مہنگائی محض خواہشات سے کنٹرول نہ ہوگی؟

مہنگائی محض خواہشات سے کنٹرول نہ ہوگی؟

  

وزیراعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو جانچنے کا ہدف ٹائیگر فورس کو دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز وہ کنونشن سنٹر (اسلام آباد) میں ٹائیگر فورس سے ملیں گے تب تک ہمارے رضاکار اپنے قرب و جوار میں باقاعدگی سے دال، آٹا، چینی اور گھی کی قیمتیں معلوم کریں اور انہیں ٹائیگرفورس کے پورٹل پر ڈالیں ……ایک طرف حکومت کا یہ اقدام ہے اور دوسری جانب ملک بھر میں عام استعمال کی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں اور اضافے کا یہ رجحان تیز رفتاری سے جاری ہے، آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے حکومت کے مقررکردہ نرخوں پر آٹا دستیاب نہیں جس کی وجہ سے نان بائی روٹی کی قیمت دس روپے کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا کے مطابق پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں درآمدی گندم ختم ہو گئی ہے، کین کمشنر پنجاب زمان وٹو نے کہا کہ یوکرائن سے آنے والی گندم کے پہلے دو جہاز خیبرپختونخوا کو دینے کا حکم دیا گیا ہے۔تیسرے جہاز کے ذریعے آنے والی گندم پاسکو کے حوالے کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 4½ لاکھ ٹن گندم مانگی گئی تھی جبکہ پنجاب کی حکومت نے 7لاکھ ٹن گندم کی ڈیمانڈ کر رکھی ہے۔ پشاور میں شہری سرکاری نرخوں پر ملنے والا آٹا مخصوص ڈیلروں سے طویل قطاروں میں لگ کر خریدتے ہیں اور اس کے لئے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کروائی جاتی ہے، 20کلو کے تھیلے کا سرکاری نرخ 860 روپے ہے جبکہ دکاندار یہ تھیلا 1320روپے میں فروخت کررہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف 10سے 15روپے فی تھیلا منافع کماتے ہیں۔آٹے سمیت ہر چیز مہنگی مل رہی ہے سستے بازاروں میں بھی کوئی چیز سستی نہیں رہی۔ دکان داروں نے سرکاری ریٹ لسٹ ہوا میں اڑا دی ہے۔ یوٹیلٹی سٹوروں سے چینی بھی غائب ہو گئی ہے۔ انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے سامنے بے بس ہو گئی ہے۔

ٹائیگر، مہنگائی کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں یا مسئلے کی سنگینی میں اور زیادہ اضافے کا باعث بن جاتے ہیں یہ تو اس وقت معلوم ہوگا جب ان کا کردار متعین شکل میں سامنے آئے گا اور یہ پتہ چلے گا کہ حکومت ان سے کس طرح کام لینا چاہتی ہے اور وہ سرکاری ہدایات پر کیسے عمل درآمد کراتے ہیں۔ یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ ایک نجی فورس جو کسی قانونی چھتری تلے قائم نہیں ہوئی کس طرح دکانداروں پر حکم چلا سکے گی اور ان سے مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد کرا سکے گی جبکہ متعلقہ سرکاری ادارے بھی جنہیں ہر طرح کے قانونی اختیارات بھی ہیں،بظاہر اس میں کامیاب نہیں ہو سکے، یہ صرف معاملے کا ایک پہلو ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو چیز مارکیٹ میں طلب کے مطابق اور مقررہ نرخوں پر دستیاب ہی نہیں، اور جس کی سپلائی ڈیمانڈ کے مقابلے میں کم ہے اس کی طلب کے مطابق سپلائی کا اہتمام کیسے ہوگا؟ آٹے کی مہنگائی ہی کو لے لیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مل مالکان کا موقف ہے کہ انہیں ضرورت کے مطابق مقررہ نرخوں پر گندم نہیں مل رہی، اس لئے وہ مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر آٹا بناتے ہیں اب ظاہر ہے جو چیز مہنگی خریدی جائے گی وہ ویلیو ایڈیشن کے بعد سستے داموں کیسے مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کی جائے گی؟ آٹے کے علاوہ دوسری اشیائے خوراک پر بھی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں حکومت جو نرخ مقرر کرتی ہے وہ زمین پر موجود حقیقتوں کو پیش نظر رکھ کر مقرر نہیں کئے جاتے، مثال کے طور پر چھوٹے گوشت کے جو نرخ سرکار نے مقرر کر رکھے ہیں کوئی بتائے کہ ان نرخوں پر یہ گوشت کہاں دستیاب ہے؟ اسی طرح انتظامیہ نے دالوں،چاول وغیرہ کے جو نرخ مقرر کئے ہوئے ہیں ان پر بھی یہ اشیاء دستیاب نہیں، محض خانہ پُری کے لئے بڑے گراسری سٹوروں پر ایک ”ڈی سی کاؤنٹر“ بنا دیا جاتا ہے جہاں ایک میز پر دالیں، چاول وغیرہ رکھ دیئے جاتے ہیں، اندھوں کو بھی ان کی کوالٹی نظر آتی ہے اب یا تو گاہک سرکاری نرخ پر یہ ناقص دالیں خرید لے یا پھر زیادہ نرخوں پر بہتر، صاف ستھری اور چن کر پیک کی ہوئی دالیں خریدے اور پھر بھی محسوس کرے کہ اس نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا، سبزیوں، پھلوں وغیرہ کا تو ذکر ہی کیا، ان کی قیمتوں کا تعین تو ہو ہی نہیں سکتا ان کا حل یہی ہے کہ گاہک بائیکاٹ کریں اور دکانداروں کو مجبور کریں کہ وہ جائز منافع پر ہی یہ اشیاء فروخت کریں، کوئی انتظامیہ کا بندہ ان پھل سبزی فروشوں کو مجبور نہیں کر سکتا کیونکہ جو بھی ان ریڑھیوں وغیرہ پر جائے گا وہ ایک کلو پھل اور ایک دو کلو سبزی لے کر مطمئن ہو کر آ جائے گا اور اپنے افسروں کو سب اچھا کی رپورٹ کر دے گا، ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ یہ ٹائیگر اس کلچر میں کیا تبدیلی لاتے ہیں وہ بھی دیہاڑیاں لگاتے ہیں یا کسی ”صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر“ قیمتوں کو کنٹرول رکھنے میں اپنی توانائیاں اور وقت صرف کرتے ہیں وہ سرکاری ملازمین جنہیں ایسے فرائض کی باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے اگر ناکام ہو گئے ہیں تو”رضاکارانہ“ طور پر خدمات انجام دینے والے کیسے کامیاب ہوں گے؟

بعض بنیادی اشیاء اور سروسز ایسی ہیں جن کے نرخ حکومت خود بڑھاتی ہے۔ بجلی کے نرخ حکومت بڑھاتی ہے، گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کرتی ہے، پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات میں رد و بدل حکومت کرتی ہے گندم کی امدادی قیمت حکومت مقرر کرتی ہے، گنے کے نرخ حکومت مقرر کرتی ہے،آٹے کے نرخ حکومت مقرر کرتی ہے، پانی کی سپلائی کے نرخ حکومت کے اپنے ادارے بڑھاتے ہیں۔ جب یہ سارے ادارے نرخ بڑھاتے چلے جائیں گے تو کون سی چیز ہے جو مہنگی نہیں ہوگی۔ بجلی سے چلنے والی ملوں میں جو آٹا تیار ہوتا ہے، جب بجلی مہنگی ہو گی تو وہ سستا کیسے رہے گا، جو صنعتیں گیس سے چلتی ہیں جب گیس کے نرخ بڑھیں گے تو ان میں تیار ہونے والی  مصنوعات کس طرح سستی ہوں گی جب آٹا مہنگا ملے گا تو روٹی کیسے سستی ہوگی، بیکریوں کی مصنوعات کیوں کر سستی ہوں گی؟ چینی مہنگی ہو گی تو مٹھائی کیسے سستی بکے گی؟ پٹرول مہنگا ہوگا تو سینکڑوں میل دور سے شہروں میں آنے والے پھل اور سبزیاں کیسے سستی ہوں گی؟غرض یہ مہنگائی کا ایک سائیکل ہے جسے حکمت اور تدبر سے چلایا جائے تو کہیں جا کر اس کے مثبت اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں جن معاشروں میں بنیادی اشیا کی قیمتیں مستحکم  ہیں اور سال ہا سال سے ان میں اضافہ نہیں ہوا یا بہت معمولی ہوا ہے،کوئی ان کی حکومتوں سے جا کر پوچھے کہ کیا انہوں نے قیمتوں کو کنٹرول رکھنے کے لئے کوئی ٹائیگر فورس بنائی ہوئی ہے؟ یا مارکیٹ میکنزم کو اس حد تک منتظم و مستحکم کر دیا ہے کہ کوئی چیز راتوں رات مہنگی نہیں ہوتی ہے، مہنگائی کے پراسیس کو عقل و دانش کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، سطحی جذباتیت سے مہنگائی کبھی کنٹرول ہوئی ہے نہ اب ہو گی؟

مزید :

رائے -اداریہ -