!!ہمارے معاشرے کے تضادات (گزشتہ سے پیوستہ)

!!ہمارے معاشرے کے تضادات (گزشتہ سے پیوستہ)
 !!ہمارے معاشرے کے تضادات (گزشتہ سے پیوستہ)

  

ہمارے لوگوں نے اسلام کو داڑھی، نماز، روزہ اور حج تک ہی محدود کر رکھا ہے  حالانکہ اسلام ہمہ جہت ایک نظام ہے جو زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتا ہے۔ اور اس کا نفاذ ہمارے ہر عمل پر ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں ہر شعبہ ذاتی مفادات کا ذریعہ بنایا جاتا ہے وہاں اسلام کو بھی تجارت بنا لیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کے اس واضع فرمان“ میرے کلام کو سستے داموں نہ بیچو“، کے باوجود پوری دنیا میں اللہ کے کلام کو بیچا جا رہا ہے  پرانے وقتوں میں محلے کی مسجد کے مولوی صاحب بچوں کو ناظرہ یا حفظ کی صورت میں قرآن پاک پڑھاتے تھے۔ لیکن اس کا کوئی خاص معاوضہ نہیں لیتے تھے  سوائے اس کے کہ محلے کے لوگ خوشی سے مولوی صاحب کی خدمت کر دیتے اور اپنے بچوں کی قرآنی تعلیم مکمل ہونے پر مولوی صاحب کو کپڑے کا ایک سوٹ پیش کر دیتے۔ مگر اب تو ہر دوسرے بندے نے یہ کاروبار بنا لیا ہے۔ کوئی اپنے گھر بچوں کو معاوضے پر پڑھا رہا ہے تو کوئی بچوں کے گھر جا کر، اب تو وطن عزیز میں سب سے بڑا کاروبار آن لائن قرآنی تعلیم بن چکا ہے۔ لوگوں نے اپنی دکانوں کے نام مذہب کی نسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ کہیں مدنی سٹور ہے تو کہیں مکی، کوئی بسم اللہ ریسٹورنٹ ہے تو کہیں اللہ توکل بلڈنگ میٹریل سٹور ہے۔ جگہ جگہ خالص اسلامی شہد کا اشتہار ہے۔ 

ایک اور بڑا تضاد یہ ہے کہ،  ہر بندہ عاشق رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم ہونے کا دعویدار ہے لیکن ان کی تعلیمات کی پیروی کرنے میں صفر ہے۔ ایک سنت ہے داڑھی جو رکھی تو ہر دوسرے بندے نے ہے لیکن ہر بندے کا داڑھی رکھنے کا مقصد الگ الگ ہے  تاجر اس لیے رکھتے ہیں (سارے نہیں)کہ ایک تو ان کے مال میں برکت ہو، دوسرا گاہک ان پر اعتبار کرے، لیکن ہر طرح کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ ناجائز منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جعلی اور زائد المعیاد مال فروخت کرتے ہیں اور ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔ ڈرائیور اس لیے  داڑھی رکھتے ہیں کہ ان کو نیک سمجھ کر کام پر رکھ لیا جائے۔ کچھ لوگ معاشرے میں معتبر لگنے کے لیے بھی داڑھی رکھ لیتے ہیں تو کچھ اپنی بزرگی کا اعلان داڑھی رکھ کر کرتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ جو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہ داڑھی آتے ہی رکھ لیتے ہیں کیونکہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے کسی مسجد کو سنبھالنا ہوتا ہے  جس کے لیے داڑھی شرط ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو داڑھی صرف اور صرف سنت سمجھ کر رکھتے ہیں ان کو کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا ہے۔ ان کی پہچان ان کے کردار سے ہو جاتی ہے۔ 

لیکن اس حوالے سے جو بات میں لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ داڑھی ایک سنت ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ ہزاروں ایسی سنتیں ہیں جن کی پیروی کرنے سے معاشرہ ایک کامیاب اور مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ ان سنتوں پر زور کیوں نہیں دیا جاتا؟ جیسے کہ سچ بولنا بہت بڑی سنت ہے۔ اپنا کام ایمانداری سے کرنا، بچوں، بوڑھوں اور خواتین سے حسن سلوک سے پیش آنا، لین دین میں ایماندار ہونا، راستوں کو صاف رکھنا اور صاف کرنا، بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کرنا، اپنے کام خود کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا بھی سنت ہے۔ معاشرے میں جہاں بھی موقع ملے وہاں انصاف کرنا بھی سنت ہے۔ کم اور سادہ غذا کھانا بھی سنت ہے۔ راستہ چلتے یا سواری استعمال کرتے ہوئے دوسروں کا احترام کرنا بالخصوص پیدل چلنے والوں کی عزت کرنا اور دوسروں کو راستہ دینا بھی سنت ہے۔ صبر کرنا اور غصے پر قابو رکھنا بھی سنت ہے۔ اس کے علاوہ اتنی زیادہ سنتیں ہیں جن کا احاطہ کئی کالموں میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ 

یہ تو تھے چیدہ چیدہ مذہبی تضادات جبکہ وطن عزیز میں ان گنت سماجی، سیاسی اور قانونی تضادات ہمیں قدم قدم پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دلاتے ہیں۔ عوام کو پورے ملک میں سر درد کی گولی میسر نہیں ہے جبکہ اشرافیہ صرف اپنے چیک اپ کے لیے بھی یورپ یا امریکہ چلے جاتے ہیں۔ 

ہماری تمام سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت  ملک میں جمہوریت چاہتی ہے لیکن اپنی جماعتوں میں خود آمریت قائم کر رکھی ہے۔ نہ جماعتوں کی باقاعدہ ممبرشپ کرتے ہیں نہ جماعتی انتخابات کرواتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کرانا پسند کرتے ہیں نہ اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک جانے دیتے ہیں۔ 

عام لوگ اپنی بیٹی کے لیے سسرال سے سارے حقوق لینا چاہتے ہیں۔ مگر اپنی بہو کو تمام حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ ہر بندہ قوانین پر عملدرآمد چاہتا ہے اور ملک میں امن و امان کا خواہاں ہے لیکن خود کسی قانون کی پابندی اپنی توہین سمجھتا ہے۔ 

ہر بندہ چھاؤں چاہتا ہے۔ لیکن درخت کبھی نہیں لگاتا۔ ہر بندہ ملک میں مہنگائی سے نجات چاہتا ہے لیکن اپنی چیز کی زیادہ سے زیادہ قیمت بھی لینا چاہتا ہے اور ذخیرہ اندوزی سے بھی باز نہیں آتا۔ جو لوگ اس ملک میں قانون بناتے ہیں۔ وہی قوانین کی دھجیاں بھی بکھیرتے ہیں۔ ہر ادارہ یہ چاہتا ہے کہ ان کے کام کے اندر کوئی دوسرا مداخلت نہ کرے لیکن خود ہر دوسرے ادارے میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ 

راقم نے معاشرے کے چند تضادات کو تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں تضادات ہیں، ہمارا معاشرہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ 

میرا مشورہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے کردار پر غور کریں۔ خود کو ملکی قانون کا پابند بنائیں اور صرف ثواب کی خاطر نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -