قبلہ اول کی پکار……اسلامی ممالک کی خاموشی لمحہ ئ فکریہ

    قبلہ اول کی پکار……اسلامی ممالک کی خاموشی لمحہ ئ فکریہ
    قبلہ اول کی پکار……اسلامی ممالک کی خاموشی لمحہ ئ فکریہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 دو جہانوں کے سردار نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے تقرب کے لئے دنیا میں تین مساجد کے سفر کی تاکید فرمائی ہے اس میں بیت الحرام، مسجد نبویؐ، مسجد اقصیٰ شامل ہیں۔قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے حوالے سے تاریخ بتاتی ہے دنیا میں بیت اللہ کے بعد مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی گئی۔ بتایا گیا ہے بیت اللہ کی تعمیر کے تقریباً40 سال بعد اس مسجد کی تعمیر ہوئی، بعض روایات میں آتا ہے اس کی تعمیر حضرت عمرؓ کے دور میں ہوئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام  اور حضرت سلمان علیہ السلام نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی مضبوط روایات موجود ہیں، گنبد جو نمایاں نظر آتا ہے یہودی جس دیوار کو مقدس سمجھتے ہیں وہ مسجد اقصیٰ سے ملحق ہے اسے دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔ اہل یہود کے لئے دیوارِ گریہ مقدس ترین دیوار ہے جہاں جا کر یہودی گریہ زاری کرتے، یعنی روتے ہیں۔دلچسپ بات جو سامنے آئی ہے اہل پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان گنبد (ڈوم) کو مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ کے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس پتھر پر بیٹھ کر معراج کا سفر کیا اس کو مسجد اقصیٰ سے ملحقہ گنبد میں تعمیر کیا گیا ہے، عمرہ پر جانے والے اِس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔مدینہ منورہ مسجد قبلتین موجود ہے جس میں ہر عمرہ پر جانے والا دو نفل پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اس مسجد میں باقاعدہ قبل اول سے قبلہ مسجد الحرام میں تبدیلی کے عمل کی نشاندہی کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے اللہ کے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں تھے بیت اللہ موجود تھا جب نماز ادا کرتے تھے اِس انداز میں کھڑے ہوتے خانہ کعبہ بھی ان کے سامنے ہوتا اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ بھی ان کے سامنے ہوتی،ہجرت کر کے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھا کرتے تھے،مسلسل اللہ سے مسجد الحرام کو قبلہ بنانے کی درخواست اپنی دعاؤں میں کرتے رہتے۔مدینہ منورہ میں موجودگی کے17ماہ بعد ایک دن دو گرہوں کی صلح کے لئے گئے وہاں صلح کرائی،ان افراد نے اللہ کے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیافت کی اور درخواست کی، آپ نماز بھی پڑھائیں، اللہ کے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو دوران نماز ہی وحی آ گئی اور نماز کے دوران ہی رخ مسجد اقصیٰ سے مسجد الحرام کی طرف موڑنے کا حکم آ گیا۔فرمانِ خدا وندی کے حکم کی تعمیل کی  گئی اور اس دن سے مسلمانوں کا قبلہ مسجد الحرام بن گیا۔مدینہ منورہ میں موجود مسجد قبلتین بالکل اسی جگہ تعمیر کی گئی ہے جہاں اللہ کے نبی نے نماز پڑھائی اور دورانِ نماز رُخ موڑنے کا حکم آیا۔اللہ نے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دُعا قبول کرتے ہوئے قبلہ تو مسجد الحرام کو بنا دیا مگر رہتی دنیا تک مسجد اقصیٰ قبل اول ہی رہے گی اور اس میں نماز پڑھنے کی سعادت بھی اللہ کے نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ملتی رہے گی اسی لئے دنیا میں تین مقامات یعنی، تین مقدس مساجد میں مسجد اقصیٰ، یعنی قبلہ اول شامل ہے جو اللہ کی رضا کا بہترین حصول ہے۔ مسجد الحرام(خانہ کعبہ) مسجد نبویؐ اور مسجد اقصیٰ کا مقام رہتی دنیا تک انفرادیت کے حامل رہیں گے۔

سوال پیدا ہوتا ہے یہودی کس انداز میں اپنا حق جتاتے ہیں دیوار گریہ پر جا کر رونے کو کیوں سب کچھ سمجھتے ہیں،آج کی نشست میں بحث مقصود نہیں ہے البتہ ایک بات طے ہے حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب کے صاحبزادے یہودہ کی نسل یہودی ہیں۔یہودی حضرت ابراہیم کی اولاد اپنے آپ کو سمجھتے تھے جس کا اللہ نے قرآن عظیم الشان میں دو ٹوک انداز میں فرما دیا۔حضرت ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی،حضرت ابراہیم مسلمان تھے اسرائیل جو یہودیوں نے نام رکھا اس کو بھی حضرت یعقوب سے منصوب کر  رکھا ہے۔ فلسطین کی سرزمین اس لئے متنازعہ رہ گئی مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقام ہے یہودی بھی اس کو اپنے لئے مقدس ترین سمجھتے ہیں۔فلسطین کی سرزمین اس لحاظ سے انفرادیت کی حامل ہے اس میں درجنوں نبی تشریف لائے۔ حضرت عیسیٰ کی وجہ سے یہود یوں مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی اس سرزمین کو مقدس سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے مسلمان اور یہودی عرصے سے آپس میں نبرد آزما ہیں۔1857ء میں حماس بھی اسی ردعمل میں وجود میں آ گئی۔1948ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد یہودیوں نے اپنا  پھیلاؤ بڑھایا اور پوری دنیا کے لئے یہودیوں کا مرکز بنا دیا اور فلسطینی عوام کے لئے جینا دوبھر کر دیا اس کے لئے فلسطینیوں کے بچے خواتین اور جوان شکار ہوتے رہے ہیں۔ نصف صدی میں ہزاروں بچے بچیاں اور جوان یہودیوں کی درندگی کی نظر ہو چکے ہیں،فلسطین کا کوئی شہر ایسا نہیں ہے جو یہودیوں کی بمباری سے محفوظ ہو۔ الاؤ جو فلسطینی جوانوں میں پک رہا تھا طوفان الاقصیٰ اسی کا شاخسانہ ہے۔7000 میزائل داغنا اور عارضی بنائی گئی چھتریوں کے ذریعے اسرائیل کے شروں میں اترنا اور 28 سال پہلے لگائی باڑھ کو ہٹانا اُمت مسلمہ کے جوانوں کے لئے اُمید کی نئی کرن ہے۔

امریکہ بہادر سمیت طاغوتی قوتوں نے اسرائیل کو ناقابل تسخیر ریاست قرار دیتے ہوئے دنیا میں امریکہ کے بعد سب سے پاور فل سٹیٹ قرار دیا ہوا تھا اب تک1200 سے زائد اسرائیلیوں کے جہنم واصل ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مجاہدین فلسطین کی طرف سے طوفان اقصیٰ کے نام سے محمد الضیف کی قیادت میں شروع کی گئی جدوجہد پر دنیا بھر کے58اسلامی ممالک میں صرف ایران کی طرف سے کھل کر حمایت کا اعلان ہوا ہے۔عرب امارات نے دو کروڑ ڈالر امداد بھیجنے کا اعلان کیا۔57 ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اس کی مجبوریاں، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک کی گرفت اور امریکہ بہادر کا دباؤ سامنے آیا ہے۔ مجاہدین کے حملے کے بعد اسرائیلی درندوں کی بمباری سے درجنوں عمارتیں اور شہر مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں، سینکڑوں ہلاکتوں سمیت ہزاروں بچے بچیوں اور جوانوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔75سال سے سن رہے تھے مسجد اقصیٰ قبضے میں ہے،8اکتوبر کے بعد اندازہ ہوا صرف مسجد اقصیٰ آزاد ہے باقی57ممالک یہودیوں کے قبضے میں ہیں۔ پاکستان سمیت اسلامی ممالک کھل کر جہاد کا اعلان کرنا تو دور کی بات امدادی سامان جمع کرنے کے لئے فنڈ قائم کرنے سے بھی گریزاں ہیں،طوفان الاقصیٰ کے مجاہدین کی طرف سے مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانے کے اعلان سے اُمت مسلمہ میں نیا جوش اور ولولہ پیدا ہونا چاہئے تھا جو نظر نہیں آ رہا۔میڈیا کا کردار بھی مشکوک نظر آ رہا ہے۔فلسطینی مجاہدین کے حملے کو نائن الیون سے جوڑا جا رہا ہے جو سرا سر زیادتی ہے اور بحیثیت مسلمان دین سے لاعلمی کی انتہا ہے اللہ نے اِس دنیا اور انسان کو بنانے کا فلسفہ دیا ہے، کوئی چیز بھی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔ بندے سے اس کا انفرادی اور اجتماعی حساب ضرور ہو گا وقت آ گیا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنا جائزہ ضرور لیں،ہم کہاں کھڑے ہیں ہم یہودیوں کے پھیلائے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ بنیں یا مجاہدین فلسطین کی طرف سے شروع کیے گئے جہاد کا حصہ۔موت کے خوف نے امت مسلمہ کو گھیر رکھا ہے اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے مسلمان اب بھی قبلہ اول کی حمایت میں نہیں نکلے تو ایسی زندگی کا کیا فائدہ۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ کا سی این این کو انٹرویو جس میں حماس کے حملے کو کامیاب قرار دینا معمولی نہیں ہے،حماس کے کامیاب حملے کے بعد مغربی میڈیا اور پاکستان کا میڈیا دونوں سکتے میں ہیں۔دنیا میں سب سے بڑی انٹیلی جنس اور اسلحہ رکھنے والی ناقابل تسخیر قرار پانے والے اسرائیلیوں کی درگت بننا اور یہودیوں کے لئے محفوظ ترین ریاست سمجھی جانے والے اسرائیل سے یہودیوں کی ہجرت کے مناظر اور  ایئر پورٹوں پر رش نئی پیش بندی کی خبر دے رہا ہے۔ایک حلقہ عالمی جنگ سے ڈرا رہا ہے دوسرا نائن الیون کی دوسری قسط قرار دے رہا ہے۔قرآن کے واضح فرمان اور نبی ؐ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی کو یکسر بھول گئے ہیں یہودی کبھی مسلمان کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔آئیں مل کر کم از کم دُعا تو کر دیں اگر ہم عملاً کچھ نہیں کر سکتے۔پاکستان کے نگران حکمرانوں سمیت سیاسی جماعتوں کی خاموشی سے بھی اہل پاکستان رنجیدہ ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے علاوہ کوئی میدان میں نہیں آیا۔زیادہ مذہبی جماعتیں جہاد کی ترغیب کی بجائے نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھانے کو کافی سمجھ رہی ہیں۔ڈیڑھ ارب مسلمان ابابیلوں کے منتظر ہیں وہ آئیں اور86لاکھ اسرائیلیوں سے ہماری جان چھڑائیں،حالانکہ موجودہ حالات میں اگر ابابیل آئیں گے تو وہ اپنے کنکر یہودیوں کو نہیں، مسلمانوں کو ماریں گے۔اللہ ہماری حالت پر رحم کریں۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -