موٹروے بد اخلاقی کیس کامرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار

موٹروے بد اخلاقی کیس کامرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار

  

  لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے بداخلاقی کیس کے مرکزی ملزم کو مانگامنڈی سے گرفتارکرلیا گیا، عابد ملہی نے 33 روز تک پولیس کی ناک میں دم کیے رکھا۔ پولیس زرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ملزم کو مانگا منڈی سے نہیں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ملزم کی گرفتاری میں پنجاب پولیس کی قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے بھی معاونت کی اور سائنسی طریقے استعمال کیے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش تو 72 گھنٹے میں ہی مکمل کرلی تھی، لیکن مرکزی ملزم عابد ملہی کو پکڑنے میں 33 دن لگ گئے۔وہ پانچ بار پولیس کو چکمہ دیکر بھاگنے میں کامیاب رہا۔ عابد ملہی سب سے پہلے قلعہ ستار شاہ سے فرار ہوا، پھر بہاولنگر، اس کے بعد قصور اور پھر مانگامنڈی میں بھی پولیس کے ہاتھ نہ آیا جبکہ ننکانہ میں مارا گیا پولیس کا چھاپہ بھی بے سود ثابت ہوا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی اپنی ٹویٹ میں تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے عابد ملہی گرفتار ہو گیا ہے اور اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔چھاپہ مار ٹیم کے انچارج ڈی ایس پی حسنین حیدر نے روزنامہ پاکستان کو بتایا ہے کہ ملزم مخبری پرگرفتار ہوا اور اسے اس کے والد کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے،پولیس نے اس معاملے کو حکمت عملی سے انجام دیا تاکہ اس بار وہ کامیاب ہو سکیں اس حوالے سے انوسٹی گیشن لاہور پولیس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ ’ملزم عابد ملہی کو سی ٹی ڈی، لاہور پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز نے گرفتار کیا اور اس آپریشن کو خفیہ رکھا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق سی آئی اے لاہور نے ایس پی عاصم افتخارکی سربراہی میں اس گرفتاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔پچھلے ایک ماہ سے سی آئی لاہور کی نو ٹیمیں پنجاب کے مختلف اضلاع لاہور،فیصل آباد،چکوال،گجرات،سیالکوٹ،قصور،ننکانہ صاحب،گوجرانوالہ اوربہاولنگرمیں مفرور ملزم کی سراغ براری کے لیے دن رات کوشاں تھیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم اور سی آئی اے کے ا فسران کیلئے خصوصی انعام کا اعلان کیا ہے۔

عابد ملہی گرفتار

مزید :

صفحہ اول -