”خبروں کے مطابق کراچی میں بجلی ممبئی سے کنٹرول ہوتی ہے،شرما ورما نام کے لوگ شیئرہولڈرز ہیں“

”خبروں کے مطابق کراچی میں بجلی ممبئی سے کنٹرول ہوتی ہے،شرما ورما نام کے لوگ ...
”خبروں کے مطابق کراچی میں بجلی ممبئی سے کنٹرول ہوتی ہے،شرما ورما نام کے لوگ شیئرہولڈرز ہیں“

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کے الیکٹرک پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں پر تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خبروں کے مطابق کراچی اور بلوچستان میں بجلی ممبئی سے کنٹرول ہوتی ہے جبکہ اخباروں میں خبریں لگی ہیں شرما ورما نام کے لوگ شیئر ہولڈرز ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے سندھ میں لوڈشیڈنگ ازخود نوٹس کیس میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ خبروں کے مطابق کراچی اور بلوچستان میں بجلی بمبئی سے کنٹرول ہوتی ہے جبکہ اخباروں میں خبریں لگی ہیں شرما ورما نام کے لوگ شیئر ہولڈرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہیٹ ویوآ گئی ہے اور بجلی کا مسئلہ یوں کا توں ہی ہے، اوپر سے بجلی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نہ ہی صوبائی حکومت کچھ کر رہی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیپرا اور پاور ڈویژن کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں کیونکہ ایسے ملازمین کے ہونے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے جبکہ حکومتی اداروں میں بھی صلاحیت کا سنجیدہ فقدان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آدھاکراچی رات کو اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی بنیادی حق ہے اور اس ضمن میں کے الیکٹرک والوں پر بھاری جرمانہ عائد کر سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کراچی شہر کا ہر ادارہ ختم ہو چکا ہے عوام کو کوئی سروس نہیں مل رہی جبکہ کراچی کے حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔

مزید :

قومی -