افغان عوام کی آزادی کا سورج اور امریکی صدر 

افغان عوام کی آزادی کا سورج اور امریکی صدر 
 افغان عوام کی آزادی کا سورج اور امریکی صدر 

  

لیجئے معزز قارئین! اہل مغرب اور یورپ کے لمحہئ موجود کے مرشد اعظم دنیا کی سب سے طاقتور ریاست امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ دو اڑھائی ماہ یعنی دسمبر میں دنیائے عیسائیت کے سب سے بڑے تہوار کرسمس تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا پیغام اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں دے دیا ہے۔ یہ پیغام یا اعلان اگرچہ خوش آئند ہے لیکن ماضی کے تجربات اور مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیشرو رہنما ؤں کی امریکی پالیسیوں بالخصوص افغانستان کے حوالے سے ان کی کہ مکرنیوں کے پیش نظر ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ واقعی سال 2021 کے آغاز  پر طلوع ہونے والا سورج  ہی اپنے دامن میں حقیقی اور صحیح تر معنوں میں آزادی لے کر آئے گا۔ یہ اس لئے کہ ہر امریکی (مائیک پومپیو سمیت)ہمیشہ یہی کہتا چلا آیا ہے کہ واشنگٹن کو جانے والا راستہ کابل سے ہو کرجاتا ہے۔ بہر حال افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہمارا وطن عزیز گزشتہ بیس سالوں سے خود اس آگ کا ایندھن بنا رہاہے اور ہماری حالت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن یا پھر نیمے دوروں نیمے بروں کی سی ہو گئی تھی کیونکہ امریکی فوجوں کو پہنچائی جانے والی رسد اور کمک کا واحد راستہ اور ذریعہ پاکستان تھا۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد ہمیں جس قدر دیوار کے ساتھ لگایا جا سکتا تھا لگایا گیا۔ ہم سے سب کچھ کرنے کے باوجود ڈو مور کے تقاضے کی گردان رکنے میں نہ آتی تھی۔ ایک طرف سپر پاور کا دبا ؤ اور دوسری جانب اپنے افغان بھائیوں کے شکوے شکایات۔ تاہم وہ اپنے موقف اور رویے پر ڈٹے رہے۔

اگرچہ یہاں تک کہا گیا کہ طالبان کے دن گنے جا چکے ہیں یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان پر امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کو قریباً ایک ماہ ہوگیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکی حکمران یہ سوچ رہے تھے کہ اس سے اس کے مخالفین کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ نہ صرف ملا عمر اور اس کے اہل خانہ گرفت میں آ جائیں گے بلکہ نائن الیون کے واقعے کا اصل ذمہ دار اور مرکزی کردار اسامہ بن لادن بھی زندہ یا مردہ حالت میں امریکیوں کے ہاتھ لگ جائے گا لیکن ان کی یہ سوچ عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ امریکہ نے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل تو کر دیا۔ اس کا تورا بورا تو بنا دیا لیکن مقصد براری میں اسے کامیابی قطعاً حاصل نہ ہو سکی۔ امریکہ نے اپنے دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا بہانہ بنا کر افغانستان میں اپنی موجودگی مستقبل بعید تک موخر کر دی۔ ڈرون حملے کروز میزائل اور خوفناک بمباری معمول کی شکل اختیار کرتی رہی۔ پورا مغرب اور یورپ امریکی فوجوں کی پشت پناہی تو کر ہی رہا تھا خود وقت کے امریکی صدر مسٹربارک اوبامہ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کے لئے افغانستان جا کر ان سے خطاب کرتے رہے۔ مگر افغان عوام کی ہزاروں ہلاکتوں کے با وصف عالمی برادری کے ضمیر نے کوئی خلش محسوس نہ کی۔

