حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو جلسوں کیلئے فری ہینڈ دیدیا،کورونا ایس او پیز عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا:عمران خان

  حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو جلسوں کیلئے فری ہینڈ دیدیا،کورونا ایس او پیز ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومت نے اپوزیشن کو ملک بھر میں جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا،۔وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں سیاسی امور پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم کو جلسوں کے این او سی جاری کیے جائیں گے، اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے گا، ضلعی انتظامیہ جلسوں میں ایس او پیز کی پابندی یقینی بنائے گی، حکومت اپوزیشن کے جلسوں میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ خیال رہے کہ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا تھا پی ڈی ایم کا جلسہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہوگا، جب کہ 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ ہوگا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت مہنگائی میں کمی کے لئے پیر کے روز ہونے والا اجلاس موخر کر دیا گیا، اب یہ اجلاس  آج کابینہ اجلاس کے بعد ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اہم اجلاس میں معاون خصوصی عثمان ڈار ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کی نشاندہی کیلئے ٹائیگر فورس کو متحرک کرنے کیلئے جامع روڈ میپ پیش کرینگے۔ وزیراعظم نے صوبائی چیف سیکرٹریز اورمعاشی ٹیم کو بھی طلب کر لیا۔ اعلیٰ سطح اجلاس میں مہنگائی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لینے کی منظوری دی جائے گی۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مذہبی رواداری  اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں ہیں جسے ہم سب ملکر ناکام بنائینگے،امید ہے قومی کمیشن برائے اقلیت اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگا،حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان سے چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن  چیلا رام  کی قیادت میں کمیشن کے وفد نے ملاقات کی۔وفد میں وزیرِ برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری، مولانا  سید محمد عبدالخبیر آزاد، مفتی گلزار احمد نعیمی، ج، وشنو راجا قوی، ڈاکٹر سارہ صفدر، آرچ بشپ سبیسشن فرانسس شا، البرٹ ڈیوڈ، ڈاکٹر پمپل سنگھ، سروپ سنگھ، روشن خورشید بھاروچہ، داؤد شاہ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، پارلیمانی سیکرٹری  شنیلہ رتھ و دیگر شریک ہوئے۔قومی اقلیتی کمیشن کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔وزیرِ اعظم نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رواداری  اور  بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں ہیں جسے ہم سب نے ملکر ناکام بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ قومی کمیشن برائے اقلیت اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اجاگر کیا جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان سے صوبہ خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے معروف  مذہبی شخصیات کے وفد نے ملاقات کی جس میں وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری، پیر شمس الامین، پیر حبیب اللہ شاہ، پیر انور جنید شاہ اور پیرزادہ جنید امین شامل تھے۔وزیرِ اعظم نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اجاگر کیا جائے اور ضمن میں علمائے کرام کا کلیدی کردار ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ مشکل وقت میں حکومت اور قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشرے میں اسلامی اقدار کو اجاگر کرنے، دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے اور فرقہ واریت کی روک تھام کے ضمن میں علمائے کرام اسی جذبے سے اپنا کردار ادا  کرتے  رہیں گے۔ وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ کورونا کے خلاف جنگ میں علمائے کرام اور مذہبی شخصیات حکومتی کوشش کا ساتھ جاری رکھیں گے اور عوام کو کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرد موسم میں کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے،حفاظتی اقدامات اور ماسک کے استعمال  کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔   وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ-19کا اجلاس  منعقد ہوا۔اجلاس کو ملک میں کورونا کی صورتحال،  ٹیسٹ،    ملک کے مختلف حصوں میں وبا کے پھیلاؤ  کی شرح اور عالمی سطح پر کورونا  کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتحال  پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر کورونا کی دوسری لہر کے نتیجے میں  متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور حکومتی اقدامات اور حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان میں  کورونا کا پھیلاؤ اور نقصان دیگر ملکوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق کورونا کا مرض دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔کراچی، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں کوروناکے پھیلاؤ  سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آبادی کو کورونا کی دوسری لہر سے بچانے کے حوالے سے اجلاس کے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ  ایسی تمام  غیر ضروری سرگرمیوں  جن کا تعلق معیشت اور تعلیم وغیرہ جیسی بنیادی ضرورتوں  سے نہیں ان کو محدود کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ ان میں عوامی اجتماعات پر پابندی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد قوم کو کورونا کی دوسری لہر اور مزید نقصانات سے بچانے کے لئے بر وقت فیصلہ سازی ہے وزیراعظم عمران خان نے عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے اثرات پر آسٹریلیا کے وزیراعظم  اسکاٹ موریسن سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق  وزیراعظم عمران خان نے پیر کو اپنے آسٹریلوی ہم منصب سے ٹیلی فونک بات چیت کے دوران ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں رعایت کے عالمی اقدامات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن سے ہونے والی بات چیت میں افغان امن عمل پر بھی گفت و شنید ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور آسٹریلیا کے وزیراعظم کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملک کے دورے کی دعوت بھی دی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ کورونا وباکے باوجود ہماری معیشت کے لیے اچھی خبریں آ رہی ہیں،ترسیلات گزشتہ ستمبرسے 31 فیصد جبکہ اگست 2020 سے 9 فیصد زیادہ ہیں،الحمدللہ، یہ لگاتار چوتھا مہینہ ہے کہ یہ ترسیلات 2 ارب ڈالرز سے زیادہ رہیں۔ سماجی وابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر اپنے بیان میں  وزیراعظم عمران خان  نے کہا  ہے کہ وبا کے باوجود ہماری معیشت کیلئے ایک اور خوشخبری ہے۔ ستمبر2020 میں بیرون ملک سے ہمارے محنتی پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ زر2.3 ارب ڈالرکی سطح تک پہنچیں جوگزشتہ ستمبرسے 31 فیصد جبکہ اگست 2020 سے 9 فیصد زیادہ ہیں، الحمدللہ۔ یہ لگاتار چوتھا مہینہ ہے کہ ترسیلات زر 2 ارب ڈالرسے زیادہ رہیں۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -