اے پی سی اور”جوڑہ گلونہ“ جیسی آوازیں

اے پی سی اور”جوڑہ گلونہ“ جیسی آوازیں

وہ 2007ءکا نومبر تھا ،ہم ایک ”فرمائش“ پر لاہور سے پشاور صرف اس لئے گئے کہ وہاںہمارے دوستوں نے ایک میوز ک شو ”ارینج‘ ‘ کیا تھا ،یہ شو پشاور کلب میں ہو رہا تھا ،ابھی ہم پشاور پہنچے ہی تھے کہ اطلاع ملی کہ سوات کے ایک سینماگھرمیں بم د ھماکہ ہو ا ہے جس سے دو افراد جاں بحق، 29 زخمی ہوگئے ہیں،صبح کے اخبارات دیکھے توجو اطلاعات سامنے آئیں، وہ یہ تھیں کہ اس دھماکے میں ٹا ئم بم ا ستعما ل کیا گیا ،دھماکہ ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کے ”پلوشہ “سینما میں فر سٹ کلا س کی ایک نشست کے نیچے رکھے بم سے ہوا۔سینماکے مالک نے صحا فیو ں کو بتایا تھاکہ سینما میں سیکیورٹی کا منا سب انتظام ہے، لیکن اس نے شک کا اظہار کیا کہ بم کسی گاڑ ی میں آنے والا ساتھ لا یا۔یہ عید کے دن تھے اور سینما پلوشہ میں عید کے موقع پر پشتو فلم ”ستا دوو سترگو دا پارہ“چل رہی تھی ،ہم نے اپنے پشاو ر ی دوستوں سے اس پشتو فلم کا اردو میں نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس فلم کا اردو میں نام لیا جائے تو کہا جائے گا ۔ ۔ ۔” آپ کی دو آنکھوں کے لئے“ ۔صاحبو!سوات کے سینما میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں تفصیل سے بیان کرنے کا ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ پڑھنے والے جا ن سکیں کہ چند سال پہلے سوات کے سینماﺅں میں رش ہوتا تھا اور وہاں کے لوگ مزے سے فلم بینی کرتے تھے ،پھر کسی دشمن کی ”دو آ نکھو ں “ نے اس عظیم سیاحتی مقام کو” نظر “لگا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ جنت نظیر علاقہ بارود ،دھوئیں اور خون کی بدبو میںگھِر گیا ۔ طا لبا ن کے نام سے نہ صرف سوات کے کلچر کو تباہ کر دیا گیا، بلکہ وہاں سے اٹھنے والے شیطانی دھوئیں نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دہشت گردی کے خوفناک شکنجے میں آگیا اور دشمن سرعام کہنے لگے کہ دہشت گردی کی آگ میں سلگتا پاکستان 2015ءتک دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا ۔اب اس حوالے سے پرویز مشرف کے لتے لئے جائیں ،امریکہ کو الزام دیا جائے ،بھارت، اسرائیل کو موردِالزام ٹھہرایا جائے ،یہ الگ بحث ہے ، مختصراََ صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف اگر دہشت گردی کی اس سازش میں شریک نہ ہوتے ،شروع دن سے ہی اس کا قلع قمع اس انداز میں کر تے، جیسے سابقہ جمہوری دور میںپاک فوج نے بگڑوںکو راہ راست پر لانے کے لئے کیا یا پھر شروع دن سے ہی تحریک طالبان کے رہنماﺅں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا لیتے تو پاک وطن کے خلا ف اٹھنے والی یہ برائی ابتدامیں ہی دم تو ڑ دیتی ۔وہ کلچر ہم سے نہ چھنتاجو پاکستان کا بالعموم اور پختونستان کا بالخصوص طرئہ امتیاز رہا ہے۔پورے خیبر پختونخوا کی بجائے صرف پشاور ہی کی بات کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس شہر کا کلچر بہت ”رِچ“ رہا ہے، لیکن وہا ں کے صحافی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ افغانوں کے آنے کے بعد پاکستانیوں نے ان کے کئی طور طریقوں کو اپنایا۔چند سال قبل پشاورسمیت سوات اورخیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں موسیقی کی خصوصی محفلیں ہوتی تھیں اور نت نئے گلوکار جنم لیتے تھے ۔ان گلوکاروں میں ”جوڑہ گلونہ “ بھی ہیں جو کمسنی میں ہی پورے خیبر پختونخوا میں مقبول ہو گئے تھے۔ کچھ ہی سال قبل طارق حسین اور ذیشان نامی دو بچے ”جوڑہ گلونہ“ کے نام سے گائیکی کی دنیا میں آئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے پشتو پڑھنے، سننے اور بولنے والوں کے مقبول تر ین گلوکار بن گئے تھے ۔2005 ءمیں ان کی تیسری البم خیبر پختونخوا کی میوزک مارکیٹوں میں دھڑا دھڑ بک رہی تھی اور ہم سمجھ رہے تھے کہ اتنے ”کلچرڈ“ صوبے کو طالبان ہائی جیک نہیں کر سکتے، مگرافسوس !! ہمارا کہا غلط ثابت ہوا ،کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے تحریک طالبان کو ”کھلی چھٹی “ دی اور اس سے وابستہ لوگوں نے عام پاکستا نیو ں کے ساتھ ساتھ پختونوںکے کلچر کو بھی قتل کر دیا ۔وزیراعظم نوازشریف کی موجودہ حکومت ابتدا میں ہی جہاں معیشت کی بحالی کے لئے کئے گئے چندسخت یا کڑے فیصلوں کے باعث عوام میں غیر مقبول ہوئی، وہاں کراچی آپریشن اور طالبان کے ساتھ لڑائی کی بجائے مذاکرات کرنے جیسے فیصلوں کے باعث پذیرائی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے،ملک کا بچہ بچہ بم دھماکوں،خودکش حملوں اور کراچی میں روز بروز بڑھتی کشیدگی ، گرتی لاشوں پر بے قرار و پریشان ہے ۔ سچ پوچھیں تو اُس ملک میں کبھی کوئی غیرملکی سرمایہ کار داخل نہیں ہوتا، جہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہو اور کوئی پتا نہ ہو کہ کب،کس شہر میں خودکش حملہ ہو نا ہے ےا بم دھماکہ ہو جانا ہے۔غیر تو غیر اپنے بھی سرمایہ کاری کرتے ہوئے دس بار سوچتے ہیں۔ہمارا دکھ یہ ہے کہ پرویز مشرف دور میں حالات کی اسی سنگینی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث ملک کے بہت سے سرمایہ کار بیرون ممالک ”فلائی“کر گئے اور انہوں نے پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش جیسے ممالک کو ترجیح دی،وہاں بے بہا ٹیکسٹائل انڈسٹری قائم ہوئی، جبکہ سینکڑوں پاکستانیوں نے دوبئی سمیت مختلف خلیجی ریاستوں میں رئیل اسٹیٹ کا بزنس شروع کر دیا۔ میاں نوازشریف اور شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی چین اور دیگر دوست ممالک کو اس بات پر اُکسایا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی جائے ،لیکن امن و امان کی صورت حال ایک ایسا روگ ہے جو بیرونی سرمایہ کاروں کے پاﺅں کی زنجیر بنا ہوا ہے۔اس کا ایک ہی حل ہے،کچھ بھی ہو طالبان کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات کو کنٹرول کیا جائے،انہیں محبت کی زبان سے راہ راست پر لایا جائے اور کراچی کا امن تباہ کرنے والوں کو نیست و نابود کیا جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت وہ سب جماعتیں مبارکباد کی مستحق ہیں، جنہوں نے اے پی سی میں حکومتی ہاں میں ہاں ملائی اور ملک و قوم کو خاک و خون کے سمندر سے نکالنے کے لئے بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔تحریک طالبان نے بھی حکومت کے طرزعمل پر مثبت ردعمل ظاہر کرکے پاکستانی عوام کی امنگوں اور آرزوﺅں کو نئے سرے سے جگایا ہے ،یوں لگ رہا ہے، جیسے وہ دن دور نہیں، جب پھر سے پاک وطن میں امن و آشتی کا دور دورہ ہوگا اور ہم پھر سے اپنے اس کلچرکو آواز دینے کے قابل ہو جائیں گے، جس میں صدیوں سے جیتے آئے ہیں ۔وہی کلچر جس میں ”جوڑہ گلونہ“ جیسی آوازوں کو سراہا جاتا ہے اور موسیقی کو فن سمجھ کرمحظوظ ہوا جاتا ہے،یقینا ہم سب پاکستانی عظیم تہذیبوں کے وارث ہیں ،ان تہذیبوں نے ہمیں سب سے پہلے یہی سکھایا ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کیا جائے، سبھی رنگ و نسل،علاقوں اور مذاہب کے لوگ مل جل کر رہیں،کسی کے مسجد جانے پر روک ٹوک ہو نہ فن و آرٹ کی محفل میں جانے پر غصہ ،کاش! ہم اپنی تہذیب اور روایات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں ،کاش! ایسا ہو کہ پھر سے وہی دور لوٹ آئے جب کبھی کسی نے بم دھماکوں،خودکش حملوں،دہشت گردوں کا نام نہیں سنا تھا۔ بارود کیا ہوتا ہے، اس کی بدبو کیسی ہوتی ہے،گلیوں ،بازاروں،چوکوں، چوراہوں میں اس کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے،کاش!!ہماری اگلی نسلیں ان سب باتوں سے ناواقف ہوں۔کاش!!   ٭

مزید : کالم