ایبٹ آباد آپریشن، کونسے آپشن امریکہ کے زیر غور رہے، لاش دینے کی پیشکش پر سعودی عرب نے کیا جواب دیا؟ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر کے حوالے سے مقامی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا

ایبٹ آباد آپریشن، کونسے آپشن امریکہ کے زیر غور رہے، لاش دینے کی پیشکش پر ...
ایبٹ آباد آپریشن، کونسے آپشن امریکہ کے زیر غور رہے، لاش دینے کی پیشکش پر سعودی عرب نے کیا جواب دیا؟ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر کے حوالے سے مقامی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا اور انہیں جان بوجھ کر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملے سے قبل اسامہ کا نک نیم دی پیسر(The Pacer) تھا اور آپریشن کا غیرسرکاری نام دی مکی ماﺅس آپریشن(The Mickey Mouse Operation) تھا۔ انہوں نے یہ تفصیلات اپنی نئی کتاب ان ڈانٹڈ(Undaunted) میں درج کی ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کا کوئی سینئر فوجی یا سویلین افسر اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں نہیں جانتا تھا مگریہ معلوم نہیں کہ اسامہ بن لادن کو نچلے لیول پر پاکستانیوں نے تحفظ دیا تھا یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم افغانستان اور عراق میں ایسے حملے ہر رات کرتے تھے مگر وہاں کی فضاﺅں پر ہمارا قبضہ تھا، پاکستان میں صورتحال مختلف تھی، ہمارے ہیلی کاپٹرز نے ڈیڑھ سو میل تک پاکستان کے اندر جانا اور آپریشن مکمل کرکے واپس آنا تھا، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان بھی خوش نہ ہوتا۔انہوں نے بتایا بی 2 بمبار طیارے سے حملہ اور لیزر گائیڈڈ میزائل حملے پر بھی غور کیا گیا،بی 2 بمبار سے حملے کا آپشن شروع میں ہی ختم کردیا گیا،ٹیکٹیکل ہتھیار کی مدد سے اسامہ بن لادن کو چہل قدمی کے دوران نشانہ بنانے پر بھی غور ہوا، میزائل حملے کی صورت میں پاکستان کے سخت ردعمل کے بارے میں بھی غور کیا گیا،بی 2 بمبار یا میزائل حملے کی صورت میں اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا،میزائل حملے میں یہ پتہ نہ چلتا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا اور القاعدہ دعویٰ کرسکتی تھی کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔انہوں نے بتایا اجلاس میں پاکستان کو آپریشن کے بارے میں بتانے کی تجویز مسترد کردی گئی، سب کی رائے تھی کہ پاکستان مشترکہ آپریشن پر متفق ہوگا نہ ہی امریکہ کواکیلے آپریشن کرنے دے گا۔انہوں نے لکھا ہے کہ معاونین اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے طور پر آپریشن ہی ایک قابل عمل منصوبہ ہے ، اس کے بعد منصوبے کی جزئیات اور خدشات پر غور کیا گیا۔انہوں نے بتایا اوباما نے لڑائی کے خدشے کا اظہار کیا جبکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سب سے زیادہ خوش تھیں۔برینن نے لکھا ہے کہ میرے سکیورٹی کیریئر میں ایبٹ آباد آپریشن سب سے سخت، خفیہ اور کامیاب آپریشن ہے۔ انہوں نے بتایا اس سے قبل جب لیون پنیٹا نے بتایا کہ سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے ایلچی کی رہائشگاہ کا پتہ چلا لیا تو صدر اوباما نے کہا بہترین کام کیا لیون، اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں، اس پر گہری نظر رکھیں،اس کے بعد فروری کے آخر تک خفیہ معلومات کا حصول، پلاننگ کو تیز کردیا گیا، 4 مارچ کے پرنسپلز کمیٹی اجلاس میں سی آئی اے کی جانب سے ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ کا 4 فٹ کا ماڈل پیش کیا گیا،یکم مئی کو آپریشن تک نیشنل سکیورٹی کے 17 اجلاس ہوئے ،ایبٹ آباد آپریشن کے وقت کا تعین معاون موسم، اندھیرے پر منحصر تھا اور فیصلہ کیا گیا کہ یہ آپریشن اس وقت ہو جب چاند کی روشنی کم سے کم ہو۔انہوں نے بتایا کہ اگر پاکستان کی جانب سے مزاحمت ہوتی ہے تو اس کیلئے ہنگامی منصوبہ بھی بنایا گیا،جب پوچھا گیا کہ آپریشن کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہے تو بتایا گیا کہ پہلے ٹیم بنائی جائے گی اور پھر ڈریس ریہرسل ہوگی، اس میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں،یہ خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار حملہ آور ٹیم کو آسانی سے واپس نہیں آنے دیں گے اور اس صورتحال میں سفارتی رابطوں کی تجویز پیش کی گئی، حملہ آور ٹیم کے پکڑنے جانے کا خطرہ تھا مگر صدر اوباما نے اہلکاروں کی رہائی کے لئے مذاکرات کے خیال کو مسترد کردیا۔صدر اوباما نے دریافت کیا کہ پاکستان کیسا ردعمل دے گا؟ کیا وہ افغانستان کیلئے سپلائی بند کردے گا یا حقانی نیٹ ورک پر کنٹرول ختم کردے گا؟انہوں نے بتایا کہ خیال کیا جارہا تھا کہ آپریشن کو کھلے عام قبول کیا جائے گا مگر ہم کس وقت ایسا کرینگے ؟غور کیا جارہا تھا سفارتی حکمت عملی کیا ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ اس سب میں آخری بات یہ تھی کہ اگرمارا جانے والا شخص اسامہ بن لادن ہی ہو اور سویلین ہلاکتیں نہ ہوں تو پاکستان سے تعلقات پر پڑنے والے اثر کو زائل کیا جاسکتا ہے۔صدر اوباما نے کہا کہ وہ امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی سکیورٹی کا پلان بھی چاہتے ہیں۔اوباما نے کہا امکانات ففٹی ففٹی ہیں اور اگر یہ 40فیصد بھی ہیں تو یہ پہلے امکانات سے 40فیصد ہی زائد ہیں اور پھر صدر نے منظوری دیدی، اس وقت امریکہ میں دن کے ساڑھے 12 اور پاکستان میں رات کے ساڑھے 3 بجے تھے۔برینن نے لکھا ہے کہ اس کے کچھ دیر بعد ہی ہمیں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ پہنچے والے ہیں، ہم سب نے آپریشن دیکھا مگر ہمیں مکمل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہورہا ہے۔انہوں نے لکھا ہم سب لوگ یہ سب خاموشی سے دیکھ رہے تھے اور اسی دوران وائٹ ہاﺅس کا چیف فوٹوگرافر پیٹے سوزا آگیا اور اس نے تصویر بنالی جو بعد میں بہت مشہور ہوئی،جنرل ویب کو 3بج کر 50 منٹ پر پیغام موصول ہوا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا مگر اس پر بہت خوشی نہیں منائی گئی کیونکہ سب جانتے تھے کہ جب تک آپریشن میں شریک ٹیم واپس افغانستان نہیں پہنچ جاتی، اس وقت تک آپریشن کو کامیاب نہیں کہا جاسکتا،امریکی ٹیم جب ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے کے بعد واپس روانہ ہونے والی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ پاکستانی ائیرفورس اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو اندازہ تھا کہ ایبٹ آباد میں کچھ غیرمعمولی ہورہا ہے ،پاکستان نے کچھ طیارے بھی ہوا میں اڑائے ،جب امریکی ٹیم واپس افغانستان پہنچ گئی تو سب سے پہلے رات 8 بج کر 2 منٹ پر مائیک ملن نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون پر آپریشن کے بارے میں بتایا اور وضاحت پیش کی۔برینن نے بتایا کہ سعودی شہزادہ محمد کو اطلاع دینا میری ذمہ داری تھی، جب میں نے شہزادہ محمد کو فون کیا اور بتایا کہ اسامہ بن لادن کو مار دیا گیا تو شہزادہ محمد نے کہا مبارک ہو اور وہ ٹیم کیسی ہے جس نے آپریشن کیا، میں نے بتایا کہ وہ بھی خیریت سے ہے ، اس کے بعد شہزادہ محمد کو اسامہ بن لادن کی لاش حوالے کرنے کی بھی پیش کش کی گئی مگر شہزادہ محمد نے لینے سے انکار کردیا۔

مزید :

بین الاقوامی -