ہم زبان (جدہ) کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے تعزیتی مشاعرہ کاانعقاد، علمی و ادبیات شخصیات کی شرکت

ہم زبان (جدہ) کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے تعزیتی مشاعرہ کاانعقاد، علمی و ...
ہم زبان (جدہ) کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے تعزیتی مشاعرہ کاانعقاد، علمی و ادبیات شخصیات کی شرکت

  

مکہ مکرمہ (محمدعامل عثمانی) محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے انتقال پر ملال نے دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو دل گرفتہ کر دیا ہے، علمی وادبی تنظیم ہم زبان کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے زیر اہتمام ڈاکٹر عبد القدیر خان  کی یاد میں یادگار تعزیتی تقریب انکی وفات کے چند گھنٹوں بعد اسی دن منعقد کی گئی  جس میں شعراء کرام اور دیگر اہم علمی و ادبی شخصیات نے انھیں بھرپور شعری اور نثری خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب کی صدارت عالمی شہرت یافتہ شاعرہ ریحانہ روحی نے کی جبکہ مہمانان خصوصی میں ممتاز نعت گو شعرا اطہر نفیس عباسی ، سید محسن رضی علوی اور معروف شاعرہ زیب النساء زیبی شامل تھے۔ تقریب کی نظامت معروف شاعر ڈاکٹر محمد سعید کریم  بیبانی نے کی۔ 

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکی سعادت ڈاکٹر محمد بیبانی کو حاصل ہوئی جسکے بعد عمان سے معروف نعت خوان مسز بشری تنویر نے خوش الحانی سے نعت شریف پڑھی۔ مکہ مکرمہ سے تعلق رکھنے والے  معروف صحافی محمد عامل عثمانی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے اپنے قریبی تعلق اور ان سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔

اسلام آباد سے ممتاز قلم نگار فوزیہ عباس نے اپنے مقالے میں مرحوم ڈاکٹر عبد القدیر خان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور انکی عظیم خدمات کا ذکر کیا۔ جن شعرا نے مشاعرے میں حصہ لیا ان میں ریحانہ روحی، اطہر عباسی، سید محسن رضی علوی، زیب النساء زیبی، تنویر پھول، سید خادم رسول عینی، میاں محمد انیس، شہناز رضوی، طاہرہ رباب، زمرد سیفی اور شگفتہ شفیق شامل ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہم زبان کے صدر ڈاکٹر بیبانی نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی قوم نے اپنے محسن کی قدر نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ جہاں بھی جاتے عوام انکے ہاتھ چومتے اور کھڑے ہو کر استقبال کرتے۔ عام عوامی مقامات پر وہ جاتے تو لوگوں کا ہجوم جمع ہو جاتا اور ٹریفک جام ہو جاتی۔ وہ واحد پاکستانی ہیں جنھیں دو مرتبہ  تمغہ امتیاز ملا ۔ علاوہ ازیں انھیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر بیبانی نے اطمینان کااظہار کرتے ہوے کہا انکے انتقال پر قومی پرچم سر نگوں کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کیا گیا ہے۔ انکی تدفین  انکے خاندان کی خواہش پر  ایچ ایٹ قبرستان میں ہوئی۔ تقریب کے اختتام پر محمد عامل عثمانی نے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

مزید :

بین الاقوامی -