سب کی نظریں کرکٹ پر لیکن بیس بال میں پاکستان نے کیا کارنامہ انجا م دیدیا ؟ جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ پائیں گے

سب کی نظریں کرکٹ پر لیکن بیس بال میں پاکستان نے کیا کارنامہ انجا م دیدیا ؟ جان ...
سب کی نظریں کرکٹ پر لیکن بیس بال میں پاکستان نے کیا کارنامہ انجا م دیدیا ؟ جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ پائیں گے

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بیس بال کو پاکستان میں وہ مقبولیت حاصل نہیں جو کہ کرکٹ کی ہے لیکن وہ مشکلات کے باوجود ترقی کی منازل طے کر رہی ہے ، پاکستان 29 ویں ایشین بیس بال چیمپئن شپ میں حصہ بھی لینے جارہاہے جو کہ2020 میں تائیوان کے شہر ” تائی پے “ میں ہونے والی ٹوکیو اولمپکس کا کوالیفائنگ راﺅنڈ بھی ہے ۔

سری لنکا میں ہونے والے ” ویسٹ ایشیا کپ “ کے فائنلسٹ بننے کے بعد پاکستان نے چیمپئن شپ کیلئے کوالیفائی کر لیاہے ،جس میں پرفارمنس قابل تعریف تھی لیکن یہ میڈیا اور حکومت کی توجہ میں نہ آ سکی ۔اس دورے کے دوران ٹیم کے کپتان اور عزت دار کھلاڑی محمد عثمان کا یقین ہے کہ پاکستانیوں میں جذبے اور ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن دراصل سہولیات کا فقدان ان کے کیریئر ز کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔محمد عثمان کا تعلق ملتان سے ہے جو کہ پہلے پہل کرکٹر بننا چاہتے تھے، کاکہناتھا کہ ہم اولمپکس کیلئے کوالیفائی کر سکتے ہیں لیکن یہ آسان نہیں ہے ، دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کو یہ پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ وہ مشکل وقت میں معاشی ضررویات کو کس طرح پورا کریں گے ، انہیں تمام سہولیات دی جاتی ہیں ،عہدہ دیا جاتا ہے ، ان کا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، یہ معاملات فرق پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیس بال ابھی وہ کھیل ہے جو پھل پھول رہاہے تاہم اس کی رفتار زیادہ تیز نہیں لیکن آج اس کی حالت اس وقت سے بہتر ہے جب میں نے 2002 میں اسے شروع کیا ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان تائیوان میں اچھا پرفارم کر سکتا ہے تاہم جاپان پہلے ہی کوالیفائی کر چکا ہے ۔ایشین چیمپئن شپ میں ہانگ کانگ ، فلپائنز ، پاکستان ، سری لنکا ، تائی پے ، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں ۔

ورلڈ بیس بال سوفٹ بال کانفیڈریشن لسٹ میں پاکستان 24 ویں نمبر پر ہے ، یہ عہدہ کھلاڑیوں نے اپنے بل بوتے پر حاصل کیاہے ، ان کے پاس کوئی غیر ملکی کوچز نہیں ۔29 سالہ عثمان اس سے قبل مقامی سطح پر واپڈا کیلئے کھیلتے تھے ، نیشنل کوچز میں سے ایک کوچ باسط مرتضیٰ نے عثمان کو اس وقت چنا جب انہوں نے اسے کرکٹ میں گیند پھینکتے ہوئے (تھرو) دیکھا اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئے۔

عثمان کا کہناتھا کہ مجھے ملک سے باہر جانے کا بھی موقع ملا لیکن میں نہیں گیا بہر حال میں چاہتاہوں کہ دیگر پلیئرز بین الاقوامی لیگز میں جا کر کھیلیں ، میں 2016 میں ایراق میں کھیلا ہے لیکن یہ سب اس پر منحصر ہے کہ ہمارے پاس کتنی سہولتیں ہیں اور مجھے لگتاہے کہ حکومت کو ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے ، جب ہم نے ویسٹ ایشیا کپ میں میڈلز حاصل کیے تو حکومت کو کھلاڑیوں کی مالی طور پر حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ،ہم صرف اپنے وقت کا انتظارکر رہے ہیں اور پرفارمنس دے رہے ہیں ۔

ان کا کہناتھا کہ ہم دنیا کی بہترین 25 ٹیموں میں شامل ہیں لیکن ہمیں کوئی تعاون یا فنڈنگ نہیں دی جاتی ، لوگ ہمیں عزت دیں لیکن یہ بھی اچھا ہو گا کہ کم سے کم ہمارا معیار زندگی بھی بہتر ہو لیکن ایسا نہیں ہے ۔کرکٹرز سے موازن کیا جائے تو لوگ اپنے بچوں کو بیس بال کی بجائے کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر کوئی اور کھیل ۔ایشین چمپئن شپ کیلئے ٹیم کا اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔

مزید : کھیل