بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی، واقعات بڑھ گئے!

بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی، واقعات بڑھ گئے!

  

پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1305واقعات رپورٹ ہوئے، ان میں 883بچے اور 441بچیاں شامل ہیں، بداخلاقی کے بعد قتل کئے جانے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد 71ہے، جبکہ ہسپتال میں داخل زخمی 73تھے اکثر مقدمات میں ملزم تلاش بھی نہیں کئے جا سکے۔ آج ہی یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ پنڈی بھٹیاں میں ایک بچی کے ساتھ بداخلاقی ہوئی اور وزیراعلیٰ نے اس کا نوٹس لیا ہے، جبکہ کے پی کے میں دردناک واردات ہوئی، اس میں ڈھائی سالہ بچی زینب زیادتی کے بعد قتل کی گئی۔ یاد رہے کہ تقریباً تین سال قبل قصور کی 8سالہ زینب کو بھی اسی طرح قتل کیا گیا اور میڈیا کی طرف سے زور لگانے پر ملزم گرفتار ہو کر موت کی سزا پا چکا۔پنجاب میں ایک ہزار تین سو سے زائد رپورٹ ہونے والے یہ سانحات اس معاشرے کے منہ پر کالک سے بھی کچھ زیادہ ہی لگا رہے ہیں اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اب بچے،بچیاں کسی جگہ محفوظ نہیں، یہ تعداد تو وہ ہے جو پولیس کے پاس شکائت درج کرانے یا پولیس کی طرف سے درج ہونے والی ہے، جو افراد شرم اور غیرت کے حوالے سے پولیس تک نہیں آتے وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ان وارداتوں اور سانحات پر ہر درد مند کے آنسو نکل آتے ہیں اور اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی جنگل میں رہ رہے ہیں۔ جہاں کا قانون بھی جانوروں والا ہے۔ دکھ یہ بھی ہے کہ ان واقعات کو معمول کے جرائم کی طرح لیا جا رہا ہے حالانکہ یہ بھی لازم ہے کہ معاشرے کی اس بدکرداری کے اسباب پر بھی توجہ دی جائے اور یہ عوامی مطالبہ بھی جائز ہے کہ قوانین میں مطلوبہ ترامیم کرکے ایسے درندوں کے لئے ایسی سخت سزائیں مقرر کی جائیں جو نشان عبرت بنیں، پولیس پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کاہلی، لاپرواہی اور سستی سے گریز کرے اور شکائت کا نہ صرف نوٹس لے بلکہ پوری تندہی سے ملزم پکڑ کر ان کو نشان عبرت بنایا جائے۔ حالت یہ ہے کہ تاحال موٹروے سانحہ کا مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔

مزید :

رائے -اداریہ -