میں جمہوریت ہوں!

میں جمہوریت ہوں!
 میں جمہوریت ہوں!

  

اگلے روز انصاف لائرز فورم (ILF) سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایک دبنگ دعویٰ کیا اور کہا: ”میں جمہوریت ہوں“…… اگر ان کا مطلب یہ تھا کہ میں بادشاہت یا آمریت کی پیداوار نہیں تو ان کے دعوے میں بلاشبہ صداقت تھی۔ وہ ایک عام آدمی ہیں، کسی حکمران خاندان سے ان کا تعلق نہیں۔ وہ اپنی ذاتی جدوجہد کے بل پر وزیراعظم بنے۔ دوسری طرف ملک کی باقی دو مین سٹریم پارٹیاں ہیں جن کی شخصی اور خاندانی حکمرانی گویا مسلّم ہے۔ نون لیگ نے پارٹی کی قیادت اپنے ہی خاندان میں رکھی ہے۔ نوازشریف صاحب اور شہبازشریف صاحب دونوں آج عوامی منظر سے آؤٹ ہیں۔ ایک کو سپریم کورٹ نے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ پھر وہ جیل سے ہسپتال منتقل کئے گئے اور ڈاکٹری رپورٹوں کے مطابق نزع کی حالت میں تھے اس لئے جان بچانے کے لئے پردیس جانا پڑا۔ حکومت لاکھ تاویلیں کرے لیکن وہ اس الزام سے نہیں بچ سکتی کہ آخری حکم نوازشریف صاحب کو لندن بھیجنے کا عمران خان اور ان کی کابینہ نے دیا۔ اگر وہ لندن جا کر صحت مند ہو گئے ہیں اور ایک ایک گھنٹے کا ورچوئیل خطاب کرنے پر قادر ہیں تو یہ ان پر اللہ کی عنایت ہے۔کوئی حکومتی اہلکار یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پاکستان سے فرار ہو کر دیارِ غیر میں گئے۔

ان کے دونوں بیٹے جوان کی جگہ لے سکتے تھے وہ ایک مدت سے لندن میں ہیں اور کاروبارِ حکمرانی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے اپنے کاروبار ہیں لیکن کسی کاروبارِ حکومت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ان کے بعد وزیراعظم کے چھوٹے بھائی تھے۔ آج وہ بھی اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے نیب کی تحویل میں ہیں۔ ایک حوالے سے شریف خاندان سارے کا سارا لندن میں  ہے یا جیل میں ہے۔ مقدمے البتہ جاری ہیں۔ ہر روز میڈیا پر جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ لیکن یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ انہوں نے اپنی سیاسی حکمرانی کی باگ ڈور اپنے کسی داماد کو نہیں بلکہ اپنی بیٹی کو دی۔ داماد کے ہوتے ہوئے بیٹی کو ترجیح دینا، شخصی اور خاندانی حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی پارٹی میں کئی بہت قابل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں بیگم صفدر کو مریم نواز کہہ کر پکارنا، پارٹی کی قیادت ان کے حوالے کرنا اور دعویٰ کرنا کہ ہم جمہوری پارٹی ہیں، ایک عجیب و غریب تناقض ہے!

دوسری مین سٹریم سیاسی پارٹی کو PPP کہا جاتا ہے۔ ان کے لیڈر کو بھی دیکھ لیں۔ بلاول بھٹو صاحب کی سیاسی اور جمہوری کوالی فیکیشن کیا یہی ہے کہ ان کے والد، والدہ اور نانا سیاستدان تھے اور اونچے سیاسی عہدوں پر فائز تھے؟ ان کے نام کے ساتھ ”بھٹو“ کا لاحقہ کس حقیقت کا پتہ دیتا ہے؟…… ایک پارٹی کی ہیڈ اگر ”مریم نواز“ کہلاتی ہیں تو دوسرے کے کرتا دھرتا بلاول بھٹو کہے جاتے ہیں …… کیا پیپلزپارٹی میں کوئی ڈھنگ کا تجربہ کار اور کہنہ مشق سیاستدان باقی نہیں رہا کہ ایک نوآموز، ناآزمودہ اور ناتجربہ کار نوجوان کو سامنے لایا گیا ہے۔ کیا یہ شخصی حکمرانی ہے یا جمہوری اقدار کی پیروی ہے؟

