سندھ کو لارڈ نذیر کی ضرورت ہے

سندھ کو لارڈ نذیر کی ضرورت ہے

ابھی کل ہی کی بات ہے لارڈ نذیر احمد کی کتاب ”صداقت کی گونج“ اور دوسری کتاب ”اندازِ بیاں اور“ کی تقریب رونمائی بڑی پذیرائی کے ساتھ ہوئی۔ ”صداقت کی گونج“ کی تقریب رونمائی کا اہتمام پی سی ہوٹل میں کیا گیا جس میں تقریباً ساڑھے چارسو لوگوں نے شرکت کی۔ خادمِ اعلیٰ کے ساتھ اہم شخصیات اور دانشوروں نے شرکت کی، جس کا ذکر کافی اخباروں نے اپنے اپنے انداز میں شائع کر دیاہے۔ دوسری کتاب ”اندازِ بیاں اور“ کی تقریب کا اہتمام گورنر ہاﺅس میں کیا گیا، دونوں جگہ شرکت کے بعد مَیں نے اندازہ لگایا کہ لارڈ نذیر جو لندن میں عام آدمی کی طرح گھومتے پھرتے ہیں، جب وہ ہاﺅس آف لارڈ زمیں بیٹھتے ہیں تو پاکستانیوں یا پاکستان کے لئے کوئی ایسی بات کر جائے جو ناقابل برداشت ہو تو پھر لارڈ نذیر کی موجودگی کا اندازہ برٹش ہی کر سکتے ہیں، اس وقت جو حالت لارڈ نذیر کی ہوتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ خون بولتا ہے اور مٹی پیاری ہوتی ہے، لارڈ نذیر نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ جدوجہد میں گزاراہے .... کس کے لئے؟ اپنے ملک کے لئے.... وہ ہر وقت لندن میں مصروف رہتے ہیں اور وہ بھی لوگوں کی مدد کرنے میں۔اوورسیز پاکستانی ملک سے باہر بیٹھ کر ملک کو چلا رہے ہیں، ان کا اتنا حق ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کے گورنر ہاﺅس کو ان کی تقریبات کے لئے کھول دیا جائے، جیسا کہ لاہور کے گورنر ہاﺅس کے دربار ہال میں ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور مقررین کا رش لگا ہوا تھا، سٹیج پر ہر آنے والے نے لارڈ نذیر احمد کی ہسٹری یوں بیان کی جیسے یہاں پر ان کے علاوہ کوئی دولہا نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ لارڈ نذیر محب وطن ہیں اور دور دیس میں بھی وہ اپنے وطن کو، پاکستانیوں کویاد رکھتے ہیں۔ گورنر ہاﺅس میں سٹیج پر گورنر صاحب بھی بیٹھے تھے، مگر لارڈ نذیر کا اتنا ذکر تھا کہ گورنر صاحب نظر ہی نہیں آ رہے تھے۔خوشی کی بات ہے کہ 2 سال 8 ماہ کے بعد پیپلزپارٹی کے گورنر سلمان تاثیر مرحوم کی طرح گورنر ہاﺅس کے دروازے چودھری سرور صاحب نے کھول دیئے ہیں۔وہ دوسرے گورنر ہیں، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے لئے ہی نہیں، بلکہ ہر سیاسی جماعت کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ہال میں بہت سارے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے گورنر ہاﺅس پہلی بار دیکھا۔ تقریب جاری تھی اور”اندازِ بیاں اور“ کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے ،لارڈ نذیر کبھی سرخ ہو رہے تھے اور کبھی مسکرا رہے تھے، جب ذکر کشمیر کے ”قبرستانوں“ کا ہوا تو ہال میں سناٹا کیا چھایا لارڈ نذیر اور گورنر صاحب کی ایک لمحے کے لئے مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی، اس کے بعد سلسلہ جاری رہا، کسی نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے یہ ظاہر ہو کہ لارڈ نذیر نے کبھی کسی کا دل دکھایا ہو، اس ہال میں زیادہ تر لوگ لارڈ نذیر کے شناسا لگے اور جو اجنبی تھے، وہ گورنر ہاﺅس میں پہلی بار آئے تھے۔میری نظر چار بزرگوں پر بار بار پڑ رہی تھی۔ وہ اپنے طریقے سے سفید شلوار قمیص اور سفید ہی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ یہ اس ہال میں بالکل منفرد لگ رہے تھے، مَیں ان کو دیکھ رہی تھی، کبھی وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے تھکے ہوئے لگ رہے تھے، کبھی وہ اپنی کمر کو سیدھا کرتے، کبھی ایک پاﺅں کرسی پر رکھ لیتے۔مجھے ان کے بیٹھنے کا انداز بہت خوبصورت لگ رہا تھا، تقریریں جاری تھیں۔میں نے ایک بزرگ سے پوچھا:آپ کہاں سے آئے ہیں اور آپ کو یہ محفل کیسی لگ رہی ہے؟ اس بزرگ نے بڑے پیار سے کہا کہ ہم فیصل آباد سے آئے ہیں اور کہا بیٹا ہمیں اچھا لگ رہا ہے، مگر تھک گئے ہیں۔ میرے خیال میں ادیبوں، شاعروں کی محفلوں میں مزہ انہی کو آ رہا ہوتا ہے، ہم لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے ایسی محفلوں کا ساتھ دے نہیں پاتے، مگر اس محفل میں خوبصورت الفاظ کی رونق تھی۔جب لارڈ نذیر کی باری آئی توانہوں نے چند باتیں اپنے بارے میں بتائیں، کبھی وہ جذباتی ہو کر بات کرتے تھے اور کبھی وہ دبنگ لہجے میں بول پڑتے ، اپنی ماں کی سادگی کی بھی مثال دی، وہ یہ کہ ماں کو کسی نے فون کیا کہ آپ کا بیٹا ہاﺅس آف لارڈز میں گیا ہوا ہے؟ ماں نے سادگی سے جواب دیا کہ میرا بیٹا تحصیل دار ہو گیا ہے.... ان الفاظ کو لارڈ نذیر ہزاروں بار یاد کرتے اور اپنی ماں کی سادگی کی بات بتاتے ہیں، گورنر سرور صاحب کی جب باری آئی تو انہوں نے کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی اور شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لارڈ نذیر بہت اچھا انسان ہے، لارڈ بھی ہے اور لاڈلا بھی ہے اور سب سے بڑی بات ہے کہ جذباتی بھی ہے۔مصنف عمران چودھری نے لارڈ نذیر کی کتابیں متعارف کروا کے لاہور کو بھی برطانیہ بنا دیا۔گورنر ہاﺅس کی رونق میں اضافہ ہوتا چلا گیا، مجھے یوں لگ رہا ہے کہ سندھ کے گورنر کے لئے بھی لارڈ نذیر جیسے کسی محب وطن پاکستانی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سندھ کے گورنر لگ جائیں تو وہ دن دور نہیں کہ کراچی کے حالات بھی بدل جائیں گے اور سندھ گورنر ہاﺅس کے دروازے بھی پنجاب کے گورنر ہاﺅس کی طرح کھل جائیں گے۔ نہ کوئی بم بلاسٹ ہوگا، اور نہ کوئی دہشت گرد حملہ کرے گا۔ سندھ بھی محفوظ ہوگا اور کراچی کی رونقیں بھی بحال ہو جائیں گی ، پھر اوور سیز پاکستانی جو خون پسینے کی کمائی سے پاکستان کو سینچ رہے ہیں، وہ گورنر کودیکھ کر خوش بھی ہوں گے اور ان کی نمائندگی بھی ہو جائے گی۔محفل کا اختتام گورنر سرور صاحب نے کیا ،اس کے بعد سب لوگ آپس میں ملنے لگے، کچھ رخصت ہو گئے اور کچھ چائے پینے میں مصروف ہو گئے۔    ٭

مزید : کالم