ہیرے مٹی میں رُلنے سے بچائیں

ہیرے مٹی میں رُلنے سے بچائیں

ڈاکٹر ذاکر نائیک18 اکتوبر1965ءکو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ ممبئی یونیورسٹی سے انہوں نے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر کو اللہ پاک نے ایک بڑی ہی اعلیٰ صفت سے نوازا ہے۔ یہ صفت دُنیا کی پانچ ارب آبادی میں سے چند ایک کو ہی حاصل ہے۔ یہ صفت مضبوط حافظہ ہے۔ ان کی یاد رکھنے کی صلاحیت ایک معجزہ ہے۔ انہیں دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ شخص عام انسانوں کی طرح دماغ رکھتا ہے۔ ان کے دماغ کی ہارڈڈسک میں کوئی بھی تحریر، کلام یا گفتگو سٹور کرنے کی وسیع طاقت ہے اور پھر اسے بَروقت بیان کرنا بھی کمال ہے۔ دنیا میں اب تک ایجاد ہونے والا سپر کمپیوٹر بھی اتنی برق رفتاری سے کام نہیں کرسکتا، جس طرح ڈاکٹر نائیک کا نیچرل پروسیسر کام کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب عظیم مسلم سکالر شیخ احمد دیدات سے بہت متاثر ہیں۔ انہی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر وہ دین کی ترویج و اشاعت کی طرف راغب ہوئے اور اللہ پاک نے ان پر اپنا خصوصی کرم کر دیا۔ قرآن مجید، احادیث کی کتب، عیسائیوں کی مذہبی کتب، یہودیوں، ہندوو¿ں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کی کتب انہیں ازبر ہیں۔ یہ اللہ پاک کا معجزہ ہے کہ دنیا کے اربوں انسانوں میں سے اس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ہر مذہب کی کتاب ازبر کرا دی۔ دوسرا ڈاکٹر ذاکر کی ذاتی کوشش و خواہش بھی ہے کہ انہوں نے اپنی اس عظیم صلاحیت کو دین کی تبلیغ اور اسلام کی سچائی کے لئے وقف کر دیا۔ ڈاکٹر ذاکر آج بلاشبہ عالم اسلام کا قابل فخر سرمایہ ہےں۔ ہر مسلمان ان سے عقیدت رکھتا ہے اوران کی سلامتی کے لئے دعا گو ہے۔ اللہ پاک نے اپنے اس بندے کو دنیا میں عزت و عظمت کا معتبر مقام عطا کر رکھا، یقینا آخرت میں بھی انہیں خاص مقام حاصل ہوگا۔ مولانا طارق جمیل بھی ایسی ہی بے مثال خصوصی صلاحیت کے حامل ہیں۔ یہ 1953ءکو تحصیل میاں چنوں سے دس کلومیٹر شمال کے ایک گاو¿ں تلمبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب زمیندار تھے۔ مولانا طارق جمیل نے ایف ایس سی کا امتحان گورنمنٹ کالج لاہور سے پاس کیا اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لے لیا۔ میڈیکل کی تعلیم کے دوران ہی ان کا رجحان دین کی تعلیم اور تبلیغ کی طرف ہوگیا۔ انہوں نے جامعہ عربیہ رائیونڈ سے قرآن، حدیث، شریعہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ یہ بھی دنیا کے اربوں انسانوں میں سے چند ایک میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں اللہ پاک نے مضبوط حافظے جیسی عظیم صلاحیت سے نوازا ہے۔ انہوں نے اللہ کے اس عظیم عطئے کو اس کے دین کی تبلیغ و سربلندی کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ یہ جب بیان کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا دماغ کسی سپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ سپیڈ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ یوں لگتا جیسے کوئی غیبی قوت اثر انداز ہو، یقیناً وہ قوت اللہ پاک کا خصوصی کرم ہے، جس کی بدولت وہ اتنا وسیع لٹریچر اپنے دماغ میں محفوظ کئے ہوئے ہیں۔اللہ پاک نے اپنے اس بندے کو بھی خصوصی رتبے سے نوازا ہے۔ یہ مقولہ مولانا طارق جمیل پر سچ صادق آتا ہے کہ جس نے اللہ کی غلامی قبول کر لی، اللہ نے ساری دنیا پر اس کو حکمرانی دے دی۔ مولانا سے لوگ ہاتھ ملانے کے لئے دیوانہ وار دوڑتے ہیں۔ ان سے بات کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ مولانا کو اللہ پاک نے بغیر کسی سرکاری عہدے کے بادشاہی عطا کر کھی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے حقیقی حکمران مولانا طارق جمیل جیسے لوگ ہیں، جو دلوں پر راج کرتے ہیں، جن کی بات سننا،ان سے ملنا اور ان کی صحبت اختیار کرنا لوگ فخر کا باعث سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور مولانا طارق جمیل نے اللہ کی طرف سے دماغ میں یاد رکھنے کی صلاحیت کا مثبت استعمال کیا اور شکر کے طور پر اللہ کے دین کی سربلندی پر اپنی دماغی صلاحیت کو صرف کر کے عظیم رتبہ پایا، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دنیا وآخرت سنواری۔حافظے جیسیعظیم صلاحیت کی حامل ایک تیسری شخصیت نصیر بھائی کی ہے۔ یہ برادرم آفتاب اقبال کے ٹاک شو ”خبرناک“ کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ یہ بھی بلا کے ذہین ہیں۔ ان کے دماغ کی ہارڈڈسک میں یادداشت کا خزانہ جمع ہے۔ ان کے دماغ کا پروسیسر بھی کمال کا کام کرتا ہے۔ ان کا دماغ پورا انسائیکلو پیڈیا ہے، مگر افسوس کہ اس انتہائی نایاب و منفرد عطیہ خداوندی کو انہوں نے ایک ایسے راستے پر صرف کر دیا ، جس کا انہیں دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ آفتاب اقبال جیسے علم و فن کے قدر دان کی نظر ان پر پڑ گئی ، نہیں تو شاید یہ کسی گلی محلے کے تھڑے پر ہی ضائع ہو جاتے اور ان کا نام تک کوئی نہ جان پاتا۔نصیر بھائی کو بھی اللہ پاک نے دنیا کے اربوں انسانوں میں سے چند ایک عظیم انسانوں کے مضبوط حافظے جیسی نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ،مگر یہ شخص اندازہ نہیں کر سکا اور نہ ہی اسے کوئی گائیڈ نس مل سکی کہ وہ اس صلاحیت کو اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے صرف کرے۔ اس دیوانے آدمی نے اپنی اس صلاحیت کو فلمی گانوں کے شاعروں، گلوکاروں، موسیقاروں تک محدود کر دیا۔ اس شخص کے دماغ میں اردو، ہندی اور پنجابی کی اب تک بننے والی ہزاروں فلموں کے لاکھوں گانوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ اس کے سامنے کسی بھی گانے کے دو بول سنا دیں، یہ فوراً اس گانے کے شاعر، موسیقار، گلوکار، فلم اور فلم میں جن اداکاروں پر یہ گانا فلمایا گیا ہے، ان کا نام بتا دے گا۔ یہ بے مثال صلاحیت ہے، مگر افسوس کہ بدقسمتی سے یہ نایاب ہیرا تاج میں سجنے کی بجائے مٹی میں رُل گیا۔ ان کی یہ خصوصیت انہیں عالم اسلام کا ایک عظیم سکالر بنا سکتی تھی اور یہ لوگوں کے لئے رول ماڈل اور ہیرو کا مقام پا سکتے تھے، مگر یہ ہیرا ضائع ہوگیا۔ قارئین اپنے خاندان اور اردگرد اگر کوئی ایسا ایکسٹرا جینس بچہ یا نوجوان آپ کو ملے تو اس کی صحیح رہنمائی کریں۔ اسے بتائیں کہ وہ اپنی اس غیر معمولی خدا داد صلاحیت کو دینی و سائنسی علوم پر صرف کرے اور اس کا مثبت استعمال کر کے اسلام کی سربلندی کے لئے کام کرے۔ ہماری رہنمائی سے کوئی نصیر بھائی فلمی گانوں کا انسائیکلو پیڈیا بننے کی بجائے اسلامی انسائیکلو پیڈیا بن سکتا ہے، جس پر پوری اُمہ فخر محسوس کرے۔ نصیر بھائی کو بھی اگر یہ صحیح رہنمائی مل جاتی تو آج یہ مولانا طارق جمیل یا ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرح ہمارا عظیم سرمایہ ہوتے۔ کالم لکھنے کا مقصد ہرگز نصیر بھائی پر کسی قسم کی تنقید نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کی اس بے حسی و کمزوری کی نشاندہی ہے جس کی وجہ ہمارے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کو صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ والدین اور اساتذہ کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی سے ہمارے کئی ذاکر نائیک، طارق جمیل، ایڈیسن، نیوٹن اور سٹیو جابز اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو غلط راستے پر ضائع کر رہے ہیں۔ سکولوںا ور کالجوں میں ایسے طلباءپر اساتذہ کو خصوصی توجہ دینی چاہئے او راپنے ان ہیروں کو گائیڈنس دینی چاہئے کہ ان کا مقام تاج ہے، مئی میں رُلنا نہیں۔ اگر والدین اور اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے دینی و سائنسی علوم کے لاکھوں ستارے دنیا بھر میں اپنی علمی روشنی سے چانن کر سکتے ہیں اور ہم دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم