علماء کرام کوفول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے،قار ی عثمان 

علماء کرام کوفول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے،قار ی عثمان 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ علماء کرام سمیت مذہبی شخصیات سے لی گئی سیکورٹی فوری طور پر واپس کرکے مکمل تحفظ فراہم کیاجائے۔ علماء کو نہتا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ اگر کل تک قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پہیہ جام ہڑتال کی کال دینا علماء کی مجبوری ہوگی۔ علماء کرام کو سیکورٹی فراہم نہ کرنا حکومت اور دہشت گردوں کی منصوبہ بندی تو نہیں؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری بیان میں کیا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرے۔ لیکن ریاست تحفظ فراہم کرنے کے بجائے علماء کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے۔ علماء کرام کو نہتاء کرکے کہیں حکومت دہشت گردوں کی معاونت تو نہیں کررہی؟ انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے علماء کرام سے سیکورٹی واپس لے لی ہے جسمیں تمام اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ اگر علماء کرام پر قاتلانہ حملوں کا سلسلہ نہ رکا توہر قسم کے حالات کی ذمہ داری کمشنر کراچی، آئی جی سندھ اور سندھ حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کو 3 روز ہوگئے لیکن اب تک نہ تو مقدمہ درج ہوسکا اور نہ ہی قاتلوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ ہماری امن پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ علماء کرام معاشرے کا جھومر اور امن کے داعی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ علماء کرام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔ 

مزید :

صفحہ آخر -