چھاتی کا سرطان!  

چھاتی کا سرطان!  

  

اسی موذی مرض کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 40ہزار خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں 

خواتین بریسٹ کینسر سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟

اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کی جانب سے سا لانہ بریسٹ کینسر آگاہی مہم کا آغازیکم اکتوبر کو ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور کیبنٹ ڈویژن کوگلابی روشنیوں سے سجانے سے کیا گیا۔ یہ تمام عمارتیں تین دن تک گلابی رنگ کی روشنیوں سے سجی رہیں تا کہ پاکستان کے عوام تک اس عمل کے ذریعے بریسٹ کینسر جیسی موذی بیماری کے بارے میں آگاہی کا پیغام پہنچ سکے۔ اسی مہم کے تحت اکتوبر کی 15 تاریخ کو شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے مینار پاکستان کو گلابی روشنیوں سے سجایا جائے گااوراکتوبر کی ستائیس تاریخ کو ہسپتال میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں خاتون اول مس ثمینہ علوی خصوصی طور پر شرکت کریں گی۔  ان تقریبات کے علاوہ اس مہم کے دوران ملک کے تما م بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گجرات، جہلم، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، ملتان، بہاولپوراور حیدر آباد کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات اور سرکاری و نجی کارپوریٹ اداروں کی خواتین کیلئے ہسپتال کے سینئراونکالوجسٹس کی زیر نگرانی خصوصی آن لا ئن سیشنز کا انعقاد کیاجارہا  اور بریسٹ کینسرکی وجوہات، علامات، اس سے بچاؤ کے طریقوں، اس کی تشخیص اور علاج کے بارے میں آگہی فراہم کی جائے گی۔ اس دوران شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کاموبائل میموگرافی یونٹ کالجز اور یونیورسٹیز کا دورہ کر کے خواتین کو مفت میمو گرافی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔  شوکت خانم ہسپتال گزشتہ دو دہائیوں سے بریسٹ کینسر کی تشخیص و علاج کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے آگاہی کے لیے کام کر رہاہے۔

 بریسٹ کینسر دنیا بھر کی خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والاکینسر ہے اورپاکستان میں تقریباًہر 9میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی مرض کی وجہ سے ہمارے ملک میں ہر سال 40,000خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ بر وقت تشخیص اور علاج سے اس تعداد میں 90فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جو صرف آگہی سے ہی ممکن ہے۔چھاتی کے سرطان کی تشخیص سب سے آسان اور علاج میں کامیابی کی سطح سب سے زیادہ ہے۔  اگر اس کی تشخیص بیماری کے پھیلنے سے قبل ہو جائے تو علاج سے 100فیصد تک خواتین کی جان بچانا ممکن ہے۔البتہ بیماری کی پہلی سٹیج میں تشخیص کے بعد 98فیصداور دوسری سٹیج میں  88 فیصدخواتین کی جان آسانی سے بچانا ممکن ہوتا ہے۔ جبکہ تیسری سٹیج پر یہ تناسب 52 تک اور آخری یعنی چوتھی سٹیج پر پہنچنے کے بعد 16فیصد تک رہ جاتا ہے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ خواتین میں چھاتی کے سرطان کے امکانات بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ حیض(Periods) کے شرو ع ہونے کے بعد سے یہ خطرہ پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بچپن میں حیض کا 12سال کی عمر سے قبل آنا،یا 50سال کی عمر کے بعد ختم ہونا، دیر سے شادی ہونا اور 30سال کی عمر کے بعد بچوں کی پیدائش کا شروع کرنا، بانجھ پن کی صورت میں بچوں کا پیدا نہ ہونا، یا اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہ پلانا بھی چھاتی کے سرطان کے امکانات کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں۔ سرطا ن کی قابلِ تصحیح وجوہات میں ایسے عوامل شامل ہیں جن پر عمل کرکے بریسٹ کینسر کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنا اور وزن کو قد کے تناسب سے رکھنا بہت ضروری ہے۔ چھاتی کے سرطان میں مبتلا افراد کو اپنا وزن کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے بیماری کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی اور الکوحل (شراب) سے بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نسوانی ہارمون یاکھانے والی مانع حمل ادویات کا زیادہ عرصے تک استعمال نہ کریں، خاص طور پر وہ خواتین جن کے خاندان میں پہلے کسی کو بریسٹ یا رحم کا کینسر ہوچکاہو۔ اچھی خوراک جسم کو صحت مند رکھ کر اس کی قوت ِ مدافعت بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔جسم میں قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے تازہ سبزیوں، پھلوں خشک میوہ جات اور مچھلی وغیرہ کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں۔  چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص کے لیے  20سال سے کم عمر کی تمام خواتین اپنا معائنہ خود کرنا سیکھیں اور ہر ماہ  پیریڈز کے 5سے 7دن بعد باقاعدگی سے یہ عمل جاری رکھیں۔ 40سال سے کم عمر خواتین  بالخصوص اپنا دودھ پلانے والی مائیں دودھ پلانے کے بعد اور دودھ ترک کروا دینے کے بعد اپنا معائنہ باقاعدگی سے کرتی رہیں جبکہ 40سال سے زائد عمر کی خواتین ہر دو سال بعد میموگرافی کروائیں اور کنسلٹنٹ سے چیک بھی کروائیں جبکہ جن خواتین کے خاندان میں یہ بیماری موجود ہو وہ سالانہ چیک کروائیں۔ بروقت تشخیص سے اس بیماری کا علاج آسان ہو جاتا ہے۔  خود سے معائنے کے لیے اپنے ہاتھ کی درمیانی تین انگلیوں کی پہلی پوروں سے چھاتی کے اطراف چھو کر اپنا معائنہ کریں۔اسکے لئے ممکنہ حصے پر دائرے میں، اوپر نیچے، دائیں بائیں اور ہلکا دبا کر اپنا جائزہ لیتے رہیں۔ اس سرطان کی طبی سطح پر تشخیص کے لئے سب سے موثر طریقہ میموگرام مشین کے ذریعے میموگرافی کروانا ہے۔ تشخیص کی صورت میں علاج میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اسکے علاج میں آپریشن، کیموتھراپی ریڈییشن اور ہارمونز تھراپی شامل ہیں۔

چھاتی کے سرطان کی چند علامات یہ ہیں کہ آپ کو اپنی چھاتی یا بغلوں کے پاس کسی قسم کی غیر قدرتی تبدیلیاں محسوس ہونا شروع ہوں۔چھاتی کے گرد دودھ کی باریک نالیوں اور ان نالیوں سے جُڑی بافتوں میں ہلکی سختی اور سوزش کا مستقل رہنا شروع ہونا ایک علامت ہو سکتی ہے۔ہر دوسرا  لمپ یا بافت یا بریک نالیوں کی سوزش سرطان کے امکان کی طرف اشارہ نہیں ہوتی البتہ ایسی کسی بھی صورتحال کا فوری جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔لمپ یا سوز ش کے علاوہ جلد میں کسی قسم کے گڑھے پڑنا یا جلد کا سکڑنا، مخصوص حصے کے رنگ میں باقی جسم کی نسبت رنگ میں تبدیلی آنا، نپل کا یکسر اندر کو دھنس جانا یا اس سے خون یا بے رنگ مواد کا ازخود نکلنا وغیرہ چھاتی کے سرطان کے امکانات کو ظاہر کرتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے مختلف مغالطے پائے جاتے ہیں اور لاعلمی کا شکار جہاں ناخواندہ لوگ ہیں،وہیں پڑھے لکھے لوگ بھی انہی مغالطوں کا شکار ہیں۔ایسے ہی چند غلط مفروضوں میں چائے یا کافی کے استعمال، موبائل فون یا مائکروویو کے استعمال،خوشبوعات یا مخصوص رنگ کے کپڑوں کا استعمال یہاں تک کہ سرطان کے مریضوں سے میل جول ہونے تک کو کینسر کے پھیلنے سے مربوط کیا جاتا ہے۔  

آج جتنی سرعت کے ساتھ سرطان کا مرض پاکستان میں پھیل رہا ہے، اسکی ایک اہم وجہ اس مرض کے متعلق معلومات کا فقدان ہے۔ہمارے عوام نہ تو اس مرض کی وجوہات سے مکمل طور پر آشنا ہیں، نہ اس کی پہچان اور علاج سے۔  علاج کے ساتھ ساتھ شوکت خانم ہسپتال کینسر کی تشخیص و علاج کے حوالے سے آگاہی پھیلا نے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کینسر کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کے بارے میں آگاہی سے مجموعی طور پر ملک کے ہیلتھ سیکٹر پر بوجھ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کی جانب سے بریسٹ کینسر کے بارے میں ملک گیر آگاہی کمپین چلائی جا رہی ہے۔شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے لاکھوں خواتین کو براہ راست آ گاہی دی گئی ہے۔ سمینارز کے علاوہ شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے اخبارات، ٹیلیویژن اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ملک بھر میں لاکھوں افراد تک اس بیماری کے حوالے سے درست معلومات پہنچائی جاتی ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کی اس کمپین کی وجہ سے ماضی قریب میں taboo  سمجھی جانے والی اس بیماری  کے حوالے سے لوگوں کی سوچ میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔چھاتی کا سرطان جو سرطان کی سب سے بڑھتی ہوئی قسم بن کر سامنے آ رہا ہے، اس کا سب سے بڑا نشانہ ہمارے معاشرے کی خواتین بن رہی ہیں کیونکہ ہماری معاشرتی تربیت کی وجہ سے اس بیماری سے متعلق ہر بات کو پردے میں رکھنے کی عادت اس بیماری کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ایسے میں معاشرے کے ہر فرد پر بلا تفریق جِنس یہ بات فرض ہو جاتی ہے کہ وہ چھاتی کے سرطان سے متعلق معلومات کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرے،کیونکہ ہر 9 میں وہ 1عورت شائد آپ کے بہت قریب بھی ہو سکتی ہے۔ 

  

مزید :

ایڈیشن 1 -