شہباز شریف ہسپتال کی نئی عمارت میں  منتقلی انتظامیہ کیلئے چیلنج‘ مشورے شروع

  شہباز شریف ہسپتال کی نئی عمارت میں  منتقلی انتظامیہ کیلئے چیلنج‘ مشورے ...

  

 ملتان (وقائع نگار)شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ملتان کی نئی عمارت میں منتقلی کے امکانات محدود ہوتے جارہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ملتان کی نئی تعمیر (بقیہ نمبر12صفحہ 6پر)

کردہ عمارت میں جنوبی پنجاب ہیلتھ سیکرٹریٹ قائم کیا جاچکا ہے۔ گورنر پنجاب سیکرٹریٹ نے کڈنی سنٹر ملتان کی توسیع کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ملتان کی عمارت حوالے کرنے بارے سفارشات پر رائے مانگ لی ہے۔رجب طیب اردگان ٹرسٹ/انڈس ہیلتھ نیٹ ورک بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو مراسلہ بھجوایا تھا کہ تین سال سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ملتان کی عمارت مکمل ہے اور خالی ہے اسے کسی استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔جبکہ کڈنی سنٹر میں مریضوں کا رش روز بروز بڑھ رہا ہے۔لہذا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ملتان کی عمارت کڈنی سنٹر کی توسیع اور کڈنی ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے لئے کڈنی سنٹر کو دی جائے۔جس پر گورنر پنجاب سیکرٹریٹ نے محکمہ صحت پنجاب سے رائے طلب کی ہے۔جبکہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کی  ڈیڈ لائن کے سوا سال گذرنے کے باوجود بھی شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو نئی عمارت میں منتقل نہیں کیا جاسکا ہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر پنجاب نے شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو 30 جون 2019 تک کڈنی سنٹر کے ساتھ تعمیر شدہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نئی عمارت میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ذرائع کے مطابق شہبازشریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کی منتقلی پر حکومت کو کروڑوں روپے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ہسپتال میں اس وقت 140 سے زائد بستر فعال ہیں۔جبکہ میڈیسن،گائنی،جنرل سرجری،کارڈیالوجی،امراض جلد،ریڈیالوجی،پتھالوجی،امراض چشم،ڈائیلسز،انستھیزیا،ایمرجنسی،امراض اطفال سمیت متعدد شعبے کام کر رہے ہیں۔ہسپتال میں ایکسرے،لیب،الٹرا ساؤنڈ،آپریشن تھیٹرز،پیڈز نرسری،ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ و دیگر جدید طبی سہولیات دستیاب ہیں۔

چیلنج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -