نیو یارک میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا روز ویلٹ ہوٹل 31اکتوبر کو بند 

نیو یارک میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا روز ویلٹ ہوٹل 31اکتوبر کو بند 

  

نیویارک(آئی این پی)سالانہ کئی ملین پرافٹ دینے والے پی آئی اے انویسٹمنٹ کی ملکیت نیو یارک کے مشہور ہوٹل روز ویلٹ کو اونے پونے فروخت کرنے کیلئے ہوٹل سے متعلق بے بنیاد افواہیں پھیلانے کیساتھ اسے بند کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ پی آئی اے کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے ہرسال تمام اخراجات، ٹیکس، انتظامی اخراجات اور تمام تر مالیاتی بے قاعدگیوں اور گھپلوں کے باوجود کئی ملین سالانہ منافع دینے والے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی مالیت کے اس ہوٹل کو حکومت کے انتہائی ذہین اور مفادپرست عہدیداروں نے 31اکتوبر سے مستقل بند کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔اور اسے بھاری کمیشن کی لالچ میں اونے پونے فروخت کرنے کیلئے بے بنیاد افواہیں پھیلانا شروع کردی گئی ہیں۔روز ویلٹ ہوٹل کی گیسٹ ریلیشنز کی ذمہ دار خاتون کرسٹینا نے 31اکتوبر 2019کولکھا کہ روز ویلٹ ہوٹل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کمرے میں متعدد پاکستانی مرحوم اور حیات شخصیات نے بھی قیام کیاہے۔جن میں آزاد کشمیر کے صدر سردارعبدالقیوم (مرحوم)، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت کئی درجن پاکستانی شخصیات شامل ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف اپنے دورہ نیو یارک میں اسی روز ویلٹ ہوٹل میں قیام کرتے تھے۔ ان کے معاونین اور مشیروں کے تصرف میں رہتا۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ اقوام متحدہ کے دوران بھی یہ ہوٹل ان کے معاونین کے تصرف میں رہا۔

روز ویلٹ 

مزید :

علاقائی -