”اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ را سے رابطے میں تھا ،پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں “ معاون خصوصی معید یوسف کا بھارتی نیوز ویب سائٹ کو انٹر ویو

”اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ را سے رابطے میں تھا ،پاکستان کے پاس ثبوت موجود ...
”اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ را سے رابطے میں تھا ،پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں “ معاون خصوصی معید یوسف کا بھارتی نیوز ویب سائٹ کو انٹر ویو

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بھارتی ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی دہشت گردی کو مالی امداد فراہم کرنے کے بھی ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ بھارت نے اے پی ایس حملے کو سپانسر کیا، جس میں معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ڈان نیوز کے مطابق بھارتی نیوز ویب سائٹ 'دی وائر' پر شائع ہونے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ حملے سے قبل ٹی ٹی پی کمانڈر کو بھارت سے کی جانے والی 8 فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ ایک ہمسایہ ملک میں بھارتی انٹیلی جنس ہینڈلرز نے گزشتہ دو برس میں کراچی میں چینی قونصل خانے، گوادر میں پی سی ہوٹل اور سٹاک ایکسچینج پر حملے کروائے تھے۔اے پی ایس حملے کا ماسٹر مائنڈ حملے کے وقت بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطے میں تھا ۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بی ایل اے کے دہشت گرد نے نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں علاج کروایا ہے۔ ڈاکٹر معید نے بتایا کہ حال ہی میں 'را' افسران کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے 10 لاکھ ڈالر دیے گئے۔واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کیے جانے والے بعد کسی بھی پاکستانی سینئر عہدیدار کا یہ بھارتی صحافی 'کرن تھاپر' کو پہلا انٹرویو ہے۔

مزید :

قومی -