کیا پب جی  گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ آ گیا 

کیا پب جی  گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟جامعہ بنوری ٹاؤن کا ...
کیا پب جی  گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ آ گیا 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جدید دور میں انٹر نیٹ نے نوجوانوں اور بچوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے،انٹرنیٹ کی آسان رسائی نے نوجوانوں اور کم عمر بچوں کے لئے ویڈیو گیمز کو انتہائی سستا اور آسان کر دیا ہے ،اس وقت لاکھوں گیمز نوجوانوں کی رسائی میں ہیں تاہم "پب جی "واحد ایسی گیم ہے جس سے ہر کوئی متاثر نظر آتا ہے،حال ہی میں حکومت پاکستان نے "پب جی " پر پابندی عائد کی تھی تاہم یہ پابندی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی ،اب حال ہی میں ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے "پب جی "کی حرمت بارے ایسا فتویٰ جاری کردیا ہے کہ میڈیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے دارالافتاء سے سوال پوچھا گیا کہ "کیا پب جی گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتاہےاورکیااس کا نکاح باقی نہیں رہتا ؟"جس کےجواب میں فتویٰ جاری کرتےہوئےکہاگیاہےکہ "پب جی  گیم میں بعض دفعہ پاور حاصل کرنے کے لیے گیم کھیلنے والے (sanhok) کو بتوں کے سامنے پوجا کرنی پڑتی ہے اور گیم کھیلنے والے شخص کا گیم میں موجود اپنے کھلاڑی کو پاور حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے جھکانا اور بتوں کی پوجا کروانا اس کا اپنا فعل ہے، گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی اسی گیم کھیلنے والے کا عکاس اور ترجمان ہے اور مسلمان کا توحید کا عقیدہ ہوتے ہوئے بتوں کے سامنے جھکنا شرک فی الاعمال ہے، اور گیم میں یہ عمل کرنے سے رفتہ رفتہ بتوں کے سامنے جھکنے کی قباحت بھی دل سے نکل جائے گی، لہذا یہ گیم کھیلنا ناجائز ہے اور پب جی گیم میں بتوں کے سامنے جھک کر پاور حاصل کرنا شرک ہے، اور عمدًا اس کو کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا، ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی کرنا ضروری ہے۔اور اگر کوئی شخص پب جی گیم میں شرک کا کوئی عمل نہیں کرے پھر بھی شرک پر راضی رہنے اور کئی اور مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پب جی گیم کھیلنا جائز نہیں ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -