بلدیاتی انتخابات اور نئے صوبوں کا شوشہ!

بلدیاتی انتخابات اور نئے صوبوں کا شوشہ!
بلدیاتی انتخابات اور نئے صوبوں کا شوشہ!

  

چند روز قبل صدر آصف علی زرداری اپنے حکومتی اتحادیوں کے ساتھ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ مافیا کی روک تھام کے سلسلے میں اجلاس کر رہے تھے۔ شاید انہیںاس میں کامیابی نہ ہو سکی، تو انہوں نے عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لئے ایک بیان جاری فرمایا کہ عام انتخابات سے قبل ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے، حالانکہ پی پی پی کی حکومت جب سے اقتدار میں آنا شروع ہوئی ہے، یعنی1971ءدسمبر سے تاحال۔ اس پارٹی نے ایک بار بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اور شاید نہ ہی پی پی پی بلدیاتی انتخابات پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی بلدیاتی انتخاب ہوئے فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوئے۔ پہلی بار صدر جنرل ایوب خاں نے کروائے۔ دو بار ضیاءالحق کے دور میں ہوئے، دو بار صدر پرویز مشرف کے دور میں ہوئے۔

صدر آصف علی زرداری کے بلدیاتی انتخابات کے اعلان سے ملک کے طول و عرض میں اس موضوع پر بحث شروع ہو گئی اب تو عام انتخابات کا وقت ہے،کیونکہ موجودہ حکومت اپنا پانچ سالہ دور مکمل کرنے والی ہے۔ بلدیاتی انتخاب کے حالیہ اعلان سے چند روز قبل حکومت نے پنجاب میں دو نئے صوبے بنانے کے لئے ایک کمیشن بنا دیا۔2009ءتک تو پی پی پی نئے صوبوں کے خلاف تھی، جہاں تک بہاولپور صوبے کی بحالی کا تعلق ہے، وہ تو حکومت پاکستان نے ون یونٹ بناتے وقت بہاولپور کی اس وقت کی حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی ون یونٹ ختم ہوا، بہاولپور صوبے کی حیثیت بحال کر دی جائے گی، لیکن حکومت پاکستان نے1970ءسے، جب سے ون یونٹ ختم ہوا، بہاولپور صوبے کو بحال نہیںکیا جو کہ ایک ایگزیکٹو آرڈر سے بحال ہو سکتا ہے، لیکن میرے نزدیک پی پی پی حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا اعلان ، الیکشن میں نعرے لگانے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے لگایا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے پنجاب اسمبلی سے بہاولپور صوبہ اور صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی تھی، لیکن جب پی پی پی نے صوبوں کے معاملے میں کمیشن کا اعلان کیا تو مسلم لیگ(ن) نے کمیشن میں شمولیت سے انکار کر دیا۔

جب سے موجودہ صوبائی اور مرکزی حکومتیںاقتدار میں آئی ہیں، نان ایشوز پر زیادہ کام ہو رہا ہے۔ عام لو گ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ہر ہفتے ڈیزل، پٹرول، گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، لاقانونیت انتہا تک پہنچ چکی ہیں۔ چوری، ڈاکے، لاءاینڈ آرڈر کے مسائل ملک کے طول و غرض میں عام ہیں، ملک کے کسی حصے میں بھی حکومتی رٹ کا نام و نشان نہیں، حکومت کا اپنے اداروں سے لڑائی روز کا معمول ہے۔ اس وقت شائد نئے صوبوں اور بلدیاتی انتخابات کا شوشہ عام انتخابات کو کچھ عرصے کے لئے ملتوی کرنے کے لئے چھوڑا گیا ہے، کیونکہ حکومت کو اپنی ساڑھے چار سالہ کارکردگی شیشے میں صاف نظر آ رہی ہے کہ وہ کس منہ سے عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے۔ حکومت اپنے اللے تللوں میں مصروف ہے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے بہانے تلاش کر رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر شام ڈھلتے ہی ہر چینل والے تین چار سیاسی پارٹیوں کے نمائندوںکو بلوا کر کبھی کراچی، کوئٹہ کی ٹارگٹ کلنگ پر مذاکرہ کروا رہے ہوتے ہیں۔ کبھی نئے صوبوں اور بلدیاتی انتخاب کے حالیہ شوشے پر بحث ہو رہی ہوتی ہے۔

صدر صاحب کے بلدیاتی انتخاب کے اعلان کے بعد ہنگامی طور پر رات کے اندھیرے میں سندھ بھر میں ”پیپلز میٹرو پولیٹن کارپوریشن آرڈیننس“ نافذ کر دیا گیا۔ اس نئے آرڈیننس کی رو سے کراچی سمیت سندھ کے پانچ بڑے اضلاع میں جنرل پرویز مشرف والا بلدیاتی نظام ہو گا اور سندھ کے باقی18اضلاع میں جنرل ضیاءالحق والا1979ءکا بلدیاتی نظام ہو گا۔ حکومت سندھ کی باقی اتحادی جماعتوں اے این پی، مسلم لیگ پگارو نے اس آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے اپنے وزراءکو کابینہ سے واپس بلا لیا ہے۔ اندرون سندھ کی باقی قوم پرست جماعتوں نے13 ستمبر سے سندھ بھر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ویسے سندھ کی حد تک موجودہ حکومت نے کچھ ماہ قبل بھی اسی طرح کی ایک کوشش کی تھی کہ ”آدھا تیتر آدھا بٹیر“.... لیکن پھر حکومت مخالف قوتوں کے دباﺅ کی وجہ سے یہ آرڈیننس واپس لے لیا تھا۔ اب کیا ہوتا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

 جب سے مرکزی حکومت اقتدار میں ہے، وہ اپنے اتحادیوں کے دباﺅ میںہے، جو زیادہ دباﺅ ڈالتا ہے وہ اپنی مرضی کا فیصلہ کروا لیتا ہے۔ سندھ حکومت نے موجودہ آرڈیننس ایم کیو ایم کے دباﺅ میں نافذ کیا ہے، کیونکہ جنرل پرویز مشرف والا بلدیاتی نظام ایم کیو ایم کے لئے زیادہ مفید ہے، اس نظام کی وجہ سے سارے سیاسی و مالی اختیارات بلدیاتی نماندوں کو مل جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کا دباﺅ ہو یا باقی اتحادیوں کی بلیک میلنگ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو نئے صوبے اور بلدیاتی الیکشن گزشتہ چار سال سے کیوںیاد نہیں آئے،حالانکہ 2009ءمیں کروانے چاہئے تھے۔ اعلیٰ عدلیہ نے بھی بلدیاتی انتخاب کروانے کے احکامات جاری کئے، لیکن حکومت نے ایک نہ سنی۔ اب جبکہ عام انتخابات کا وقت قریب آ گیا ہے، تو حکومت کو اپنی گزشتہ ساڑھے چار سالہ کارکردگی دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی کارکردگی دیکھتے ہوئے یقین کامل ہے کہ ووٹر انہیں یکسر مسترد کر دیں گے، کیونکہ ملک کا ہر فرد خصوصاً نوجوان طبقہ موجودہ حکمرانوں سے مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے اور وہ کسی اور قوت کو آزمانا چاہتا ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر موجود سیاسی پارٹیاںجو اقتدار میں ہیں، سب ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں کہ جیسا بھی ہو، الیکشن کچھ عرصے کے لئے ملتوی کئے جائیں۔ عوام کو بھی یقین ہے کہ موجودہ حکومتوں نے نہ تو عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کروانے ہیں اور نہ ہی نئے صوبے بنانے ہیں۔ یہ تو صرف عام انتخابات سے راہِ فرار حاصل کرنے کے حربے ہیں جو شاید کامیاب نہ ہوں اور نہ ہی شاید عوام اب موجودہ حکمرانوں کے کسی جھانسے میں آئیں۔

مزید :

کالم -