عائشہ اکرم نے رضا مندی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں اور وائرل کیں ، نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ

عائشہ اکرم نے رضا مندی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں اور وائرل کیں ، نجی ٹی ...
 عائشہ اکرم نے رضا مندی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں اور وائرل کیں ، نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ

  

لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سانحہ گریٹر اقبال پارک میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ، نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ عائشہ اکرم نے مرضی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں اور سوشل میڈیاپر وائرل کیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق قابل اعتراض ویڈیوز بنوانے اور وائرل کرنے پر عائشہ اکرم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلئے لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رائے طلب کی گئی ہے ۔ پولیس کے مطابق مرضی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوانا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جرم ہے ، ٹک ٹاکر عائشہ اور ریمبو کی قابل اعتراض ویڈیوز وائرل ہوئیں ۔

واضح رہے کہ اگست کے تیسرے ہفتے میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے مطابق ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے ساتھ 14 اگست کے روز سینکڑوں افراد نے دست درازی کی تھی اور کپڑے بھی پھاڑ دیے تھے  مگر یہ واقعہ سامنے نہ آیا ،  واقعے کے تین سے چار روز کے بعد  ویڈیو منظر عام پر آئی جس کے بعد  یہ کیس سامنے آیا  اور پولیس نے بیسیوں افراد کو گرفتار کر کے مقدمے کا آغاز کیا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ معاملہ ایک نیا موڑ لے رہا ہے ۔

چند روز قبل عائشہ اکرم نے ٹک ٹاک ویڈیوز میں ساتھ دینے والے اپنے ہی ساتھی ریمبو پر گریٹر اقبال پارک سانحے کا الزام لگا کر اسے گرفتار کرا دیا ،  نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عائشہ اکرم نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال کو اپنا تحریری بیان جمع کروا یا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پرگریٹر اقبال پارک جانے کا پلان ریمبو نے بنایا جبکہ ریمبو نے میری متعدد نازیبا ویڈیوز بنارکھی ہیں اور ان ویڈیوز کے ذریعے مجھے بلیک میل کرتا ہے۔

عائشہ اکرم کے بیان کے مطابق میں اپنی آدھی تنخواہ ریمبو کو دیتی تھی جبکہ وہ بلیک میلنگ کے ذریعے مجھ سے اب تک 10لاکھ روپے لے چکا ہے، ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے۔ ریمبو چو نکہ میرے ساتھ سائے کی طرح موجود رہتا تھا اس لئے پولیس کو نہیں بتا سکی ، اب ریمبو کو پیسے دے دے کر تھک گئی ہوں اس لئے پولیس کی مدد لینے کافیصلہ کیا ہے۔

عائشہ کی درخواست پر  ریمبو کے علاوہ دیگر چھ افراد کو بھی حراست میں لیا جس کے بعد  عائشہ اکرم  اور ریمبو کی آڈیو کالز  سامنے آئیں جس میں دونوں نے مقدمہ میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے پیسے لینے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ ایک کال میں ریمبو کہتا ہے کہ ملزمان غریب ہیں وہ زیادہ پیسے نہیں دے سکتے ۔

ایک کال میں ریمبو کہتا ہے کہ تم جہاں جاتی ہوں  میرے پاس وہاں کی ویڈیوز ہیں وہ ویڈیو لیک کروں گا،عائشہ اکرم کہتی ہے کہ میں گھر میں رہتی ہوں تم مجھ پر پابندیاں نہیں لگاسکتے۔ریمبو کہتا ہے کہ تم نے میری زندگی تباہ کردی ہے۔تمہاری ایک ایک ویڈیو اور تصویر میرے پاس موجود ہے۔تم نے مجھے برباد کیا ہے۔عائشہ اکرم کہتی ہے کہ تم میرے خاوند نہیں ہو جو مجھ پر پابندیاں لگاؤ۔

ایک کال میں ریمبو کہتا ہے کہ' نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دے آ گے' میرے پاس تمہارے سارے نمبر پر ہیں۔میری برداشت ختم ہوگئی ہے۔میں سب کو ویڈیوز واٹس ایپ کروں گا میں بھی ساتھ مروں گا اور تمہیں ماروں گا۔

ایک کال میں ریمبو پوچھتا ہے کہ ملزم چھ ہیں یا سات؟ جس پر عائشہ اکرم جواب دیتی ہے کہ چھ ۔جس پر ریمبو کہتا ہے کہ فی مجرم سمجھوتے کے لیے کتنے پیسے لیے جائیں تمہیں پتہ ہے سب غریب ہیں۔ جس پر عائشہ اکرم کہتی ہے انہوں نے مشکل سے پانچ پانچ لاکھ کرنا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -لاہور -