پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے، نوابزادہ تیمور تالپور 

پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے، نوابزادہ تیمور تالپور 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر برائے انفارمیشن سائنس و ٹیکنالوجی نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا ہے کہ  پاکستان پیپلز پارٹی ایک نظریاتی پارٹی ہے، جس میں ہم ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ یہاں کوئی ذاتی مفادات کی بنا پر تعلق قائم نہیں کرتا بلکہ پیپلز پارٹی کے جیالے نظریئے کی خاطر اپنی قربانیاں دیتے ہیں۔ فیس بک لائیو سیشن کے ذریعے جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان بہت سی ایسی آزمائشوں سے گزرے، دوسری جماعتیں جن کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ پیغام دیا کہ ہم اپنا سر کٹوا تو سکتے ہیں لیکن جھکا نہیں سکتے۔ اج اسی لیگیسی کے ساتھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری اپنے جیالوں کے ہمراہ تمام صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن حق اور سچ کا علم گرنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ ایک روشن اور جمہوری تاریخ ہے، ضیا الحق، پرویز مشرف سمیت کوئی بھی ڈکٹیٹر ہمیں نہیں جھکا سکا۔ اج بھی سب جانتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے سیلیکٹ کیا گیا اور وہ کن کے کاندھوں پر کھڑا ہے، ڈراوے دھمکاوے ہمارے لئے نئے نہیں ہیں، ہمارے بڑوں نے جیلیں دیکھی ہیں، ہم نے جیلیں بھگتی ہیں۔ ہمارے بچے بھی یہ جیلیں دیکھیں گے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمارا عشق کم نہیں ہوگا۔ نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے اپنے سیاسی سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میری سیاسی تربیت اپنی جلا وطنی کے دوران خود شہید بی بی نے کی، جس دوران محترمہ شہید لندن میں جلاوطنی کے دن گزار رہی تھی، ان دنوں میں تعلیم کے سلسلے میں لندن مقیم تھا۔ یوں میں اکثر محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان سے سیاسی تربیت حاصل کرتا رہا۔ محترمہ میرے لئے ایک شفیق والدہ کی طرح تھیں، میرے گریجویٹ ڈنر میں بھی شہید رانی نے شرکت کی، جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جس پارٹی نے ہمیں اتنی عزت بخشی اس کیلئے اگر جان کی قربانی بھی دینا پڑے تو وہ بھی کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت نے ملک و قوم کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، جب محترمہ نے اپنی جلا وطنی کو ختم کرتے ہوئے کراچی میں لینڈ کیا تو وہ اس وقت اپنی جان کو لاحق خطرات سے پوری طرح آگاہ تھیں، اس کے باوجود اپنی عوام کی محبت نے محترمہ کو تمام خطرات سے بے نیاز کر دیا تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -