ہونیوالے ہیں، ان 2 بندوں میں سے ایک بندہ مولانا فضل الرحمن کا ہے، عمران خان نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیااور مودی کو بند گلی میں دکھیل دیا ہے، چین نے برملا کہا مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق پر حل ہونا چاہیے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا اگر ہوئی تو آخری ہوگی، پاکستانی قوم کشمیریوں کیساتھ کھڑی ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھے گا تو لوگ باہر نکلیں گے، مودی کی جان نہ اب چھٹ سکتی ہے نہ بچ سکتی ہے۔ادھر وفاقی وزیر غلام سرور خان کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمن کا ایجنڈا واضح نہیں کہ آزادی مارچ ہے کس چیز کا، مولانا کو ایل او سی پر دھرنا دینا چاہیے، حکومت سپورٹ کریگی۔گزشتہ روزپریس کانفرنس سے خطاب میں غلام سرور خان کا کہنا تھا مولانا صاحب کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اسلام آباد آ کر کیا کریں گے، مولانا کو اگر کوئی مسئلہ تھا تو حکومت کیساتھ بیٹھ کر بات کرتے، اگر دھرنا دینا تھا توناموس رسالت میں ترمیم کرنیوالوں کیخلاف دیتے، ہمارے دھرنے کے پیچھے ایک مقصد تھا، مولانا کے دھرنے کا کوئی مقصد نہیں، مولانا کشمیرکمیٹی کے چیئرمین تھے، ایک لفظ بھی کشمیرسے متعلق نہیں بولے، مولانا کچھ بھی کریں لیکن بین الاقوامی دنیا اگر کشمیر پربات کر رہی ہے تومولانا صاحب اس کو خراب نہ کریں، سیاسی طور پر ہم مو لانا سے خائف ہیں نہ انکی کوئی حیثیت ہے، اگر ہم کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو باہر ہو جائیں گے، جس طرح کی مولانا کی حکمت عملی ہوگی و یسی ہی ہماری حکمت عملی ہو گی۔ مولانا کو کدھر روکنا اور کیا کرنا ہے وقت دیکھ کر بتائیں گے، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے اگرمولانا کو کوئی مسئلہ ہے تو بات کریں، سرکاری اعزازیہ اور گھر لینے کے علاوہ مولانا کا کام کیا تھا، ہمارے سکولز، یونیورسٹیز، درسگاہوں پر حملے ہوئے، کبھی مولانا بولے؟۔ مولانا نے بلوچستان میں دہشت گردی کرنیوالے بھارتی جاسوس کلبھوشن کیخلاف بات کی؟ مولانا صاحب پاکستان بن چکا ہے، اب علما اسلام پاکستان کی نمائندگی کریں۔ مسلم لیگ کی اکثریت نوازشریف سے اختلاف کر رہی ہے، ہم بالکل پریشان نہیں، مولانا کا اصل چہرہ دکھانا ہمارا فرض ہے، جو شخص اپنی سیٹ نہیں جیت سکتا اس کی اوراس کی پارٹی کی کیا حیثیت ہے؟۔وفاقی وزیر کاکہنا تھا ایران، سعو د ی عرب کے درمیان کشیدگی ہے اس میں ہمارا رول ثالث کا ہے، سعودی عرب، ایران کو قریب لانے میں مدد کرسکتے ہیں جھگڑے کاحصہ نہیں بن سکتے۔دریں اثناء وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا فضل الرحمان کے احتجاج کے حوالے سے پالیسی واضح ہے، احتساب پر ڈیل ہو گی نہ کوئی شہر بند ہوگا۔ آئین اور سپریم کوٹ کے فیصلوں کے مطا بق احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں، حکومت مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات بھی کرے گی، مدرسے کے بچوں کو چارے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

وفاقی  وزراء

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -صفحہ اول -