1تا گریڈ 19،این ایچ اے میں غیر قانونی بھرتیاں،سالانہ اربوں روپے کی ادائیگیاں،وزیر اعظم کو مراسلہ روانہ

  1تا گریڈ 19،این ایچ اے میں غیر قانونی بھرتیاں،سالانہ اربوں روپے کی ...

  

ملتان(واثق رؤف سے)نیشل ہائی ویز اتھارٹی کی طرف سے سال 13۔2009ء کے دوران غیرقانونی طورپربھرتی ہونے والے سکیل 1 تا گریڈ 19 تک کے1ہزار976 ملازمین اورافسران کو کو سالانہ 1ہزار7سو85ارب روپے کی ادائیگیاں کئے جانے کا انکشاف ہواہے۔ ان ملازمین کوگریجویٹی کی مدمیں بھی5ہزار1سو69ارب روپے کی ادائیگیاں کرناپڑیں گئیں باقاعدہ قواعدوضوابط کے تحت بھرتی ہونے والے این ایچ اے کے ملازمین اورافسران نے غیرقانونی طورپربھرتی ہونے والے ان ملازمین اورافسران کواین ایچ اے کے دیوالیہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ قراردیتے ہوئے ملازمت سے فارغ کرنے کے لئے ایک تفصیلی مراسلہ وزیراعظم پاکستان عمران خان  کوبھجوادیاہے مراسلہ میں کہا گیاہے کہ 2008ء سے قبل این ایچ اے میں سکیل 1سے 19تک منظورشدہ آسامیوں کی تعداد1ہزار5سو96تھی تاہم وفاقی وزیرمحنت وافرادی قوت خورشیدشاہ،وفاقی وزیرمواصلات ارباب عالمگیر،فریال تالپور،چیئرمین این ایچ اے الطاف چوہدری،ممبرفنانس ظفرگوندل،ممبرایڈمن رانانصیرکے دور13۔2009ء کے دوران مختلف عارضی منصوبوں کے لئے این ایچ اے میں بھرتی کیلئے موجودقواعدوضوابط کونظراندازکرتے ہوئے سکیل 1تا19تک کے ملازمین کا کل وقتی،جزوقتی اورروزانہ کی اجرت کی بنیاد پربھرتی کاسلسلہ شروع کیاگیاجو 1ہزار9سو76ملازمین اورافسران کی بھرتی کے بعدہی رکایہ بھرتی این ایچ اے کہ مجریہ1995ء رول نمبر12باب نمبر3کی کھلاکھلم خلاف ورزی ہے اس قانون کے تحت گریڈ16اوراس سے زائدکے گریڈپربھرتی کے لئے نہ صرف اتھارٹی میں نئی آسامیاں پیداکرناضروری تھابلکہ بھرتی ہونے والوں کے لئے قانون کے تحت سرکاری ملازمت کے تجربہ کے ساتھ تحریری امتحان پاس کرنابھی ضروری تھاتاہم نہ صرف اس میں سے کسی بھی قاعدہ پرعملدآمدنہ کیاگیابلکہ ان غیرقانونی تعیناتیوں کاعمل مکمل کرنے کے بعداس وقت کے چیئرمین این ایچ اے کہ ایماء پر7اگست2009ء کواین ایچ اے ایگزیکٹوبورڈ کی منعقدہ 176ویں میٹنگ میں ان قوانین میں ترمیم کے لئے سفارشات پیش کی گئیں جس سے اس وقت کی نیشنل ہائی ویزکونسل نے اپنی 23ویں میٹنگ منعقدہ11جنوری2011ء میں متفقہ طورپرنہ صرف ردکردیابلکہ سابقہ قوانین کوتب تک براقراررکھنے کی ہدائت کی جب تک نئے قوانین کواسٹیبلشمنٹ ڈویژن اوروفاقی کابینہ سے منظوری لے کرباقاعدہ مرتب نہ کرلیاجائے۔ این ایچ اے کونسل کے فیصلہ کہ بعد یہ تمام عارضی تعینات شدہ ملازمین این ایچ اے سے غیرقانونی طورپر بھاری تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان کوبھجوائے گئے مراسلہ میں مزیدکہاگیاہے کہ این ایچ اے نے اپنے ایک مراسلہ5ستمبر2013ء میں اقرارکیاہے کہ سال13۔2008ء کے دوران این ایچ اے میں ہونے والی تمام ترتعیناتیاں اوربھرتیاں قعطی غیرقانونی اورمروجہ قوانین سے بالاترہوکراین ایچ اے میں جگہ نہ ہونے کے باوجودکی گئی ہیں۔قواعدکے برخلاف 1ہزار9سو76بھرتی ہونے والے ان ملازمین کو13۔2011ء کے دوران وفاقی وزیرمحنت وافرادی قوت خورشیدشاہ کی ہدائت پرمستقل بھی کردیاگیایہ بھرتیاں این ایچ اے میں پہلے سے منظورشدہ آسامیوں کے مقابلہ میں 124فیصدزیادہ ہیں ان بھرتیوں کے لئے کسی بااختیاراتھارٹی اورنہ ہی این ایچ اے کی ایگزیکٹوباڈی نے مستقل کرنے کی منظوری دی۔اس تمام صورت حال پرپہلے سے میرٹ پرتعینات ملازمین پریشانی کاشکارہوگئے جس پرانہوں نے ان غیرقانونی بھرتیوں کے خلاف سال2011ء میں مختلف عدالتوں سے رابطہ کیاجس پرنہ صرف ہائی کورٹس لاہوراوراسلام آبادبینچ سپریم کورٹ آف پاکستان اوربعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے2جون2016ء کومیرٹ پربھرتی ہونے والے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا۔جس کے بعداین ایچ اے نے میرٹ پربھرتی ہونے والے اورمستقل ہونے کے خواشمندملازمین کے کافیصلہ حسیب اخترکی کمیٹی کے سپردکردیااس کمیٹی نے فروری2017ء میں مستقلی کے خواہشمندتمام امیدواروں کومستقل ہونے کے لئے غیرموزوں قراردے دیا۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کومیرٹ پربھرتی ہونے والے ملازمین کی طر ف سے بھجوائے گئے مراسلہ میں مزیدکہاگیاہے کہ خورشیدشاہ اوردیگرکے دورمیں میں بھرتی ان ملازمین کو تنخواہ کی مد میں این ایچ اے 1ہزار7سو85ارب روپے سالانہ اداکررہاہے جوغیرقانونی اقدام ہے این ایچ اے اگران ملازمین کومستقل کرتاہے توگریجویٹی کی مدمیں بھی این ایچ اے کو5ہزار1سو69ارب روپے اداکرناپڑیں گے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -