میرے والد، ایک تاریخ ساز شخص(2)

میرے والد، ایک تاریخ ساز شخص(2)
 میرے والد، ایک تاریخ ساز شخص(2)

  

آپ کے قریبی ساتھی اور شاگرد شہید احمد جان غزنوی نے ان سے عرض کیا آپ نے پہلے کہا کہ دنیا والوں نے مجھے بادشاہت کی پیشکش کی، یہ کیا ماجرا ہے اس کی تفصیل ذرا بتا دیں۔ والد صاحب نے کہا جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے معروف شخصیات کے ساتھ رابطے کئے۔ ہمیں بھی مختلف واسطوں سے پیغامات بھیجے۔ ہم نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن جب میں آخری مرتبہ بحیثیت وزیر برائے سرحدات، ایک وفد کے ساتھ پاکستان گیا، وہاں اجلاس  میں امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفد سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکہ نے اپنی گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح کیا اور یہ تاثر دیا کہ جیسے ہم ان کے دوست ہوں۔   میں ان کو غور سے سنتا رہا۔ امریکی وفد نے کہا کہ ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم اپنے امن اور مفاد کی خاطر دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف افغانستان پر چڑھائی کریں۔ انہوں نے ظلم کیا ہے اور اب ضروری ہے کہ ان کا یہ نظام ختم ہو جائے اور اس نظام کی جگہ دوسرا نظام آجائے اب ہمارا منصوبہ اور ہماری حکومت کا انتخاب یہ ہے کہ آپ طالبان کی دوستی چھوڑ دیں۔ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔ آپ ایک قومی شخصیت ہیں۔ افغان صرف آپ پر اعتماد  کرتے ہیں، آپ روس کے خلاف لڑ چکے ہیں اور پھر مجاہدین کے درمیان بھی مصالحت اور مذاکرات کے لئے کافی روشن تاریخ رکھتے ہیں۔

ہمارا ارادہ ہے کہ آنے والے نظام کی سربراہی آپ کو سونپ دیں۔ اگر مزید کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہم سے کہہ دیجئے۔ کہتے ہیں اس وقت میں نے سوچا کہ اتنے سالوں کی جدوجہد، ہجرتوں، زخموں اور شہادتوں کے بعد بھی یہ لوگ آپ کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ آپ کا ایمان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ دل ذرے کے برابر بھی ان کی طرف مائل نہ ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کی باتیں مکمل ہو گئیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے جلدی جلدی سے کاغذ قلم نکال لئے اور لکھنے کے لئے تیار ہو گئے۔ میں نے کہا آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ حقانی صرف ایک سلطنت کے بدلے میں اپنی قوم و ملت کے ساتھ غداری اور خیانت کرے گا؟ شہداء کے ارمانوں کو خاک میں ملا دے گا؟ یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کو و اضح الفاظ میں کہہ دیتا ہوں غور سے سن لو ٹھیک ٹھیک اسی طرح اپنے بڑوں تک بھی یہ بات پہنچا دو کہ افغانستان پر حملہ کرنے کا ارادہ اپنے دلوں سے نکال دیں، اس لئے کہ یہ آپ کے لئے بہت بڑے نقصان کا باعث بنے گا۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں اگر کہیں آپ نے افغانستان پر حملہ کر دیا تو میں آپ کو اسی بندوق سے نشانہ بناؤں گا جس سے روسیوں کو مارا تھا۔

ان کے چہرے بدل گئے، وہ  حیران ہو کر رہ گئے۔ میں نے بھی بات ختم کر دی، فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور دروازے کی طرف چل پڑا پھر دروازے سے ان کو آواز دی کہ یہ میرا آخری فیصلہ ہے اور امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ صحیح طرح سے سمجھ چکے ہوں گے۔ مہینہ یا اس سے کم کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ کروز میزائلوں سے ہمارے پکتیا کے مرکزوں کو نشانہ بنایا۔ پھر اس کے بعد مختلف واسطوں سے پیغامات بھیجے اور کہا کہ جو کچھ مانگنا ہے وہ آپ کو دے دیں گے لیکن ہر وقت میں نے ان کو سخت جواب دیا ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے بچے امریکہ کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں۔ اس لئے میں اپنے شہداء ساتھیوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں اور اس وجہ سے کفار کے ساتھ میری عداوت اور نفرت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

والد صاحب سخت بیماری میں بھی عبادت نہیں چھوڑتے ہم ان سے کہتے آپ کو آرام کی ضرورت ہے لیکن پھر جب دیکھتے وہ تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہوتے۔ قرآن کریم کی تلاوت کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ یہاں تک کہ آخری عمر میں فالج کی بیماری کی وجہ سے ایک ہاتھ شل ہو چکا تھا۔ ساتھی ان کے لئے ٹیپ ریکارڈ میں تلاوت قرآن لگا دیتے ان جیسا عابد انسان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا! ایک دن میں چند بھائیوں کے ساتھ ان سے ملنے گیا، تو کچھ ناراض سے لگ رہے تھے ہم نے مزاج  پوچھا تو آپ رو پڑے اور ان کے ساتھ ہم بھی رو پڑے۔ بڑے بھائی نے پوچھا کہ ابا جان کیا بات ہے؟ فرمایا کہ اس ڈر سے رو رہا ہوں کہ میرا خاتمہ کس طرح ہوگا۔؟

سبحان اللہ! اتنی عبادات و جہاد اور تکالیف کے باوجود بھی اپنے خاتمے کا ڈر تھا۔ ہم نے جب ان کو تسلی دی تو انہوں نے کہا کہ جب میں اپنے ان ساتھیوں کو دیکھتا ہوں جو پچھلے جہاد میں میرے ساتھ شریک تھے وہ موت کے ڈر سے اور دنیا کے لالچ میں اپنی غیرت اور وجدان بیچ چکے ہیں اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کہیں میرا خاتمہ بھی خراب نہ کر دے۔ 

آپ کی باتیں واقعی حیرت ناک ہوتی تھیں؟ جیل میں میں نے ان باتوں پر کافی غور و خوض کیا۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہمیشہ اپنے خاتمے کے ڈر سے روتے ہیں۔ مجھ سے اکثر اوقات علمی بحث و مباحثہ کرتے، مجھے تعلیم کی بہت زیادہ ترغیب دیتے میں جب بھی ان کے پاس جاتا تو جو بھی کتاب ان کو چاہئے ہوتی تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے کہ آئندہ آتے ہوئے میری کتابوں میں سے وہ کتاب لے کر آنا۔ حافظہ ان کا اتنا قوی تھا کہ کتابوں کا رنگ بھی ان کو یاد تھا میں جب کسی مسئلہ کے بارے میں ان سے پوچھتا تو فوراً کتاب کا نام بتا دیتے اور کہتے جلد نمبر فلاں اور باب نمبر فلاں میں دیکھ لو۔ آخر عمر میں ہم سے کہتے کہ میں آپ لوگوں کے لئے میراث میں اللہ کا دین چھوڑتا ہوں۔ اگر آپ دین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی طرف چل پڑے تو اللہ کو بھی ناراض کیا اور مجھے بھی اور اگر دنیا کو پیچھے چھوڑ کر دین کی طرف چل پڑے تو سمجھ لو کہ اللہ کو بھی راضی کر دیا اور مجھے بھی۔ اپنی لائبریری اور مجاہدین کے بارے میں مجھے یہ وصیت کی یہ ضائع نہ ہوں ان کا خیال رکھنا، ایک سمجھ دار آدمی نے ایک دن مجھ سے کہا بعض لوگ تو صرف باتیں بناتے ہیں اور بعض شخصیات تاریخ ساز ہوتی ہیں آپ کے والد محترم ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کر دی۔(ختم شد)

(بشکریہ ماہنامہ ”شریعت)

مزید :

رائے -کالم -