مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید ؒ عظیم مذہبی رہنماتھے،عمران نقشبندی

   مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید ؒ عظیم مذہبی رہنماتھے،عمران نقشبندی

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی)ملک کے حالات جہاں پہنچ گئے ہیں اب علماء مشائخ خاموش نہیں رہ سکتے تھے پاکستان کے معروف جید عالم دین اور ممتاز مذہبی سکالر اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید ؒ عالم اسلام کے عظیم مایہ ناز مذہبی رہنماتھے ان کا یوں سر عام قتل گہری سازش ہے اور ملت اسلامیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے ان خیالات کا اظہار ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزاداحمد عمران نقشبندی مرشدی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے گذشتہ روز کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 اس موقعہ پر مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین جانی شاہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مولانا عادل خان کی مظلومانہ شہادت پر شدید غم وغصہ،دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عادل خان کی تمام زندگی درس و تدریس، باطل قوتوں کے خلاف علمی جہاد،عقیدہ ختم نبوت و ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ کے تحفظ کے لیے جدوجہد میں گذری۔ مولانا عادل خان کی جدوجہد سے خائف قوتوں نے ان کو راستے سے ہٹانے کیلئے اوچھا ہتھکنڈا اختیار کیا ہے۔ڈاکٹر عادل خان کی شہادت قومی سانحہ ہے، ڈاکٹر عادل خان دینی تحریکوں اور مدارس دینیہ کی توانا آواز تھے، علماء مشائخ فیڈریشن أف پاکستان اس قومی سانحہ کی بھرپور مذمت کرتی ہے ڈاکٹر عادل خان کی ناموس صحابہ و یکجہتی امت کے لیے قربانیوں کو سنہری حروف میں لکھا جائیگا. ڈاکٹر عادل کی شہادت عظیم سانحہ ہے جو عالم اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے آپکی شہادت کے پیچھے کارفرما عوامل ملک میں جاری ناموس صحابہ کی تحریک کو دبانا چاہتے ہیں اور ملک میں انتشار اور فرقہ وارانہ فسادات کروانے کے درپے ہیں کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں یوں علما کرام کی شہادتیں حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں ایسے واقعات پر حکومتی خاموشی سوالیہ نشان ہے حکومت واقع میں ملوث دہشت گرد عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائے انکا مزید کہنا تھا کے مشکل کی اس گھڑی میں علماء مشائخ فیڈریشن أف پاکستان ڈاکٹرعادل خان شہید ؒ کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتی ہے اور انکے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔  مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین جانی شاہ  نے کہا ہے کہ تصوف اولیا کرام سے منسوب ہے اور تصوف کا راستہ ہی دنیا میں قیام امن کی ضمانت ہے۔ اولیا کرام نے برصغیر جیسے پسماندہ ترین خطے میں اللہ کی وحدانیت کی جو شمع روشن کی ہے یہ تاقیامت جلتی رہے گی اور ختم نبوت کے پروانے اس سے روشنی و فیض لیتے رہیں گے۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی فرقیواریت، شدت پسندی،اورصوبائی عصبیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہود و نصارا مذہبی منافرت پھیلا کر اتحاد امت کے خاتمے کے در پہ ہیں جسے تمام امت اتحادبین المسلمین پر عمل پیرا ہو کر نا کام بنا دیں گے، مذہبی منافرت، فرقیواریت، شدت پسندی،اورصوبائی عصبیت کے پرچار کو روکنے کیلئے ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان ملک بھر میں محلوں کی سطع پر وحدت امت کمیٹیاں قائم کریگی،اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی فرقیواریت، شدت پسندی،اورصوبائی عصبیت کے خاتمے کے لیے اکتوبر کے أخرمیں کراچی سمیت ملک بھر میں وحدت امت کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ملک و قوم کو مشکلات میں ڈال کر عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویداروں نے عوام کو مسائل  و مشکلات میں دھکیل دیا غریبوں کے بچے فاقہ کشی پر مجبور ہیں،آئے روز بحران،اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ، کرپشن،بے روزگاری، مہنگائی عروج پر ہے جو موجودہ حکومت کی نا کا میوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، چیک اینڈ بیلس کا کو ئی نظام نہیں حکمران عوام کو تبدیلی کے وعدے کر کے جھوٹی تسلیاں دیتے آرہے ہیں، جو لمحہ فکریہ ہے،سیرت مصطفیٰؐ ضامن امن عالم ہے۔ علماء مشائخ پیام مصطفیٰؐ عام کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے ہر پہلوؤں میں رہنمائی کرتی ہے۔ کہا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی ضمانت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی‘ معاشی‘ سیاسی نظام کی کامیابیوں کا راز سیرت طیبہ میں ہی ہے۔اور حکمران اور عوام دونوں کے لئے راحت اور سکون اسی پاکیزہ نظام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت میں فرقہ بندی اور دیگر قسم کے اختلافات سیرت طیبہ سے دوری کے باعث ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے سیرت طیبہ کا پیغام گھر گھر پہنچایا  جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -