دبئی کے بارے میں وہ مشہور باتیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

دبئی کے بارے میں وہ مشہور باتیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
دبئی کے بارے میں وہ مشہور باتیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

  



دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی نے حالیہ چند دہائیوں میں بے مثال ترقی کی اور دنیا کا معاشی حب بن گیا تاہم دنیا میں اس شہر کے متعلق کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ دبئی ایک ملک ہے۔ دبئی دراصل متحدہ عرب امارات کی 7امارات میں سے ایک ہے۔ لوگ دبئی کو متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت بھی خیال کرتے ہیں جو حقیقت میں ابوظہبی ہے۔ دبئی کے بارے میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ یہ تیل کی دولت سے مالامال امارت ہے مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ دبئی کی معیشت کا دارومدار تیل پر نہیں بلکہ رئیل اسٹیٹ، ٹورازم اور فنانس پر ہے۔

دبئی کے بارے میںایک یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ یہ ایک غیرمستحکم امارت ہے۔ حالانکہ دبئی میں 3ہزار میگاواٹ کا سولر پارک بنایا گیا ہے اور اس سمیت دیگر کئی ایسے بڑے بڑے منصوبے ہیں جو کئی بڑے ممالک کے پاس بھی نہیں ہیں۔ دبئی کے متعلق یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اپنا کوئی کلچر اور ثقافت نہیں ہے، وہاں بس چمک دمک اور گلیمر ہی ہے حالانکہ دبئی اپنی قدیم ترین روایات کا امین ہے۔ اس کا اپنی ایک ثقافت بھی ہے۔ دبئی اوپرا سے بے شمار آرٹ گیلریز تک اس ثقافت کے مظاہر موجود ہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں۔

دبئی کے بارے دیگر کی افواہیں بھی ہیں کہ یہ دوسروں کے اعتقاد کے متعلق عدم برداشت رکھتا ہے۔ وہاں کے قوانین انتہائی سخت بلکہ ڈریکونین ہیں۔ وہاں ورکرز کی فلاح کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ وہاں خواتین بااختیار نہیں ہیں۔ وہاں ہر چیز درآمد کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام افواہیں ہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید : عرب دنیا