بلوچستان میں جنگل کا قانون

بلوچستان میں جنگل کا قانون
بلوچستان میں جنگل کا قانون

  

 سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تعلق بلوچستان سے ہے،اِس لئے وہ حالات کو بہتر سمجھتے ہیں۔اُنہوں نے ٹارگٹ کلنگ،اغوا برائے تاوان اور گمشدہ افراد کے حو الے سے تاریخی قدم اُٹھایا ہے ۔وہ سپریم کورٹ کا اجلاس کوئٹہ میں طلب کرتے ہیں۔روز مختلف پہلوﺅں پر اپنی رائے دیتے ہیں ،روز فیصلہ کرتے ہیں۔اُن کے اِس دلیرانہ عمل نے بعض گمشدہ افراد کو گھر پہنچا دیا ہے۔23 اگست کو سپریم کورٹ کے اجلاس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے چیمبر میں ڈاکٹر غلام رسول اغوا کیس کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جنگل کا قانون ہے ۔ اُنہوں نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ مسترد کردی۔اغوا برائے تاوان اب کوئٹہ میں منافع بخش تجارت کا روپ دھار چکاہے۔ڈاکٹر،تاجر، پروفیسر،جیولر اغوا ہوتے ہیںاورلاکھوں نہیں اب تو کروڑوں روپے دے کر خاموشی سے گھر لوٹ آتے ہیں۔

 ڈاکٹر غلام رسول کو اغوا کیاگیا اور اُن سے10 سے15کروڑ کی رقم طلب کی گئی۔ اب یہ بازگشت ہے کہ وہ2سے5کروڑ تک کی رقم ادا کرکے گھر لوٹ آئے ہیں۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے سیکرٹری داخلہ نے جو رپورٹ پیش کی، اُس کو چیف جسٹس نے مسترد کردیا اور دوران سماعت کہا کہ بلوچستان میرا گھر ہے اور اِس کی صورت حال سے بخوبی آگاہ ہوں۔اب جو لوگ رہا ہوئے، وہ حکومتی کوششوں سے نہیں ،بلکہ تاوان ادا کرکے رہا ہورہے ہیں جبکہ اغوا کاروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔سوموٹو نوٹس کیس میں سیکرٹری داخلہ نصیب اﷲ ایڈووکیٹ جنرل، امان اﷲ کنرائی، آئی جی پولیس طارق عمر خطاب پیش ہوئے ۔کیس کی پیروی بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر ظہور شاہوانی اور نائب صدر ساجد ترین نے کی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے یہ ریمارکس کہ اغوا ہونے والوں میں سے کوئی بھی حکومتی کوششوں سے بازیاب نہیں ہوا بلکہ جتنے لوگ بھی بازیاب ہوئے ہیں اُن کے عزیز واقارب کی طرف سے تاوان میں بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد رہاہوئے ہیں یا پھر قبائلی رسم ورواج کے اثر ورسوخ سے رہا ہوئے ہیں ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرا تعلق نہ صرف اِس شہر سے ہے، بلکہ بلوچستان تو میرا گھر ہے۔اِس کی صورت حال سے پوری طرح آگاہ ہوں۔سماج دشمن عناصر کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔اُنہوں نے اسلحہ کی نمائش پر اظہار ناراضی کیا اور کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ بلوچستان میں امن وامان، عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، آئین وقانون کے مطابق اُن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قارئین محترم! چیف جسٹس کے ریمارکس حکومت بلوچستان کے لئے ایک طرح کی چارج شیٹ ہے، لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ اُسے معلوم ہے کہ مرکز میں صدر آصف علی زرداری حکمران ہیں،اِس لئے وہ مطمئن ہیں، ورنہ جو صورت حال بلوچستان کی ہے، کوئی اور حکومت ہوتی تو کب کی ختم ہوگئی ہوتی....

اِس کیس میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے اپنے ڈاکٹر کی رہائی کے لئے ہڑتال کی تھی تو جب ڈاکٹر صاحب گھر پہنچ گئے تو ڈاکٹروں نے اعلان کردیا کہ ہم اُس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے، جب تک حکومت تاوان کی رقم ہمیں واپس نہیں دلاتی۔ ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ حکومت کے علم میں ہے کہ یہ اغوا کارکون ہیں؟یہ ایک لحاظ سے انتہائی سنگین الزام ہے۔اب تو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں یہ بات عام ہے کہ اِس قسم کے اغوا میں بعض وزراءاوربااثر شخصیت شامل ہیں۔

 جب ڈاکٹر غلام رسول اغوا ہوئے تو اُن کے علاوہ ایک اور اہم شخصیت اغوا ہوگئی۔اُ ن کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے ہے۔وہ اہل حدیث کے ممتاز عالم دین ابو تراب کے بھائی ہیں۔ اغوا کاروں نے اُن سے25کروڑ روپے کی رقم طلب کی ہے اور اِس کو کم کرنے کے موڈ میں نہیں۔اِس سے قبل وہ مولانا ابو تراب کے ایک اور بھائی کو اغوا کرچکے ہیں اور اُنہوں نے70لاکھ کی رقم ادا کرکے رہائی حاصل کی تھی۔اب اغوا کاروں کو علم ہے کہ آسامی تگڑی ہے، اِس لئے اب25کروڑ کی رقم طلب کی ہے۔مولانا مجاہد کے لئے تو اب مکہ کے امام نے بھی نماز میں دُعا کرائی ہے کہ وہ رہا ہوجائیں۔

ڈاکٹر غلام رسول کے بارے میں یہ خبر گشت کررہی تھی کہ اُن سے بھی25کروڑ طلب کئے گئے تھے مگر بعد میں رقم کم ہوگئی لیکن لوگوں کو شک ہے کہ بھاری رقم ادا کی گئی ہے۔اِس سے قبل بھی ایک ڈاکٹرا اغوا ہوا تھااُ س سے بھی ایک کروڑ کی قم طلب کی گئی تھی۔اُس نے50لاکھ روپے ادا کرکے جان بچائی ہے!

قارئین محترم! کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ بھی چل رہا ہے۔30اگست کو کوئٹہ میں ایڈیشنل جج کوئٹہ جناب ذوالفقار حسین نقوی کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر سے عدالت جارہے تھے۔ وہ جونہی اپنے گھر سے نکلے اور سٹرک پر آنا چاہتے تھے تو نامعلوم افراد نے جو موٹر سائیکل پر سوار تھے اُنہیں گولےوں کا نشانہ بنادیا۔اِس دوران اُن کے ہمراہ اُن کا گارڈ اور ڈرائیور بھی مارے گئے اور اِس قتل کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کرلی ۔ نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اِسے قتل کیا ہے اور کہا اگر آئندہ عدالت نے ہمارے ساتھیوں کو سزا دینے کی کوشش کی تو اُن کا انجام بھی نقوی جیسا ہوگا۔ چیف جسٹس بھی ہمارے نشانے پر ہوں گے۔گزشتہ روز فیصل ٹاﺅن میں نوجوانوں پر فائرنگ کی گئی اور اُنہیں زخمی کیا گیا۔ہم اِس کا بدلہ لیں گے اور وہ اخبارات جو ہمارے بیانات شائع نہیں کریں گے ہم اُن کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔ہم اُنہیں جانتے ہیں۔

 ذوالفقار حسین نقوی کا تعلق کراچی سے تھا۔وہ اُردو بولنے والے تھے۔اُن کی میت کراچی بھجوا دی گئی۔عدالتوں میں اُس دن ہڑتال ہوئی۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران4ستمبر کو کوئٹہ میں کہا کہ” بلوچستان میں آئین اور قانون کی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات پر عمل نہیں ہورہا ہے،ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔حالات بہتری کی بجائے خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ہمارا جج مارا گیا۔اب کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں“.... اب کوئٹہ ایک آسیب زدہ شہر لگتا ہے۔سر شام لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔شہر پر افسردگی کا عالم ہے۔ہر شخص غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ہر طبقہ زندگی کے لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ بلوچستان نصیب اﷲ نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی ہے ،جس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ8ماہ میں صوبے میں جو بڑے واقعات ہوئے ہیں اُن کی تعداد108ہے۔اُن میں176افراد جاں بحق اور213زخمی ہوئے ہیں۔ہزارہ برادری کے46افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ایف سی کے33پولیس اہلکار مارے گئے ہیں،اِن کے علاوہ6 سنی علماءجبکہ غیر ہزارہ شیعہ جو مارے گئے ہیں ،اُن کی تعداد7ہے اور16آباد کار(پنجابی)مارے گئے ہیں ۔ سپریم کورٹ کو بتایاگیا کہ اب مسخ شدہ لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔پہلے یہ تعداد318 تھی،اب بڑھ کر یہ تعداد426 ہوگئی ہے۔147افراد اغوا ہوئے ہیں ۔اِن میں سے اب تک100سے زائد افراد بازیاب ہوچکے ہیں اور اغوا برائے تاوان کے الزام میں187افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -