پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے شرط رکھ دی 

پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے شرط رکھ دی 
پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے شرط رکھ دی 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے شرائط رکھ دیں۔انہوں نے کہا کہ ہے اگر مقبوضہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے بھارت سنجیدہ ہے تو نئی دہلی کو پہلے مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی جائے اور غیر انسانی فوجی محاصرے کو ختم کیا جائے۔ڈان نیوزکے مطابق بھارتی نیوز ویب سائٹ ”دی وائر“کو دئیے گئے انٹر ویو میں معید یوسف نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی سے متعلق لاگو قانون کو منسوخ کرے اور ادھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی نے وزیر اعظم عمران خان کے مو¿قف کا اعادہ کیا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔

انہوں نے بھارتی ناظرین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری سیاست دانوں نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی اب بھارتی قبضے میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔معید یوسف نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری پاکستان کے مطابق تنازع میں اصل فریق ہیں اور ان کی خواہشات اور امنگوں کو کسی بھی مکالمے میں لازمی رکھا جائے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پاکستان اور خطے کی خوشحالی کے لیے معاشی استحکام اور راہداری کا ویڑن رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت خطے میں تنہا رہ گیا ہے جبکہ پاکستان اپنے پڑوس میں امن کا خواہاں ہے۔دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کے جواب میں ڈاکٹر یوسف نے کہا کہ پاکستان نے عدالتوں میں زیر التوا تمام معاملات میں تحقیقات میں مدد فراہم کی لیکن بھارت ثبوت فراہم نہ کرکے تحقیقات میں تاخیر کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کا حل تلاش نہ کرنے سے بھارت کو دہشت گردی کے جھوٹے بیانیہ میں مدد ملی۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس کیس جیسی دہشت گردی میں ملوث ہندو پرست دہشت گردوں کو ہندوستانی عدالتوں نے رہا کر دیا۔

مزید :

قومی -