ترک فوج کا شام میں آپریشن، امریکی سپیشل فورسز کو ہی نشانہ بناڈالا، نیا خطرہ

ترک فوج کا شام میں آپریشن، امریکی سپیشل فورسز کو ہی نشانہ بناڈالا، نیا خطرہ
ترک فوج کا شام میں آپریشن، امریکی سپیشل فورسز کو ہی نشانہ بناڈالا، نیا خطرہ

  



انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں ترک افواج نے کرد شدت پسندوں سے شام کا سرحدی علاقہ چھڑانے اور اسے ترکی اور شام کے درمیان ’سیف زون‘ بنانے کے لیے شام پر حملہ کیا۔ اس حملے میں گزشتہ روز ترک فوج نے ایسی غلطی کر دی کہ بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی سپیشل فورسز کے کچھ دستے اس علاقے میں موجود ہیں جہاں ترک فوج نے حملہ کیا ہے۔ گزشتہ روز ترک فوج نے غلطی سے ان امریکی سپیشل فورسز پر ہی بمباری کر دی۔

امریکی صدر ٹرمپ ان سپیشل فورسز کے بھی رواں ہفتے شام سے انخلاءکا اعلان کر چکے ہیں اور یہ فوجی آئندہ چند دنوں میں واپس امریکہ جانے والے ہیں کہ ایسے میں یہ واقعہ رونما ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی یہ جنگ کرد شدت پسندوں کے خلاف ہے جو مبینہ طور پر ترکی کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔دوسری طرف یہ شدت پسند تنظیم داعش اور شامی صدر بشارالاسد کی افواج کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے قریبی اتحادی رہے۔

تاہم اب صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کر دیا کہ ”شام کا معاملہ انہیں سنبھالنے دیں۔“ صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر کرد جنگجوﺅں کا کہنا ہے کہ ”صدر ٹرمپ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔“ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ وہ شام پر اس حملے کے ذریعے نہ صرف اپنے ملک کو بلکہ اپنے ملک میں موجود 20لاکھ شامی پناہ گزینوں کو بھی محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی