ڈیرہ: آر پی او آفس میں روزانہ کی  بنیاد پر کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ

   ڈیرہ: آر پی او آفس میں روزانہ کی  بنیاد پر کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ

  

 ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ‘ سٹی رپورٹر)ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ پولیس(بقیہ نمبر68صفحہ 7پر)

 کی کھلی کچہریوں کا روائتی سافٹ ویئر تبدیل ہو چکا، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایات کی روشنی میں پولیس افسران تک عوام کی رسائی  کوچٹ فری بنا دیا گیا ہے،میرے لئے دفتری امور سے زیادہ عوام کے مسائل اہم ہیں کھلی کچہری سے تھانوں اور پولیس دفاتر میں جانے والی درخواستوں پر 48گھنٹوں میں قانونی کارروائی کا ہونا ناگزیر قرار دے دیا گیا ہے،عوام کے ساتھ کسی بھی پولیس اہلکار یا آفیسر کی قانون شکنی ثابت ہو گئی تو ایسا آفیسر یا اہلکار پولیس فورس کا حصہ نہیں رہے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر لگائے جانے والی کھلی کچہری میں آنے والے مردو خواتین سائلین سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ اگر تھانوں کے ایس ایچ اوز اور سرکلز کے ایس ڈی پی اوز ایک مشتہر شیڈول کے ساتھ اوپن ڈور پالیسی کے تحت کھلی کچہری لگائیں اور اس میں پیش ہونے والے افراد کی درخواستوں پر ماتحتوں سے فالو اپ لیں تو عوام کے بہت سے مسائل ان۔کی دہلیز پر ہی حل ہو جاتے ہیں عوام۔کو دور دراز کا سفر کر کے ڈی پی او یا میرے دفتر آنے کی تکلیف نہ اٹھانا پڑے،آر پی او نے کہا کہ میرے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر لگائی جانے والی کھلی کچہری میں جہاں پر سائلین کے مسائل کے حل کے لئے قانونی کارروائی کے احکامات دئیے جائیں گے وہاں پر اس بات کو بھی چیک کیا جائے گا کہ سائل کامسئلہ مقامی تھانہ،سرکل اور ضلع میں حل کیوں نہیں ہوا آر پی او نے کہا کہ عوام دوست پولیسنگ میں وہی کھلی کچہری نتیجہ خیز اور ثمر آور ہوتی ہے جس میں عوام کے مسائل حل ہوں جن کھلی کچہریوں میں پولیس کی تعریف و توصیف ہو وہ الٹا عوامی مسائل کے حل میں تاخیر کا باعث بنتی ہے،کھلی کچہری میں غلامشبیر،محمد ناظم رضا،سعدیہ نواز،محبوب احمد،حفیظ اللہ،ملک۔ادریس،مختیار احمد،محمد طارق،حافظ احمد علی،سید نیاز حسین شاہ، سلطان محمود،ربنواز خان اور محمد ابرہیم سمیت دیگر مردو خواتین نے اپنی درخواستیں پیش کیں جن پر آر پی او نے متعلقہ افسران کو فوری قانونی کارروائی کے احکامات جاری کئے۔ 

فیصلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -