نظریہ پاکستان ملک کی سلامتی کا ضامن ہے،فیصل بلوچ

نظریہ پاکستان ملک کی سلامتی کا ضامن ہے،فیصل بلوچ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اتحاد اور امن کے لیے سب کو ساتھ دینا ہوگا نظریہ پاکستان ہی ملک کی سلامتی و بقا کا ضامن ہے ان خیالات کا اظہار آواز خلق فاؤنڈیشن کے بانی صدر فیصل علی بلوچ نے بوائز  اسکاؤٹس آڈیٹوریم میں آواز خلق فاؤنڈیشن کے سیمینار بعنوان ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا ظلم کا اندھیرا مٹانا ہوگا حقوق سب کے ادا ہونے چاہئیں اب الزامات کی سیاست کو ترک کرکے اشتراک کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا کارکنان کو قوت برداشت اور عدم تشدد کی سیاست سکھانی ہوگی آج تمام عمائدین شہر یہاں موجود ہیں نقارہ خدا بج چکا ہے جلد ہی پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو خوشخبری دیں گے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا آواز خلق پاکستان میں روشنی اور امید کی کرن ہے اسے سورج کی طرح چمکنا ہوگا اب مظلوموں کو ان کا حق ملے گا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اب فیصل علی بلوچ اور ان کی ٹیم جیسے انرجیٹک افراد کو آگے لانا ہوگا اور ملک کی باگ دوڑ ان کے ہاتھوں میں دینا ہوگی سابق نائب ناظم طارق حسن نے کہا آوازِ خلق فاؤنڈیشن اور اس کی ٹیم نے جس طرح آج شہر کے عمائدین کا گلدستہ سجایا اور سب کو بولنے کا موقع دیا قابل ستائش ہے فیصل علی بلوچ میرے ساتھ کام کر چکے ہیں ان کی محنت اور لگن میں نے دیکھی ہے اب وقت ہے کہ ہم محنتی لوگوں کے ہاتھ میں ملک دیں  ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر جس طرح خاموشی اختیار کی گئی ہے وہ اب ختم ہونی چاہیے ملک میں دیگر بہن بیٹیوں کو کو بھی عافیہ صدیقی کی طرح مظالم سے بچانا ہوگا آواز خلق گونجے گی اس موقع پر پی ایس پی کے مرکزی رہنماء  ارشد وہرہ نے کہا آواز خلق فاؤنڈیشن کیاس سیمینار نے ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور اتحاد کی فضا قائم کی ہے سجاد شبیر رضوی نے کہا کہ فیصل علی بلوچ اور صباء  فضل کے پاس جو جذبہ ہے یہ جذبہ  اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر صباء  فضل اور ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں نے آواز خلق فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد سے شرکاء  کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آواز خلق مظلوم عوام کی آواز ہے نقارہ خدا ہے جو آج شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے ہم موجود ہیں آواز خلق نے تھوڑے ہی عرصے میں اسکول اور کلینک قائم کئے مختلف شعبہ جات نے اپنی تنظیم سازی مکمل کر لی جن میں شعبہ تعلیم، صحت،ادب، زراعت،نفاذ اردو کے علاوہ چاروں صوبوں میں تنظیم سازی کا عمل شروع ہو چکا ہے اس موقع پر نواز ملاح،حافظ احمد علی، حافظ نعیم، مطلوب اعوان، وسیم فاروقی، پروفیسر ڈاکٹر سکندر،  علامہ سجاد شبیر رضوی،  لیاقت کاظمی، اسلم مینائی، نجمہ مینائی، حسین رامپوری، خرم شاہد میؤ ایڈووکیٹ، نفیس احمد، سلیم عکاس، اویس رضا قادری، مرتضی رحمانی،   کرنل مختاراحمد بٹ، مبشر میر، اوشاق میرانی، ڈاکٹر مشیر، محمد اسلم خان ایڈووکیٹ، اوشاق میرانی، اختر محمدی، نعیم خان، صادق شیخ، عبدالقیوم زئی اسلم فاروقی، محمد اشفاق و دیگر عمائدین شہر اور  آوازِ خلق فاؤنڈیشن کے عہدیداران  اظہر جان، سارہ خان،ڈاکٹر یامین قریشی، زیشان حیدر بھٹی، ایچ فضل، خرم قمر انصاری  قاضی ایم نعیم اور لئیق راجپوت  نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -