چینی پالیسیاں برقرار،ترقی رفتارقدرے سست رہے گی

چینی پالیسیاں برقرار،ترقی رفتارقدرے سست رہے گی
چینی پالیسیاں برقرار،ترقی رفتارقدرے سست رہے گی

  

2013ءچین میں ڈریگن کا سال ہوگا۔اس سال کو تبدیلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ اس سال کے آخر اور اگلے سال کے اوائل تک چین میں ہر دہائی میں ایک بار ہونے والی سیاسی تبدیلی مکمل کرلی جائے گی۔چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی جو نوممبران پر مشتمل ہے، کو یہاں کا اصل حکمران تصور کیا جاتا ہے۔اس کے سات ممبران اس سال کے آخری مہینوں میں منعقد ہونے والی 18ویں کمیونسٹ کانگریس میں تبدیل کردیئے جائیں گے اور ان کی جگہ نئے ممبران لے لیں گے۔صدر ہوجن تاﺅ کمیونسٹ پارٹی کے سب سے بڑے عہدے سیکرٹری جنرل سے مستعفی ہو جائیں گے۔چین میں کوئی بھی حکمران دوبار سے زیادہ دفعہ منتخب نہیں ہو سکتا۔صدر ہوجن تاﺅ نے 2003ءمیں صدر اور سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا جبکہ وین جیاباﺅ بھی اسی وقت وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔مارچ 2013ءتک دونوں عہدوں پر نئے چہرے نظر آئیں گے کوئی حکمران اپنے وقت میں کتناہی طاقتور نظر آئے ،نظام کو تبدیل نہیں کرسکتا۔کسی ایک شخص کے ہاتھ میں مکمل طاقت کے مرکوز ہونے کے تصور کو چینی خرابی کا پیشہ خیمہ قرار دیتے ہیں۔”لمبا درخت ہمیشہ تیز ہوا کو متوجہ کرتا ہے“ اس چینی کہاوت کو اکثر دہرایا جاتا ہے۔چین میں سیاسی تبدیلی نہایت خاموشی اور پُرامن طریقے سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔1992ءمیں صدر بننے والے جیانگ زیمن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں جانے والے صدر ڈینگ زیاﺅ پنگ نے خود منتخب کیا تھا جبکہ موجودہ صدر ہوجن تاﺅ کا انتخاب،جیانگ زیمن کی حسنِ نظر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔طریقہ ءکار کچھ بھی ہو چینی قیادت کی کارکردگی نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اہلیت اور قابلیت ہی کسی فرد کو اس سسٹم میں اوپر لے کر آئی ہیں۔ چینی کسی یکدم تبدیلی پر یقین نہیں رکھتے ،بلکہ اپنی قیادت کی نشوونما وقت سے پہلے ہی شروع کردیتے ہیں۔ایک عام خیال یہ ہے کہ موجودہ نائب صدر شی جیانگ اور نائب وزیراعظم لی کی کیانگ ہی خالی ہونے والے عہدوں پر ترقی پائیں گے۔دونوں پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔شی جیانگ خاص کر شنگھائی کے پارٹی سیکرٹری رہ چکے ہیں اور وہاں ان کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی تھی۔یاد رہے کہ چین میں اقتصادی کارکردگی اور معاشی ترقی کے لحاظ سے شنگھائی ،اس وقت تمام شہروں سے آگے ہے۔اس سال کے آخر میں پارٹی سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فوراً ہی شی جیانگ کو منصب صدارت پر فائز نہیں کردیا جائے گا،بلکہ وہ مارچ2013ءتک صدر ہوجنتاﺅ کے ساتھ کام کریں گے۔ریٹائر ہونے والے رہنما ءآنے والے حکمرانوں کو امور مملکت پر مکمل حاوی ہونے میں مدد فراہم کریں گے۔نئی چینی قیادت کی طرف سے پالیسیز میں کوئی ڈرامائی تبدیلی تو متوقع نہیں کہ تسلسل چین کی ترقی میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔کچھ عرصے پہلے ہی چین نے اپنا 5سالہ اقتصادی پروگرام جاری کیا تھا جس میں آنے والے سالوں کے اہداف متعین کردیئے گئے ہیں۔البتہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تین دہائیوں تک ڈبل ڈیجٹ(Double Digit)ترقی کے بعد اب چین کی معیشت آنے والے دنوں میں قدرے کم رفتار سے ترقی کرے گی۔اس کی بنیادی وجہ عالمی کساد بازاری ہے جو کئی سال تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے چین کی قیادت کو اپنے اور دنیا کے سامنے ایک نیا معاشی روڈ میپ رکھنا ہوگا کہ اب چین اقوام عالم کا ایک اہم ترین رکن ہے۔ساتھ ہی ساتھ چین اپنی صدیوں پرانی ثقافت اور روایات کو بھی کسی نہ کسی طور برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔مغرب کی پیروی نے معاشی کامیابیاں تو دی ہیں لیکن کئی معاشرتی بدعتیں بھی درانداز ہوگئی ہیں۔ہوجن تاﺅ نے اس صورت حال کا احاطہ اپنے انداز میں کیا ہے۔”جارحانہ بین الاقوامی قوتیں پورا زور لگا رہی ہیں کہ ہمیں مغربی معاشرت میں رنگ لیں اور ہمیں تقسیم کردیں۔ہمارا نظریہ اور ثقافت ان کے بڑے اہداف ہیں“۔

مزید :

تجزیہ -