پولیس بیورو کریسی کی بجائے آئی جی کے ماتحت،ریفارمز کا مسودہ تیار

پولیس بیورو کریسی کی بجائے آئی جی کے ماتحت،ریفارمز کا مسودہ تیار

  

لاہور(لیاقت کھرل)محکمہ پولیس میں ریفامز کے حوالے سے مسودہ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔نئے نظام میں ڈی پی اوز اور ایس پیز وزرا اورارکان اسمبلی کو عملاً جواب دہ ہونگے۔وزیراعظم کو پولیس ریفامزکا تیار کردہ مسودہ اگلے ہفتہ میں پیش کیا جا رہا ہے۔جس میں ڈی پی اوز اپنے ضلعی ارکان اسمبلی اور وزرا کے ساتھ مل کرعوامی مسائل اور کھلی کچہریاں لگائیں گے۔محکمہ پولیس کے انتہائی قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ پولیس کو سول بیوروکریسی کی بجائے آئی جی کے ماتحت رکھنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔تاہم محکمہ پولیس میں ریفامز کے حوالے سے پولیس افسران اورسو ل بیوروکریسی کے درمیان جاری جنگ کو تھما دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پولیس ریفامز کی وزیراعظم سے اگلے ہفتے کو منظوری کے بعد آر پی اوز،ڈی پی اوز اورایس پیز وزرا ء اورارکان اسمبلی کی سرپرستی میں عوامی مسائل کا حل اور کھلی کچہریاں لگائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا نیا نظام 12 نکاتی مسودہ تیا ر کیا گیا ہے جس میں محکمہ پولیس کو ایک مکمل ادارہ بنایا جا رہا ہے اور آئی جی کو ان پاور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم اس میں سیاسی سپرویژن کے عمل کو لاگو کیا جا رہا ہے۔  اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان اورایڈیشنل آئی جی انعام غنی نے روزنامہ پاکستان کوبتایا کہ محکمہ پولیس میں نئے سرے سے قانون سازی کیلئے آئی جی پنجاب کی سربراہی میں الگ سے مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔جو کہ وزیراعظم پاکستان کو جلد پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ارکا ن اسمبلی کے ساتھ مل کرعوامی مسائل حل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے تاہم اس میں حتمی فیصلہ پولیس ریفامز کی وزیراعظم سے منظوری اور پولیس ریفامز کے نفاذ کے بعد ممکن ہوسکے گا۔

مسودہ تیار

مزید :

صفحہ آخر -