منی لانڈرنگ کیس: شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع

منی لانڈرنگ کیس: شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع
منی لانڈرنگ کیس: شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں ایک ہفتے کی توسیع کردی اور 20 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کاحکم دیدیا۔

احتساب عدالت میں شہبازشریف خاندان کیخلا ف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت ہوئی،منی لانڈرنگ ریفرنس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور حمزہ شہباز احتساب عدالت میں پیش ہوگئے۔ نیب حکام نے شہباز شریف کا مزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا۔

 لیگی رہنما شہباز شریف نے کہا عدالت نے گزشتہ سماعت پر کھانے سے متعلق قابل ستائش حکم دیا، جج صاحب سب کو علم ہے مجھے کمر کی تکلیف ہے، کمر درد کے باعث گھر سے منگوائی کرسی نیب نے واپس لے لی، عمران خان اور شہزاد اکبر کے حکم پر نیب نے کرسی واپس لی، عام کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا اور کھانا کھاتا ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کمر درد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ نیب والوں کو قانون کے مطابق حکم دیا جائے۔ جس پر فاضل جج نے کہا آپ درخواست لکھ کر دیں، تفصیلی حکم عدالت جاری کر دے گی۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیاکہ یہ پراپرٹی میں نے غریب الوطنی میں 2005 میں خریدیں، میں جب پاکستان لوٹا تو مجھے پرویز مشرف نے زبردستی واپس بھیجا،2005 میں جب برطانیہ پہنچا تو میں نے زندہ رہنے کیلئے کچھ تو کرنا تھا،10 سال وہاں گزارے ،2005 سے پہلے کوئی بیرون ملک اثاثہ نہیں تھا، میرے سیکرٹری ڈاکٹر توقیر تھے وہ ابھی بھی حیات ہیں ،2008 میں ڈاکٹر توقیر کو کہامیرے خاندان کو ایک دھیلا بھی قرضہ نہیں دینا،پنجاب بینک سے میرے خاندان کو کوئی قرض نہیں دیاگیا۔

شہبازشریف نے کہاکہ میں نے کہیں بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،اس سے زیادہ میری دیانت کی اورکیامثال ہو سکتی ہے ، میں اپنا کینسر کاعلاج کرانے جاتا ہوں،میراجینا مرل پاکستان کیلئے ہے، اس لئے 2004 میں پاکستان آیا تھا، جنرل پرویز مشرف نے 2005 میں واپس سعودی عرب بھیج دیا۔

جب میں لندن گیاتووہاںسوچا کرایہ دے کر رہنا ممکن نہیں ،2005 میں فیصلہ کیا پیسے ختم ہو جائیں گے تو کیا ملکہ کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاﺅں گا،نیب والے 100 فیصد غلط بیانی کررہے ہیں ، مجھے کوئی دستاویزات نہیں دکھائے گئے ،

وکیل شہبازشریف نے کہاکہ جس جرا¿ت کے ساتھ یہ بول رہے ہیں میں تو ڈرتا ہوں،یہ ریکارڈ مکمل دے چکے ہیں،عدالت ایک مرتبہ ریفرنس دیکھ لے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ ان کے اکاﺅنٹس میں ٹی ٹیزآئی ہیں ،شہبازشریف نے کہاکہ اگریہ ثابت کردیں میرے اکاﺅنٹ میں ٹی ٹیز آئیں تو میں سرنڈر کردوں گا،پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ٹی ٹیز ان کے کمپنیزاکاﺅنٹس میں آئیں ،عدالت نے کہاکہ اگر یہ جواب نہیں دیتے تو کس کانقصان ہے؟،پراسیکیوتر نیب نے کہاکہ اگریہ جواب نہیں دیتے تو آگے جاکر ان کو نقصان ہوگا،ہم نے شہبازشریف سے ریکارڈ کنفرم کراناہے،سلمان شہباز نے رقوم ان کو بھیجیں،کل سوالنامہ دیا،لندن کے بینک سے بھی ریکارڈ مانگ لیا۔

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی اور 20 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کاحکم دیدیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -