میری کامیابیوں میں محنت اور ماں کی دعائیں شامل ہیں 

میری کامیابیوں میں محنت اور ماں کی دعائیں شامل ہیں 

  

پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما سونیا خان کہتی ہیں!

پاکستان پیپلزپارٹی کی متاع

سونیا خان

سیاست کے کھیت میں زعفران بونے والی خاتون

ناصرہ عتیق

بچہ ذہین ہو تو اپنی ذہانت کو والدین سے ملنے والی موروثی لیاقت سے مزید نکھارتا ہے۔ ذاتی علم، مشاہدے اور تجربے سے معاملات کو بہتر صورت دیتا ہے اور اپنے ماں باپ کے لئے ستائش اور اپنے لئے تعریف و توصیف سمیٹتا ہے۔ اس حقیقت کا احساس سونیا خان سے ملنے کے بعد بخوبی ہوتا ہے۔ سونیا خان پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے لاہور شہر کی جنرل سیکرٹری ہے اور اپنی پرکشش شخصیت کے ساتھ اپنے عہدے سے عہدا برآ ہو رہی ہے۔ 

پاکستان میں سیاست ایک دقیق شغل ہے۔ سیاست کے میدان خار زار میں خود کو کانٹوں سے بچانا اور اپنے لوگوں کو بھی حفاظت سے ان کی منزل تک پہنچانا ایک مشکل کام ہے۔ وہی شخص اس امتحان میں سرخرو رہتا ہے جو رزق حلال پر یقین رکھتا ہے، اپنے کردار کو دنیاوی الائشوں سے پاک رکھتا ہے، سچائی کی سیدھی راہ پر چلتا ہے اور لوگوں کی بہتری کے لئے خلوص نیت سے کوشش کرتا ہے۔ سونیا خان سے جب بھی میں ملی ہوں، جب بھی میرا واسطہ اس سے پڑا ہے، میں نے اسے ہمیشہ پر خلوص، بناوٹ سے دور اور منفی سیاست کی کثافت سے پاک پایا ہے۔

 سونیا خان کی والدہ آپا شمیم نیازی پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک دبنگ کارکن ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو شہید  اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی منظور نظر خواتین میں سے ایک ہیں۔ آپا شمیم نیازی با رعب شخصیت کی مالکہ ہیں، کھری بات کرنے اور اپنے فائدے پر غریب لوگوں کے مفاد کو ترجیح دینے والی خاتون ہیں۔ سونیا نے اپنی والدہ کے سبھی اوصاف اپنی ذات میں سمو لئے ہیں۔

سونیا خان پیپلزپارٹی کے اہم کارکنان میں شامل ہیں اور آنے والے وقت میں سیاست کا روشن ستارہ ہوں گی۔بلاول بھٹو زرداری سونیا خان کی طرز سیاست سے مطمئن ہیں، سونیا خان کا کہنا ہے کے پاکستان پیپلزپارٹی غریبوں کی نمائندہ جماعت ہے اور وہ گھر گھر جا کر غریبوں کے مسائل کے حوالے سے آگاہی حاصل کر کے ان کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ سونیا خان نے کہا کے میری خواہش ہے کہ میں مستقبل میں پیپلزپارٹی کے اہم کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کروں، میری کامیابیوں کے پیچھے میری ماں کی دعائیں اور محنت شامل ہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں پارٹی کی سینئر رہنما ثمینہ گل کے زیر سایہ کام کر رہی ہوں۔

پاکستان میں دیکھا جائے تو سیاست جاگیروں، زمینوں اور صنعتوں پر پنپتی ہے۔ ان لوگوں کا سیاست میں ورود ممکن نہیں ہے جو تہی دامن اور خالی  ہاتھ ہیں۔ خواتین کے لئے سیاست ویسے بھی کارِ وارد ہے۔ سیاست کے جھمیلوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں اور نجی تعلق داریاں یقیناً متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم خواتین کا سیاست کے  میدان میں اترنا یوں بھی ضروری ہے کہ ہمارے ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ خواتین ایک بڑی طاقت ہیں خوشی کا مقام ہے کہ خواتین وطن کے ہر شعبے اور ادارے میں اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ خواتین قابل ذکر و تعریف ہیں جو اس ارادے سے، سیاست کے میدان میں اتری ہیں کہ وطن عزیز سے جہالت، کم علمی، جھوٹ، مکرو فریب، سماجی استحصال اور ناہمواری کو دور کیا جائے اور مل کے عوام کی بہتری، فلاح اور ان کے لئے امن و سکون کی فراہمی کے لئے سعی کی جائے۔

 سونیا خان مضبوط ارادے رکھتی ہے۔ بات کرنے اور بات منوانے کا ڈھنگ جانتی ہے۔ وہ ایک ایسے شجر کے سائے تلے پلی بڑھی ہے جس نے اسے سکون، راحت اور شفقت سے بھر دیا ہے۔ سونیا سیاست کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد سے لاتعلق ہے۔ وہ ایک سیلف میڈ خاتون ہے۔ لباس کی تراش خراش اور لباس کی جدید رجحانات سے ہم آہنگی اور اس کی مانگ اور تقاضوں سے بخوبی آشنا ہے۔ لہٰذا وہ کامیابی سے بوتیک چلا رہی ہے۔ اپنی ذہنی اُپج سے اپنی نگرانی میں وہ پرکشش لباس تیار کراتی ہے جو مقبول ہوتے اور فوری خریدے جاتے ہیں۔

 سونیا خان جمالیاتی حس سے بہ احسن و خوبی بہرہ ور ہے۔ جمالیاتی حس نے اسے نرم دل بنا دیا ہے۔ سیاست کی ناپسندیدہ روشوں پر کڑھتی ہے۔ وہ اپنی خواتین اور عوام کے لئے پائیدار اور اچھائیوں والے کام کرنے کا عزم صمیم رکھتی ہے۔ وہ ان قربانیوں کو تازہ رکھنا چاہتی ہے جنہیں اس کی والدہ نے سونیا کی یادداشت کا حصہ بنا دیا ہے۔

 سونیا خان شہید بے نظیر بھٹو کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں۔ وہ خوش ہے کہ دنیائے سیاست کی ایک  عظیم المرتبت شخصیت سے اس کا ناطہ ہے۔ شہید محترمہ کی طرح وہ ان تھک محنت کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ محنت اور قربانیوں کے بغیر آسانیوں کا حصول ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنی  جماعت کے رہنماؤں پر اعتماد کرتی ہے۔ نا امیدی وہ اپنے پاس آنے نہیں دیتی۔ اپنے ہنر اور اپنے کاروبار کو وہ سیاست سے دور رکھتی ہے۔ فیشن کی دنیا کی سونیا خان اس سونیا خان سے بہت مختلف ہے جو سیاست کے کھیت میں زعفران کی کاشت کا عزم رکھتی ہے۔

میں سونیا خان سے جب ملتی ہوں تو اپنے اندر ایک نیا حوصلہ پاتی ہوں۔ زندگی کی دوڑ میں یہ خاتون کسی بھروسے سے بھاگ رہی ہے۔ تاہم اس کے بھاگنے میں بھی ایک تمکنت ہے۔ سونیا سیاست میں نفیس اقدار کی متمنی ہے۔ وہ لوٹ کھسوٹ، منافقت اور جھوٹ سے نفرت کرتی ہے۔ رب کریم پر اس کا ایمان غیر متزلزل ہے۔ اس حقیقت پر اس کا یقین ہے کہ جو کچھ اس کی قسمت میں ہے،اسے ضرور ملے گا چاہے لوگ نہ چاہیں اور جو اس کی قسمت میں نہیں ہے وہ نہیں ملے گا خواہ سب لوگ چاہیں کہ مجھے ملے۔ سونیا ہمیشہ شکر ادا کرتی ہے رب رحیم کے احسانات کا اور اس کی ذات بے ہمتا سے ہمیشہ بھلے کی امید رکھتی ہے۔ اسے یہ بھی امید ہے اگلے الیکشن میں بلاول بھٹو ہی کامیاب ہوں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -