جدہ کی ساحلی حدود میں ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے پر سعودی عرب بھی میدان میں آگیا، واضح موقف دیدیا

جدہ کی ساحلی حدود میں ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے پر سعودی عرب بھی ...
جدہ کی ساحلی حدود میں ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے پر سعودی عرب بھی میدان میں آگیا، واضح موقف دیدیا

  



ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں سعودی عرب کی سمندری حدود میں جدہ کے ساحل سے محض 60میل کے فاصلے پر ایک ایرانی آئل ٹینکر کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اب اس معاملے پر سعودی عرب کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ہم اس ایرانی آئل ٹینکر کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے تیار تھے مگر آئل ٹینکر کے عملے نے جہاز کا ٹریکنگ سسٹم ہی بند کر دیا جس کے باعث ہم اس کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔

آفیشل سعودی پریس ایجنسی نے بارڈر گارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ”ایرانی آئل ٹینکر کے کپتان کی طرف سے ایک ای میل سعودی بارڈر گارڈز کو موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ جہاز کے اگلے حصے میں دو دھماکے ہوئے ہیں اور وہ حصہ تباہ ہو گیا ہے جس سے تیل سمندر میں گرنا شروع ہو گیا ہے۔سعودی کوارڈی نیشن سنٹر نے اس اطلاع کا جائزہ لیا اور ضروری امداد پہنچانے کی تیاری کی لیکن تب تک جہاز نے سنٹر کی کالز کا جواب دیئے بغیر اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر لیا۔

اس معاملے پر ایران کی طرف سے بھی ایک اپ ڈیٹ آئی ہے۔ عالمی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ اس ایرانی بحری جہاز پر حملہ سعودی سرزمین سے کیا گیا۔ نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی نے ان خبروں کی یکسر تردید کر دی ہے۔ متاثرہ آل ٹینکر اس کمپنی کی ملکیت تھا۔ کمپنی نے کہا ہے کہ ”جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ۔“دوسری طرف سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ”آئل ٹینکر پر حملے کے ذمہ داروں کا پتا چلا لیا گیا ہے اور ہم اس واقعے کو یونہی فراموش نہیں کر دیں گے۔“

مزید : عرب دنیا