دھرنے یا آزادی مارچ کی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی کے لئے مارچ کی ضرورت ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

دھرنے یا آزادی مارچ کی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی کے لئے مارچ کی ضرورت ہے، ...
دھرنے یا آزادی مارچ کی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی کے لئے مارچ کی ضرورت ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

  



جدہ (محمد اکرم اسد) پاکستان کو اس وقت دھرنے یا آزادی مارچ کی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی کے لیے مارچ کی ضرورت ہے اور ہمیں پوری دنیا کو بھارتی حکومت اور مودی کا وہ مکروہ چہرہ دکھانا چاہئے کہ وہ کسطرح کشمیر میں ہمارے بھائیوں، بہنوں اور ماؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ کشمیر کی حثیت  کاغذ کے ٹکڑوں سے بدل لی ہے مگر اسے یہ پتہ نہیں کہ حثیت بدلنے کے لیے کاغذ کے ٹکڑے نہیں عوام کے دل جتنے پڑتے ہیں، ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے  نائب امیر و سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے یہاں ’’کشمیر کی مجموعی صورتحال اور ہماری اجتماعی و انفرادی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا، جسکی صدارت سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے کی،  تقریب کا اہتمام پاکستان رائٹر فورم اور سماجی رابطہ کمیٹی نے کیا تھا، فرید پراچہ نے کہا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کے پرچم میں اپنے شہداء کو دفنا رہے ہیں اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر کے اندر جو ظلم و بربریت ہو رہی ہے اسکا عالمی برادری اور انٹر نیشنل میڈیا نوٹس لے اور بھارتی ظلم و ستم کا خاتمہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا مودی نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لی ہے، انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کو آخر کشمیریوں پر ہونے والا یہ بھارتی ظلم و بربریت اور وحشت کا کیا ہوا گرم بازار کیوں نظر نہیں آ رہا، آخر کیوں عالمی میڈیا اسطرف سے خاموش ہیے، فرید پراچہ نے پاکستان میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سمت متعین کرے کہ اسے پاکستانی سالمیت، ترجیہات اور مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے مگر اسوقت ہو یہ رہا ہے کہ ہمارا میڈیا کشمیر جیسے سلگھتے مسئلہ کو پس پشت ڈال کر مارچ کی طرف لگ گیا ہے حالانکہ یہ وقت ہے کہ ہمیں من حیث القوم عالمی برادر کو جنجھوڑنا چاہئے تا کہ وہ بھارتی مظالم اور کشمیریوں کو انکے حقوق دے جسکا وعدہ اقوام متحدہ نے ان سے کر رکھا ہے۔ اس وقت میڈیا کو بڑا کردار ادا کرنے کا کام ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو کشمیریوں جے حق میں ہموار کیا جا سکے، فرید پراچہ نے کہا کہ جہاد کے نام سے لوگ خوف زدہ ہو جاتے ہیں حالانکہ جہاد کے معنی ہر طرح کی کوشش و کاوش اور مدد کرنا ہے، یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ اس کا اعلان کرے اگر ہم انکی جگہ ہوتے تو ابتک یہ کر چکے ہوتے، انہوں نے کہا کہ ہم میں کئی اختلاف ہیں مگر کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس پر سب یکجا ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ریلیاں نکال رہے ہیں 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں خواتین کی ایک بڑی ریلی بھی نکال رہے ہیں جسکا مقصد اپنے کشمیری عوام کو بتانا ہے کہ ہم انکے ساتھ ہیں، آج کشمیریوں کو گھروں میں بند کئے 64 روز ہو چکے ہیں اور وہ بھوکے پیاسے بغیر علاج کے مقید ہیں اور اپنے پیاروں کے لاشے  بھی مجبوراً گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں جبکہ عالمی برادری وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی اچھی تقریر سے بھی ٹائمز سے مَس نہیں ہوئی۔ تقریب سے سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اوورسیز  والے پہلے دن سے ہی اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہمارے جانیں بھی حاضر ہیں اور ہم خون کے آخری قطرے تک اپنے بھائیوں کے لیے ہر قسم کی  جنگ لڑیں گے، فورم کے صدر انجنئیر نیاز احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر بھارتی نو لاکھ فوج کے دہشت گردانہ کردار کو بے نقاب کرتے رہے جبکہ تقریب سے پاکستان رائٹر فورم اور سماجی رابطہ کے اراکین چوہدری زووالفقار، توقیر احمد ، اقبال ملک اور اعجاز اعوان سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور کشمیر میں جاری بھارتی ظلم سے متعلق سب کو آگاہ کیا اور کشمیر میں جاری بھارتی ظلم اور کر فیو کی مزاحمت کی ۔جبکہ معروف شعراء اطہر نفیس عباسی اور زمرد سیفی نے یکجہتی کشمیر کے حوالے سے نظمیں پیش کیں، پاکستانی کمیونٹی کے ہر مکتبہ فکر کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید : عرب دنیا