اور بقول بھارتی سکالر محترمہ ارون دتی رائے راکھ کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کر لینے والا امریکہ اپنے تمام تر جبر، قہر، سائنسی ٹیکنالوجی کے باوجود کئی سال تک زخم چاٹتا رہا لیکن اسامہ ہاتھ نہ آیا۔ زیر نظر سطور میں، میں نے کوئی بہت بڑا تجزیہ پیش نہیں کیا بلکہ یہ امر واقعہ کا اظہار ہے۔ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کا ٹائم فریم دیا ہے۔ اس طرح کے اعلانا ت اور وعدے ہم ماضی کے امریکی حکمرانوں سے بھی سنتے چلے آرہے ہیں مگر یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یقین نہیں آ رہا۔ ہمارے یقین نہ کرنے کی ایک وجہ جمعرات کے روز امریکی صدر کا شائع ہونے والا بیان بھی ہے کہ میں اس بات کی کوئی ضمانت قطعاً نہیں دے سکتا کہ اپنی شکست کے بعدآسانی سے اقتدار کامیاب امیدوار کو منتقل کر دوں گا۔ واضح رہے کہ واشنگٹن میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ تین نومبر (اگلے ماہ) کو ہونے والے انتخابات میں اپنے سیاسی حریف مسٹر جو بائیڈن سے شکست کھانے کے بعد اقتدار کی منتقلی کیلئے کیا وہ پر عزم ہیں؟ اس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہنا مناسب سمجھا کہ امن تو بہت ہو گا مگر بے تکلفی سے کہوں تو منتقلی نہیں ہو گی اور جواز اور بہانہ انہوں نے یہ گھڑا کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی ہے۔ انہو ں نے یہاں تک کھل کر کہہ دیا کہ اگر میں ہار جاتا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے امریکیوں نے کثیر تعداد میں ووٹ نہیں دئیے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو گی۔ 

قارئین کرام! ا سی ایک تازہ واقعے سے اندازہ کریں کہ جو شخص اپنے ملک میں اپنے حریف سے ہار جانے کے باوجود اقتدار کی پر امن منتقلی پر یقین نہیں رکھتا وہ ایک ایسے ملک پر اپنی گرفت کمزور کرنے کا متحمل کس طرح ہو سکتا ہے۔ جہاں بیٹھ کر وہ اپنے حریف ممالک پر نظر رکھ سکتا ہے۔ وہ نہ تو اپنا اثر و رسوخ افغانستان میں کم ہوتے ہوئے دیکھنے کا مکلف اور روادار ہو گااور نہ ہی پاکستان میں کیونکہ یہ دونوں عظیم ممالک اپنے محل وقوع کے اعتبار سے امریکہ بلکہ دنیا بھر کے بااثر ممالک کے لئے اپنے اندر بہت سی کشش رکھتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت ثابت نہیں کہ امریکہ نے جہاں بھی اپنے پنجے گاڑے ہیں وہاں سے نکلا نہیں بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اپنی گرفت مضبوط ہی کی ہے۔ بقول ہمارے بزرگ سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی گردن پر اپنے پیشرو امریکی حکمرانوں کی طرح کسی مسلمان کا خون نہیں ہے۔ یہ بات درست بھی تسلیم کر لی جائے تو مسلمانوں کے بارے میں ان کا عمومی رویہ کبھی لائق رشک نہیں رہا اور کسی کی آزادی کو تا دیر سلب کئے رکھنا بھی قرینِ انصاف نہیں ہوتا کہ یہ بھی ایک طرح سے کسی کو موت سے ہمکنار کرنے کے ہم معنی طرز عمل ہی سمجھا جائے گا۔

کاش امریکی صدر سیاستدان نہیں، مدبر بنیں اور نہ صرف افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں اور افغان عوام کو اپنی طرف سے کرسمس کا تحفہ دیں بلکہ ہار جانے کی صورت میں پْرامن انتقالِ اقتدار کی راہ بھی ہموار کریں۔ کاش اے کاش!!!

مزید :

رائے -کالم -