86پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام،مہنگائی کا سونامی بپھرنے لگا

  86پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام،مہنگائی کا سونامی ...

  

 لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں گراں فروشی کے خلاف کوئی بڑا کریک ڈاؤن شروع نہیں ہو سکا۔ حکومت پنجاب اپنے اعلان کے باوجود ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی رکنے کے لئے منظم مہم کا آغاز نا کر سکی اور نا ہی سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔صرف ضلع لاہور میں گراں فروشوں کے خلاف 86پرائس کنٹرول مجسٹریٹ موجود ہیں مگر وہ بھی خانہ پوری کر رہے ہیں۔ان میں زایدہ تر کو سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کی سہولت بھی دی گئی ہے اور ان کے پاس دو دو عہدے ہیں۔مگر ان کی اکثریت نے دیہاڑیوں کے لئے اپنے ماتحت عملے کو اختیارات دیئے ہوئے ہیں جو دن بھر مختلف مارکیٹوں،ہوٹلوں،سوئٹس شاپس،بیکری،دودھ فروش کی دکانوں پر بلیک میل کرتے ہیں اور دیہاڑیاں لگا رہے ہیں۔شہر میں گراں فروشی آخری حدیں پار کر چکی ہے۔سبزیوں،پھلوں،چکن،مصالحہ جات،آٹا چینی کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں۔چینی شہر میں 115سے 120روپے تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ چکن 250تا270روپے تک فروخت ہو رہا ہے اسی طرح آٹا 90روپے تک فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔دودھ کی سرکاری قیمت 80روپے فی کلو ہے مگر130روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔خوردنی آئل 270روپے تک فروخت ہو رہا ہے،دالوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سامنے آرہا ہے۔اسی طرح روٹی کی سرکاری قیمت 8روپے ہے جبکہ دس روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ نان سولہ روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ملک نے کہا ہے کہ شہر میں آٹا اور چینی کی سپلائی کو بہتر کر رہے ہیں اور آٹا ملوں میں ریونیو سٹاف ڈیوٹی دے رہا ہے۔ مارکیٹ میں آٹا کی فراہمی میں پچھلے دو روز میں بہتری لائی گئی ہے۔ آٹا کی سپلائی میں خرابی پیدا کرنے پر مل اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن ہو گا۔ ڈی سی لاہور نے کہا کہ شہر میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 860 میں فروخت ہو رہا ہے۔

مہنگائی سونامی 

مزید :

صفحہ اول -