جہاں حلوہ وہیں مولانا،جیل سے لکھے خط کا حشر بھی قطری خط جیسا ہوگا:فردوس عاشق

جہاں حلوہ وہیں مولانا،جیل سے لکھے خط کا حشر بھی قطری خط جیسا ہوگا:فردوس عاشق

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے جیل والے مولانا فضل الر حمن کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں تحر یک انصاف کی یہ پہلی حکومت ہے جو بغیر ”ڈیزل“کے چل رہی ہے،جیل سے لکھے گئے خط کا حشر بھی قطری خط جیسا ہوگا، ن لیگ کے بیانیہ سے آمرانہ سوچ واضح ہوگئی، تحریک انصاف کا دھرنا قانون کی بالادستی کیلئے تھا،نواز شریف اور شہباز شریف کی سمت مختلف ہے مدارس کے بچوں کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے، نواز شریف کی حمایت کے بعد فضل الرحمن کے مارچ کی بلی تھیلے سے باہر آگئی‘(ن) لیگ مولانا فضل الرحمن کی حمایت کے معاملے پر خود تقسیم ہے، سیاسی میں مذاکرات کے دوروازے بند نہیں ہوتے مگر انتشار اورفساد کی سیاست کر نیوالوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے،27 اکتوبر کا دن اس کام کیلئے ٹھیک نہیں،ہر سیاسی شخص دھرنا دے اور مارچ کر سکتا ہے،ہم یہ جاننا چاہتے ہیں اس دن کو کیوں چنا گیا؟ جو ہندوستان کے کشمیر پر غاضبانہ قبضے کا دن ہے، مولانافضل الرحمن کا مسئلہ اسلام یا جمہوریت نہیں ہے،مولانا کا مسئلہ حلوے سے جڑا ہے،جہاں حلوہ ہوگا وہ وہاں جائیں گے۔ نواز شریف کا فیصلہ سپریم کورٹ اور احتساب کورٹ نے کیاجبکہ آصف زرداری کے جعلی اکاونٹس کیس ہم نے نہیں بنائے،سب کو آزادی حاصل ہے، ہم میڈیا کو آزاد اور باختیار بنانا چاہتے ہیں۔ وہ گور نر ہاؤس لاہور میں گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور کے ہمراہ کالم نگاروں سے گفتگو کررہی تھیں، وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا سابق ادوار میں بزنس فرینڈلی ماحول نہیں تھا اورٹیکسٹائل کی صنعت بند ہو رہی تھی،وزیراعظم نے ٹیکسٹائل کی صنعت کے افراد سے ملاقات کی اور انکے لیے بجلی اور گیس کے ٹیرف مقرر کر دئیے،ٹیکسٹائل کی صنعت نے ایک سو چالیس بلین کا منافع کمایا اور چالیس بلین کا ٹیکس بھی ادا کیا، وزیراعظم نے سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو آپریشن کا نفاذ کیا۔ چین نے ہماری ہر محاذ پر مدد کی،چین نے کشمیر پر ہمارے موقف کی حمایت کی، پاکستان کا سوفٹ امیج اجاگر کرنے کیلئے سیاحت کو شعبے کو فروغ دیا جا رہا ہے،کوئی بھی اثاثہ نہیں بیچیں گے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر اداروں کو چلائیں گے جبکہ خسارے میں جانیوالے اداروں کو چلانے کیلئے ابھی ہمارے پاس پیسہ نہیں اسلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پالیسی لا رہے ہیں،ملکی صورتحال ٹھیک کرنے کیلئے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے،ہماری حکومت کسی سے سیاسی انتقام نہیں لے رہی۔عمران خان نے پہلے دن احتجاج کیا نہ دھرنا دیا،پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے،پانامہ کیس میں تین مرتبہ کے وزیر اعظم کا نام منی لانڈرنگ میں آگیا،اس کے بعد عمران خان نے احتجاج کیا جبکہ مولانا نے سیدھے مارچ کا راستہ اپنا لیاجبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انکا کہنا تھا نواز اور شہباز شریف سمیع اللہ اور کلیم اللہ کا کھیل کھیل رہے ہیں، کبھی بال شہباز شریف کے پاس ہوتی ہے تو کبھی نواز شریف کے پاس،تاہم دونوں گول کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ دونوں کے گول پوسٹ الگ الگ ہیں،ماڈل ٹا ؤن میں ہونیوالا اجلاس بھی اسی کھیل کا حصہ ہے۔ نواز شریف کی گفتگو کے بعد فضل الرحمان کے مارچ کی بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے،ثابت ہوگیا ان کا مارچ کشمیریوں کی آزادی کیلئے نہیں چوروں کی آزادی کیلئے، وہ مظلوموں اور بے کسوں کے لئے نہیں بلکہ کرپشن کنگز کے سیاسی و معاشی روزگار کو تحفظ دینے کیلئے باہر نکلے رہ ہیں۔ ن لیگ میں دھڑے بندی ہو گئی ہے۔شہباز شریف حکومت کی طرف سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -صفحہ اول -