نو مسلم جرمن فل اسفر اور ہم

نو مسلم جرمن فل اسفر اور ہم

 جرمن پروفیسر ڈاکٹر آندریا کرونن تھالر جرمنی کی ایک یونیورسٹی کارل سروھا کے شعبہ سماجیات (سوشیالوجی سے) وابستہ ہیں۔ ریسرچ اور تحقیق کے میدان میں عرصہ دراز سے کام کر رہی ہیں۔ اپنی اسی جستجو کے دوران انہوں نے مذہب اسلام پر بھی تحقیق کی اور اس تحقیق کے نتیجے میں وہ آج سے تقریباً تیرہ سال قبل مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ آج وہ باقاعدہ باعمل مسلمان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایمان واقعی بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ کو پڑھے، سمجھے اور اس پر عمل کرے تاکہ اسلام کا صحیح اور اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ ایمان دراصل مومن کے دل میں موجود ایک روشنی اور شمع ہے جو دنیا کی جہالت کے اندھیرے کو دور کرتا ہے اور دل کو پُر نور بناتا ہے۔ اس جرمن فلاسفر کا کہنا ہے کہ دل میں موجود ایمان اور یقین کی اس روشنی اور نور کو قرآن کریم اور حیات طیبہ سے مزید پُرنور بنایا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم اور آپ کی سنت پر عمل پیرا ہو کر دنیاوی اور ابدی راحت اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔اس نو مسلم جرمن خاتون پروفیسر نے اپنا اسلامی نام اُمة المومنین حضرت خدیجہؓ سے متاثر ہو کر خدیجہ رکھا ہے۔ وہ خاص طور پر رمضان کا مہینہ اور روزوں کی آسانی کے لئے ہر سال کسی مسلمان ملک کا انتخاب کرتی ہےں۔ گزشتہ سال وہ رمضان کے مہینے میں ترکی میں تھیں۔ اس خاتون کو حضرت محمد اور حضرت خدیجہؓ سے خاص عقیدت ہے۔ یہی نہیں وہ صوم و صلوٰة کی بھی پابند ہےں اور ہر نماز کے بعد تمام اُمہات المومنین کے حق میں دعا کرتی ہےں۔ انہیں جرمن، انگلش، عربی، تُرکی اور دیگر بہت سی زبانیں آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہرمسلمان کو کم از کم اپنی مادری زبان کے علاوہ ایک غیر ملکی زبان ضرور سیکھنی چاہئے تاکہ وہ غیر مسلموں کو آسانی سے اسلام کی تبلیغ کر سکے۔اس جرمن مسلم خاتون خدیجہ کا کہنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہےں کہ وہ مسلمان ہےں اور ان کے دل میں دین اور ایمان کی روشنی ہے۔ یہ دنیا فانی ہے اور ایک نہ ایک دن ہر انسان نے اس دارِ فانی سے کوچ کر جانا ہے۔ اسے اس دنیا میں ہی توشہءآخرت کا سامان کر لینا چاہئے۔ مسلمان ہونے کے بعد ان کی تمام زندگی اور شب و روز یکسر بدل گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب پر ایمان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ یہ سوچ کر قدرے مطمئن ہو جاتی ہےں کہ آخر کار اُنہیں اپنی تحقیق کے بعد اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔ اگر وہ اللہ اور پیغمبرؓ پر ایمان لائے بغیر ہی مر جاتیںتوکیا حال ہوتا اور وہ کتنی بڑی سعادت اور نعمت سے محروم ہو جاتیں۔ وہ یہ سوچ کر کپکپانے لگتی ہیں، لیکن وہ ایمان اور یقین کی دولت پانے کے بعد قدرے مطمئن ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق ہر مسلمان کو ایمان اور دین کا ذائقہ چکھ لینے کے بعد اسلام کا پیغام دوسروں تک بھی پہنچانا چاہئے۔ اسلام کی تبلیغ کرنی چاہئے۔ دنیا کو اللہ اور اس کے پیغمبر کے احکامات اور تعلیمات سے روشناس کرنا ہر مسلمان کا دینی فرض ہے۔یہ مسلمان جرمن پروفیسر خوش قسمت ہے کہ انہوں نے خود اپنی کوششوں اور تحقیق و جستجو کے بعد اسلام اور ایمان کی حقیقی روشنی اور پیغام کو پا لیا اور اسلام لے آئیں۔ اسلام اور دینِ مبین کی حقیقت ان پر واضح ہوگئی اور وہ دل سے اسلام کو ہی بہترین نظام حیات و بعد از موت نجات کے ذریعے کے طور پر پہچان گئیں۔ دوسری طرف ایک ہم پیدائشی مسلمان ہیں جنہیں اسلام ورثے میں بغیر کسی تگ و دو اورکوشش و ریسرچ کے ملا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام کی حقانیت اور سچائی تاحال ہم پر واضح نہیں ہوئی اور ہم دل سے ایمان اور یقین پر عمل پیرا نہیں ہوئے۔ ہم میں جھوٹ، لالچ، چوری، دھوکہ، حسد، نفاق، جہالت، کاہلی، سستی اور عصر حاضر کی مروجہ تمام بیماریاں موجود ہیں، جن کی بیخ کنی کے لئے اسلام نے واضح پیغام اور حل دیا ہے۔ دوسری طرف آپ غیر مسلم ممالک میں دیکھیں۔ تحقیق ریسرچ، علم، سائنس و ٹیکنالوجی، وقت کی پابندی، سچ، حب الوطنی، اتفاق، اتحاد غرض عصرِ حاضر کی وہ تمام سہولیات و امکانات میسر ہیں جو ایک ترقی یافتہ قوموں کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم دین اور ایمان کی روشنی میں ساری دنیا کے لئے ایک قابلِ مثال ہوتے۔ لوگ اور دیگر قومیں ہم سے سیکھتی، لیکن معاملہ برعکس ہے۔ ظاہر ہے ہم نتیجتاً پسماندہ، غریب، جاہل اور دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آج بھی اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم عملی طور پر اسلام کے ان گہرے اصولوں پر عمل پیرا ہوں جو حق تعالیٰ اور پیغمبر اسلام نے ہمیں عطا فرمائے ہیں۔ وگرنہ ہم اس طرح رُلتے رہیں گے اور غیر قومیں ہمارے دماغوں اور دلوں پر حکومتیں کرتی رہیں گی۔ اللہ سب کو پختہ ایمان اور دین کی روشنی سے نوازے اور ہمارے دل و دماغ نورِ یقین سے منور کرے(آمین)     ٭

مزید : کالم