میرے خیال میں ہم پاکستانیوں کو بادشاہی نظام ہی راس آتا ہے۔ ہم نے انگریزوں کی غلامی تو کی لیکن ان سے حکمرانی کا کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ آج برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم تو اس ملک کی تاجدار کہلاتی ہیں لیکن یہ تاج، حکمرانی کا تاج نہیں، محض روائتی بادشاہت کا تاج ہے۔ اصل تاجدار وزیراعظم ہے جو تاجدارِ برطانیہ ملکہ ء معظمہ کا بھی وزیراعظم ہے۔ ملکہ کو حکمرانی سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف ربڑ کی مہر ہیں یعنی نام کی ’ملکہ‘ ہیں!…… میرے نزدیک اس کی وجہ یہی ہے کہ اہلِ انگلستان کو بادشاہت نہیں جمہوریت راس آتی ہے جبکہ ہم پاکستانیوں کو ’جمہوری حسن‘ اگر کہیں نظر آتا ہے تو وہ مریم نواز یا بلاول بھٹو کی ذات میں نظر آتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کئی قارئین مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن اس حقیقت کا اعتراف تو آپ کو کرنا پڑے گا کہ ہمیں بادشاہت راس آتی ہے یا پھر غلامی…… یہ جمہوری قبا ہماری قامت پر ہرگز نہیں سجتی۔ آج پاکستانی میڈیا کے درجنوں نیوز چینل ہیں۔ ان کو کھول کر دیکھیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم ’خاندانی غلامی‘ کے شکنجے میں بُری طرح جکڑے ہوئے ہیں …… ہماری عدالتِ عظمیٰ ایک وزیراعظم کو تا عمر نااہل قرار دے اور ہم اپنے میڈیا پر ہر تیسرے شخص سے یہ سنیں کہ نوازشریف صاحب ’تین بار‘ وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ ان کا ’آئینی حق‘ ہے کہ وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم بنیں اور ہم پاکستانیوں کے گلے میں اپنا طوقِ بادشاہی لٹکائیں۔ اگر کوئی عدالت عظمیٰ ان کو پھر بھی نااہل قرار دے تو ہم بار بار ایک دوسرے الیکٹڈ وزیراعظم کو نااہل اور ناسزا کے خطابات سے نوازیں!

نوازشریف صاحب اور ان کے خاندان کے سارے مرد و زن پر کرپشن کے جو الزامات لگائے گئے ہیں اگر وہ جھوٹے ہیں تو اس جھوٹ کا پردہ تو 2018ء کے الیکشن میں چاک ہو جانا چاہیے تھا…… اور وہ چاک ہو بھی گیا…… لیکن ہم پھر بھی جمہوریت کے ’حسنِ جہاں سوز‘ میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ ہمیں اپنے کرتوتوں کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ہمیں جلد از جلد الیکشن کروا کر نوازشریف صاحب کو چوتھی بار وزیراعظم بنا لینا چاہیے اور اس طرح ووٹ کو تقدیس (عزت) عطا کر دینی چاہیے۔ جی چاہتا ہے کہ عمران خان کو درخواست کروں کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کرکے’ووٹ کی حرمت‘ کو بحال کر دیں اور ہم پاکستانیوں کو ایک بار پھر ”مہنگائی“ کے عذاب سے نکال کر ”ارزانی“ کے ثواب کا جبّہ پہنا دیں کیونکہ:

اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ہر آئینی حکومت کی سپورٹ جاری رکھے گی…… اس کا مطلب کیا ہے؟…… کیا ان کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان کی حکومت آئینی ہے اور وہ عوام کے ووٹوں کی ’عزت‘ سے ہی معرضِ تشکیل میں آئی ہے۔عمران خان ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بات کھل کر کہہ چکے ہیں کہ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو پاکستان کے تین ٹکڑے ہو گئے ہوتے۔ آج کی اپوزیشن کو معلوم ہی نہیں کہ ملک کو آج کس طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔ آئے روز فوج کے جوان اور آفیسر شہید ہو رہے ہیں۔ بقول جنرل قمر جاوید باجوہ یہ ہائی برڈ وار ہے۔ لیکن ہائی برڈ وار کا معنی تو دماغی اور نفسیاتی جنگ ہے۔ یہ ہائی برڈ وار میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ دماغوں میں لڑی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر تقریباً روزانہ ہمارے فوجی بھی شہید ہو رہے ہیں اور سویلین بھی…… ایک طرف لائن آف کنٹرول ہے اور دوسری طرف پاک افغان سرحد ہے جس پر جنگلہ بندی ہو رہی ہے لیکن جوں جوں جنگلہ بندی کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ رہا ہے بجھتے ہوئے دیئے کی لَوتیز ہو رہی ہے۔ دشمن کو معلوم ہے کہ اگلے چند ماہ میں افغانستان سے جب امریکی ٹروپس چلے جائیں گے تو پاکستان کی جنگ، (اگر ہوئی) تو وہ ان افغانوں سے ہو گی جو ”را“ کے پروردہ ہیں۔ خدا نہ کرے ایسا ہو لیکن میں اس امکان کو رد نہیں کرتا کہ جب آخری امریکی کابل و قندھار و ہرات سے نکل گیا تو یا تو اس سرحد پر پورا امن قائم ہو جائے گا یا ”پوری جنگ“ ہو گی۔ انڈیا شائد دو محاذوں پر لڑ سکتا ہے لیکن پاکستان دو محاذوں پر نہیں لڑ سکتا!…… پاکستان کو اپنی مغربی سرحد محفوظ بنانے کے لئے ہر جتن کرنا پڑے گا…… یہ ایک ’گرنیڈ‘ چیلنج ہے اور بجائے اس کے ہم اس سے عہدہ برآ ہونے کا سوچیں ہم نے ملک بھر میں اپوزیشن کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی من مانیاں کرے۔

اگر عمران خان فوج کی سپورٹ کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے تو کیا فوج ان کو واضح اکثریت سے کامیاب نہیں کروا سکتی تھی؟ یہ باور کئے جانا کہ وزیراعظم الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ ہیں فوج کو ایک کھلی گالی ہے۔ اگر فوج اور عمران خانی حکومت ایک صفحے پر ہیں تو اس کا ’انجام‘ تو دیکھ لینا چاہیے۔ اپوزیشن کو کیا جلدی ہے کہ وہ ایک آزمودہ، ’ناکام شدہ ’روائتی اتحاد‘ بنا کر میدان میں آ گئی ہے۔ جگہ جگہ جلسے ہوں گے اور افواج پاکستان کو کوسا جائے گا۔ ہماری اعلیٰ عدالتیں پہلے ہی اپوزیشن کے سبّ و شتم اور دشنام طرازی کا شکار ہو چکی ہیں۔”مجھے کیوں نکالا؟“ کا نعرہ ابھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے اور ان حالیہ جلسوں میں کہ جن کا آغاز 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہونے والا ہے اگر فوج کو مخاطب کرکے یہ نعرہ لگایا گیا کہ ”عمران نیازی کو کیوں لائے؟“ تو کیا پاکستان کی جگ ہنسائی نہیں ہو گی؟……؎

اگر اپوزیشن ماہ فروری 2021ء میں سینیٹ کے الیکشنوں سے خائف ہے اور ان کو ملتوی کروانے کی پلاننگ کر رہی ہے تو یہ ایک غیر جمہوری ’حرکت‘ ہو گی۔ وہ اپوزیشن جو جمہوریت کا راگ الاپتی ہے اس پر لازم ہے اڑھائی برس اور انتظار کر لے۔ میرا اندازہ ہے (تجزیہ نہیں) کہ مارچ 2021ء میں جب پی ٹی آئی حکومت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوگئی تو اس کی غالب کوشش ہو گی کہ سب سے پہلے 18ویں ترمیم کو ختم کرے تاکہ وہ ریونیو جو صوبائی حکومتوں کو مستعفی ہونے نہیں دیتا، وہ مرکز کے پاس چلا جائے اور صوبے ”ٹُھن ٹُھن گوپال“ کی صدائیں لگانے لگیں۔ پنجاب اور کے پی میں تو پہلے ہی پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں۔ جب مارچ 2021ء میں سندھ کے ہاتھ سے 18ویں ترمیم کا کارڈ نکل گیا تو ایک نئی صورتِ حال پیدا ہو جائے گی۔ ایسے میں ’عمران نیازی‘ کو آنے والے اڑھائی سال ایسے مل جائیں گے جو اپوزیشن کے بکھرنے اور اس کے سقوط کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں گے۔ میرا خیال ہے اپوزیشن اسی صورتِ حال سے خائف ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے قوانین ہوں گے جو PTI حکومت کے استحکام کا سبب بنیں گے۔ اپوزیشن کو ٹھنڈے دل سے مستقبل کے اس چیلنج سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانی چاہیے۔

میں کبھی سیاسیات کا طالب علم نہیں رہا لیکن بعض اوقات کندۂ ناتراش بھی کوئی ایسی بات کہہ اور کر دیتا ہے کہ بڑے بڑے کار پینٹر سر ہلانے لگتے ہیں۔ میں ہرگز کسی کو سرہلانے کی درخواست نہیں کروں گا لیکن یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اگر سر کو اوپر نیچے جنبش نہیں دیتے تو خدارا دائیں بائیں جنبش بھی نہ دیں!

مزید :

رائے -کالم -