صوبے میں کہیں مہنگائی نہیں،پرائس مکمل حکومتی کنٹرول میں ہیں 

صوبے میں کہیں مہنگائی نہیں،پرائس مکمل حکومتی کنٹرول میں ہیں 

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی)صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں کہیں کوئی مہنگائی نہیں،انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ دیکھایا جائے کہاں مہنگائی ہے،ہرجگہ پرائس مکمل کنٹرول میں ہے۔گزشتہ روزپنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا جس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے بارے میں سوالوں کے جوابار متعلقہ پارلیمانی سیکرٹری سردار شہاب الدین نے دئیے۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری نے پنجاب بھر کی سڑکوں کی عدم تعمیر پر کہا کہ حکومت کی جانب سے جیسے ہی فنڈز دستیاب ہوں گے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت شروع ہو جائے گی۔وقفہ سوالات کے بعد مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر بحث کو دوسرے روز بھی جاری رکھا۔سمیع اللہ خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسہ کی اجازت کے معاملے پر حکومت خاموش ہے۔پی ٹی آئی نے ہر ضلع میں ایک سے دو جلسے کیے۔ن لیگ حکومت نے پی ٹی آئی کے جلسوں میں تعاون کیا۔راجہ بشارت اس پر واضع پالیسی دیں،نہ کہ کارکنوں کی لسٹیں بنا کر انہیں اٹھایا جائے۔اسطرح قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر جلسوں کی احتجاج کی اجازت ہے۔بندوق اور بوٹ کے نعرے لگائے جائیں یہ مناسب نہیں ہے۔اداروں سے تصادم کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔پولیٹکل معاملات پر حکومت جلد فیصلہ کرے گے۔باہر بیٹھ کر کسی کو اداوروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ سمیع اللہ خان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابا کیا اور حکومتی بینچوں سے غدار غدار کے نعرے لگائے گئے۔سمیع اللہ خان نے کہا کہ عمران خان ٹی وی پر پاک فوج کے بارے میں باتیں کیں۔عمران کی گفتگو کی یو ایس بی پیش کر سکتا ہوں۔70 سالوں میں کس کس نے کیا الفاظ استعمال کئے وہ میرے موبائل میں موجود ہیں۔جنرل شجاع پاشا نے ق لیگ کے کارکنوں کو توڑ کر پی ٹی آئی میں داخل کرایا۔ چوہدری پرویز الہی نے ٹی وی انٹرویو میں کہاجنرل کیانی اور جنرل پاشا کیا کسی ادارے میں نہیں تھے؟۔اعجاز شاہ نے کہا کہ نواز شریف نے جس راستے پر قدم رکھا ہے وہ ملک کی ترقی کا راز ہے۔نواز شریف کی سزا کا تعلق اقامہ،کرپشن پر نہیں تھا۔سمیع اللہ خان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شراباکیااور ایوان میں ایک دوسرے پرالزام تراشی کے جملوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔مخدوم عثمان نے کہا کہ حکومت امن و امان اور مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوئی ہے۔وزیر اعظم بیمار لیڈرز اور پارلیمانی ممبران کی نقلیں اتارتے ہیں۔گیس،بجلی،ادویات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا گیا۔ گورنرننس کا حال یہ ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو پانچ پانچ بار تبدیل کر دیاجاتا ہے۔ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کو جیلوں سے باہر کیسے لانا ہے اور عوام کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کے سزا یافتہ کو لیڈر بنانا چاہتی ہے۔پنجاب میں آٹے کا تھیلا 860 روپے ہے جبکہ سندھ میں 15 سو روپے کا تھیلا ہے۔پنجاب میں کوئی مہنگائی نہیں بلکہ پرائس پر مکمل کنٹرول ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈے مکمل ہونے پر پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد نے اجلاس آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -