آرمی، نیوی، ائیرفورس کے فائر بریگیڈوں سے کیوں مدد نہ لی گئی؟

آرمی، نیوی، ائیرفورس کے فائر بریگیڈوں سے کیوں مدد نہ لی گئی؟
آرمی، نیوی، ائیرفورس کے فائر بریگیڈوں سے کیوں مدد نہ لی گئی؟

  

کراچی کی گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی نے ایسے حادثات پر قابو پانے کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے آگ کا حادثہ تو ہو گیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پورے کراچی کے پاس ایک فیکٹری میں لگی ہوئی آگبجھانے کی صلاحیت بھی نہیں؟ کراچی میں ائیرفورس، آرمی اور نیوی کے پاس فائربریگیڈ موجود ہیں، کیا کسی ذمہ دار نے ان اداروں سے مدد طلب کرنے کے بارے میں سوچا؟ اگر نہیں سوچا تو کیوں نہیں؟اس آتشزدگی میں مالکان کی جو غلطیاں تھیں وہ تو تھیں لیکن سوال یہ ہے کہ انتظامیہ اور ریسکیو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کیوں ناکام ہو گئی؟ اگر فیکٹری کے سارے دروازوں کو تالے لگا دیئے گئے تھے تو سوال یہ ہے کہ ایسے دروازوں کو توڑنے میں کتنی دیر لگتی ہے اور کیا ایمرجنسی کی اس حالت میں دروازے توڑے نہیں جا سکتے تھے؟ فیکٹری کے تین دروازے تھے، جنہیں توڑنے میں کوئی زیادہ وقت بھی نہیں لگتا تھا، کراچی میں اینٹوں کی دیواریں نہیں ہوتیں، سیمنٹ کے بلاکس سے دیواریں چنی جاتی ہیں پہلے پلر بنائے جاتے ہیں جن پر چھت کھڑی ہوتی ہے پھر درمیان میں بلاکس سے چنائی کی جاتی ہے اگر یہ دیواریں گرا بھی دی جائیں تو عمارت اور چھت کھڑی رہتی ہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا، اگر آگ لگنے کے بعد دیواریں نکال دی جاتیں تو لوگ باہر کود کر جانیں بچا سکتے تھے، جو لوگ دم گھٹنے سے مرے ان کی جانیں آسانی سے بچ سکتی تھیں۔

آگ بجھانے والوں کے پاس پانی نہیں تھا، آگ بجھانے والا فوم نہیں تھا گزشتہ دس سال میں کراچی کی ترقی پر اربوں کھربوں روپے خرچ کئے گئے تو کیا فائربریگیڈ کے لئے مطلوبہ سامان فراہم نہیں ہو سکتا تھا؟ 10ارب روپے اگر ایسے سامان کی خریداری پر لگا دیئے جاتے تو حالت بہت بہتر ہو جاتی، گریڈ 21کے ایک افسر عبدالمالک غوری نے دو سال پہلے جو سفارشات کی تھیں اور جواب بھی متعلقہ اداروں کے پاس ہوں گی اگر ان فائلوں کی گرد جھاڑ کر انہیں پڑھا جائے تو معلوم ہو جائیگا کہ ان سفارشات پر عمل ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ماحولیات، لیبر اور سول ڈیفنس کے محکمے اپنے اپنے فرائض ادا کرتے تو اتنی زیادہ اموات سے بچا جا سکتا تھا۔

مزید :

تجزیہ -