سی سی پی او کی درخواست پر لاہور پولیس کے کرپٹ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

  سی سی پی او کی درخواست پر لاہور پولیس کے کرپٹ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

  

 لاہور(لیاقت کھرل) لاہور پولیس کے197 ایس ایچ اوز،انچارج انوسٹی گیشنز اور ڈی ایس پیز کے آمدن سے زائد اثاثہ جات کا انکشاف ہونے پرسی سی پی او لاہور نے خفیہ اداروں کی مدد طلب کرلی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے اس حوالے سے چھان بین کر کے باقاعدہ فہرست تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور کو خفیہ طور پر ملنے والی معلومات میں بتا یا گیا ہے کہ لاہور میں گزشتہ پانچ سال کے دوران تعیناتی حاصل کرنیوالے ایس ایچ اوز،انچارج انویسٹی گیشنز سمیت ڈی ایس پیز نے طاقت کا استعمال کیا اور اپنی مرضی کی پوسٹنگز حاصل کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے سی سی پی او کی درخواست پر تیار کردہ فہرست پر بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ سنگین الزامات سی آئی پولیس لاھور میں گزشتہ پانچ سال کے دوران تعیناتی حاصل کرنے والوں کے خلاف پائے گئے ہیں۔دوسرے نمبر پر شہر سے گاڑیاں چوری کی روک تھام کے لیے بنائے گئے اینٹی کار لفٹنگ کے شعبہ میں تعینات ہونے والے تفتیشی افسروں آور انسپکٹرز سمیت ڈی ایس پیز شامل ہیں۔جس میں لاہور پولیس کے 23ڈی ایس پیز۔،50سے زائد انسپکٹرز کے نام فہرست میں شامل ہیں۔اسی طرح 20تھانوں کے انچارج انویسٹیگیشنز اور 40سے زائد تفتیشی افسروں کے اثاثوں کا ذکر کیا گیا ہے۔جبکہ تیسرے نمبر پر 37انسپکٹرز شامل ہیں جوکہ مختلف تھانوں میں ایس ایچ اوز تعینات ریے ہیں۔اسی طرح سب سے زیادہ سنگین الزامات انچارج انویسٹیگیشن کے طور پر تعینات رہنے والے سب انسپکٹرز پر پائے گئے ہیں اور ان کے آمدن سے کئی گنا زائد اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے تیار کردہ فہرست پر پیپر ورک مکمل کرنا شروع کر دیا ہے۔جس میں ایس ایچ اوز انچارج انویسٹیگیشنز اور ڈی ایس پیز کی جائیدادوں کا ریکارڈ خفیہ طریقے  جمع کیا جارہا ہے۔اس حوالے سے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ لاہور پولیس کو کرپشن سے پاک کر دیا جائے گا،تھانہ کلچر کی حقیقی معنوں میں تبدیلی کیلئے کرپٹ ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کو کو فیلڈ سے ہمیشہ کیلئے آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔سی سی پی اونے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم میں صرف اچھی شہرت کے حامل ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز ہی رہ سکیں گے۔

لاہور پولیس

مزید :

صفحہ اول -