وزیر اعظم کا نوٹس، کیا موٹر وے پر لوٹ مار بند ہو جائے گی؟

وزیر اعظم کا نوٹس، کیا موٹر وے پر لوٹ مار بند ہو جائے گی؟
 وزیر اعظم کا نوٹس، کیا موٹر وے پر لوٹ مار بند ہو جائے گی؟

  

چلو اچھا ہوا کم از کم موٹر وے وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس میں تو آئی۔ جی ہاں آپ نے صحیح سمجھا مَیں موٹر وے پر بنائے گئے قیام و طعام مراکز پر لوٹ مار کا نوٹس لینے کی بات کر رہا ہوں۔ یہ بھی سچ ہے کہ وزیر اعظم کے نوٹس لینے کا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں، وہ جس بات کا نوٹس لیتے ہیں، وہ زیادہ شدت سے وقوع پذیر ہونے لگتی ہے کوئی بعید نہیں کہ موٹر وے پر بکنے والی مہنگی اشیاء کا نوٹس لینے کے بعد وہ مزید مہنگی ہو جائیں، تاہم اتنا تو ہوا کہ یہ لوٹ مار اتنے اعلیٰ فورم پر زیر بحث آئی  اور وزیر اعظم نے سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹر وے پولیس سمیت متعلقہ محکموں کو اس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ مَیں تو پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ موٹر ویز کیا پاکستانی قوانین سے ماورا گزر گاہیں ہیں، جن پر ملکی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ اشیاء جن کی قیمتیں بھی ان کے پیکٹ پر درج ہوتی ہیں، بڑی ڈھٹائی سے دوگنا، تین گنا قیمت پر بیچی جاتی ہیں کوئی بول پڑے تو اس کی خیر نہیں۔ کئی لوگ ان دکاندار نما غنڈوں کے ہاتھوں پٹ چکے ہیں۔ مسافروں سے تو ویسے بھی اچھا سلوک کرنے کی ہمارے دین، قانون اور اخلاقیات میں ہدایت کی گئی ہے، مگر یہ موٹر وے والے نجانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں، وہ اس تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب کوئی مسافر بس یا کار رکے اور ان سے چائے مانگے یا بسکٹ تو وہ اسے تین گنا قیمت پر بیچ کر موٹر وے پر سفر کرنے کا مزا چکھا دیں۔

وزیر اعظم نے سٹیزن پورٹل پر کی گئی شکایات کا نوٹس تو لے لیا ہے، مگر اس مسئلے کا مستقل حل کیوں نہیں ڈھونڈا جاتا کیا مشکل ہے کہ موٹر وے پر قائم طعام و قیام کے مراکز پر فروخت ہونے والی اشیاء کے نرخ بھی مقرر کر دیئے جائیں اور ہر دکاندار یا ریسٹورنٹ والے کو پابند کر دیا جائے کہ وہ ان نرخوں کا چارٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کرے اور زائد قیمت لینے والے کے خلاف کارروائی کے لئے متعلقہ اتھارٹی کا نمبر بھی اس چارٹ پر لکھا جائے۔ سنا ہے ہر سال کروڑوں روپے رشوت کی مد میں نگرانی پر مامور اداروں کے افسران وصول کرتے ہیں اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ مسافروں کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے؟ میں خود کئی بار موٹر وے پر سفر کر چکا ہوں اور حسب عادت مہنگی اشیاء بیچنے والوں سے جھگڑتا بھی رہا ہوں۔ تاہم ہر بار مجھے لگا کہ میں موٹر وے پر نہیں بلکہ لق و دق صحرا میں کھڑا ہوں، جہاں دور دور تک میری شنوائی کرنے والا کوئی نہیں۔ جب کسی کو احتساب کا ڈر نہ ہو تو بدمعاشی بھی کرتا ہے اور اکڑتا بھی ہے۔ موٹر وے پر ایسے اکثر کردار ملیں گے عام دکان پر 20 روپے والی سلانٹی موٹر وے پر پچاس روپے کی کیسے ہو جاتی ہے؟ اس بارے میں آپ کم از کم موٹر وے کے کسی اسٹال والے یا دکاندار سے سوال نہیں پوچھ سکتے، پوچھیں گے تو منہ کی کھانا پڑے گی۔ ایک بار مَیں نے کھوج لگایا کہ موٹر وے آخر آتی کس کے زیر نگرانی ہے؟ تو عقدہ کھلا کہ یہاں کسی پرائس کنٹرول کمیٹی کا حکم چلتا ہے اور نہ اس متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر بہادر کا، جس کی حدود سے موٹر وے گزرتی ہے۔ شاید موٹر وے پولیس کے دائرہئ اختیار  میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ قیام و طعام ایریا میں قیمتوں پر نظر رکھ سکے۔

رہے سیکرٹری مواصلات تو ان کے پاس کون سی ایسی فورس ہے جس کے ذریعے وہ ناجائز منافع خوروں پر گرفت کر سکیں، اس لئے وزیر اعظم عمران خان نے جو نوٹس لیا ہے اور آئی جی موٹر وے اور سیکرٹری مواصلات کو کارروائی کا جو حکم دیا ہے وہ بھی  پہلے دیئے گئے ایسے احکامات ہی کی طرح دریا برد ہو جائے گا۔ موٹر وے پر یہ سکینڈل بھی سامنے آ چکا ہے کہ سروس ایریاز میں ہوا بھرنے اور پنکچر لگانے والے چپکے سے ٹائروں میں کٹ لگا دیتے ہیں،  پھر پرانے ٹائرز بھی نئے ٹائروں سے مہنگے فروخت کرتے ہیں موٹر وے پولیس ایسے کئی گروپوں کو گرفتار بھی کر چکی ہے مگر یہ دھندہ رکا نہیں کیونکہ اس میں آمدنی اتنی زیادہ ہے کہ اوپر سے نیچے تک سب نہال ہو جاتے ہیں۔ ایک دور تھا کہ موٹر وے پر سفر محفوظ بھی ہوتا تھا اور مسافروں سے لوٹ مار بھی نہیں ہوتی تھی۔ وزارت مواصلات نے موٹر وے پر سفر کے ریٹ تو بڑھا دیئے لیکن سہولتوں کے لحاظ سے تنزلی کا شکار ہو گئی۔ پہلے موٹر وے پر حادثے شاذو نادر ہوتے تھے اب اکثر ہوتے ہیں حالانکہ یکطرفہ ٹریفک چلتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موٹر وے پر نگرانی کا نظام موثر نہیں رہا، اوور سپیڈنگ کرنے اور لائن کا خیال نہ رکھنے والے دندناتے پھرتے ہیں۔ موٹر وے پولیس انہیں چیک نہیں کرتی۔

جہاں تک موٹر وے پر سیکیورٹی کے معاملات ہیں تو ان کی قلعی بھی گجر پورہ تھانے کی حدود میں موٹر وے پر پیش آنے والے واقعہ سے کھل چکی ہے۔ مجھے ایک سینئر پولیس افسر دوست، جو موٹر وے پولیس میں تعینات رہ چکے ہیں،  نے بتایا کہ جن پولیس افسروں کی یہاں تعیناتی ہوتی ہے، وہ اسے ایک کھڈے لائن پوسٹنگ سمجھتے ہیں اور بددلی سے کام کرتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مسافروں پر کیا گزر رہی ہے، کون انہیں لوٹ رہا ہے اور کس نے جعل سازی کے ذریعے موٹر وے کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے؟ کئی مدات میں وہ اپنا حصہ لے کر دفتروں تک محدود ہو جاتے ہیں اور سارا نظام جونیئر اہلکاروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -