اُف یہ میٹر ریڈر، ان کا علاج کون کرے گا؟

اُف یہ میٹر ریڈر، ان کا علاج کون کرے گا؟

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آج گومل زیم ڈیم کا افتتاح کردیا ،اس سے ساڑھے سترہ میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین بھی سیراب ہوگی۔اس بحث میں پڑے بغیر کہ یہ کب شروع ہوا، کیا کیا رکاوٹیں آئیں، یہ امر خوش آئند ہے کہ بجلی کی پیداوار میں یہ اضافہ پن بجلی میں ہوا جو سستا ترین ذریعہ ہے، وزیراعظم کے ہاتھوں یہ افتتاح ہوا ہے تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اپنے انداز سے ہاتھ دھو کر توانائی کے بحران کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف پنجاب میں بجلی اور گیس کی چوری پکڑی جارہی ہے تو دوسری طرف میاں شہبازشریف بجلی کی پیداوار کے مختلف منصوبوں کو جلد مکمل کرانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔حال ہی میں لال سوہانرا(بہاول پور) میں سولر پارک کا ایک منصوبہ شروع کرنے کافیصلہ ہوا ،میاں محمد شہباز شریف نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ یہ کام ایک سال کے اندر اندر مکمل کیا جائے، اس سے ایک سو میگاواٹ بجلی ملے گی اور سولر انرجی میں یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جو چینی بھائی مکمل کریں گے۔ایک طرف یہ صورت حال ہے،جس کا مقصد لوڈشیڈنگ کے مسئلہ سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ان دنوں بھی گردشی قرضے ادا کردینے کے باوجود پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں،لوڈشیڈنگ کو بھی مناسب سطح پر رکھنے کی کوشش شروع ہے، حتیٰ کہ ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھا کر بھی پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔اس سے حکمرانوں کے عزم اور ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔اس ابتدائیہ سے مراد بے جا تعریف نہیں، حقائق بیان کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض مقصود ہے کہ حکمرانوں کے اس عزم اور ارادے میں شعبہ بجلی کے اہل کار کیا خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے کے ساتھ ساتھ اب صارفین مہنگی بجلی بھی خریدنے پر مجبور ہیں کہ ان کو تو ہر مہینے بل دینا ہی ہوتا ہے۔دوسری صورت میں روشنی سے محروم ہوسکتے ہیں۔آج ہم ایک بار پھر صیغہ واحد متکلم کے استعمال پر مجبور ہوئے کہ لیسکو کے عملے کے ہاتھوں بہت خوار ہونا پڑا ہے اور ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔میری اپنے دو بچوں کے ساتھ مصطفےٰ ٹاﺅن وحدت روڈ میں رہائش ہے۔پانچ مرلے کے دو منزلہ مکان میں رہتا ہوں، اوپر والا حصہ خالی ہے، مَیں اور بچے نیچے والا پورشن استعمال کرتے ہیں، اس لئے اوپر کے پورشن کے لئے بجلی کا استعمال بھی کم ہوتا ہے اور ہر ماہ اوسطاً دو سے ڈھائی سویونٹ خرچ ہوتے ہیں اور اس کا بھی انحصار موسم پر ہوتا ہے۔ہمارے میٹر کی ریڈنگ لینے والے میٹر ریڈر دوسرے ساتھیوں کے معمول کے مطابق ہمیشہ مئی سے جولائی یا اگست تک استعمال سے زیادہ یونٹ کا بل بھیج دیتے ہیں۔مقصد سال کے آخر میں آمدنی میں اضافہ ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ رواں سال دسمبر سے زیادہ یونٹوں کا سلسلہ شروع ہوا جو فروری کے بل میں 520یونٹ ہوگیا۔دفتری جھک جھک سے بچنے کے لئے برداشت کیا تو پھر انہی میٹر ریڈر نے حساب برابر کرنے کے لئے کم یونٹ بھیجنا شروع کئے۔ مارچ میں 300یونٹ کا بل بھیجا تو اپریل اور مئی میں بالترتیب 136اور102یونٹ کے استعمال کا بل بھیج دیا گیا۔ادائیگی کردی گئی ۔حیرت تو جون کے بل کی ہوئی جس کے خرچ ہونے والے یونٹ صفر اور بل 123روپے کا تھا۔سوچا پھر ریڈنگ میں گڑبڑ کی ہوگی ،اس لئے اگلے مہینے کے بل کا انتظار کیا۔اگلے ماہ (جولائی) کا بل پھر صفر ریڈنگ کے حساب سے 140روپے آیا، فکر لاحق ہوئی۔دفتر لیسکو سے رابطہ کیا تو انہوں نے بل دیکھ کر کہا فکر نہ کریں کہیں پہلے زیادہ یونٹ ڈال دیئے گئے ہوں گے جو اس طرح پورے کرلئے جائیں گے۔یہ سب اس وقت خواب ہوگیا جب تین روز قبل بل موصول ہوئے تو ریڈر کی مہربانی سامنے آ گئی، ریڈنگ کے مطابق 880یونٹ خرچ ہوئے تھے اور ریڈنگ 9778 سے 10656تھی، تمام واجبات ملا کر بل کی کل رقم بارہ ہزار پانچ سو تیس روپے تھی۔یہ بل دیکھ کر بلڈپریشر خراب ہوا اور سر میں درد شروع ہوگیا۔میں تنخواہ دار آدمی ہوں، تنخواہ پر گزارہ ہے ۔جس پورشن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس پورشن کے حصے کے بل میں 490یونٹ تھے اور اس کا بل 4744روپے بنا تھا، یہ گوارا تھا کہ تیز میٹر اور مہنگی بجلی کے دور میں یہ ممکن ہے، لیکن دوسرے بل نے تو ہاتھوں کے توتے اڑا دیئے۔لیسکو والوں کو سترہ ہزار سے زائد ادا کرنے کے بعد میرے پاس کیا بچ سکتا ہے ،اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

پریشانی نے گھیر لیا،کیونکہ واپڈا یا لیسکو کہہ لیں، ان کے رویے کا مجھے پہلے ہی تجربہ ہو چکا تھا۔ بہرحال میرا تو کوئی قصور نہیں تھا۔اگلے روز صاحبزادے عاصم کو لے کر نیاز بیگ سب ڈویژن کے دفتر گئے تو یہ دیکھ کر بہت تکلیف پہنچی کہ وہاں ہمارے جیسے اور بے شمار لوگ پریشان حال تھے اور بل درست کرا رہے تھے۔میں نے سب ڈویژنل آفیسر امتیاز نور سے رابطہ کیا،بل ان کو دکھایا اور پوچھا کہ میرا کیا قصور ہے اور کیا میٹرریڈر اتنے ہی طاقت ور ہیں کہ جو چاہیں کریں؟ ایس ڈی او کا جواب تھا، اختیار نہیں یہ ان کی ........ہے، انہوں نے اپنے ہیڈکلرک کو بلایا اور ان کو بل دے کر ہدایت کی ،وہ صاحب تھوڑی دیر بعد ایک سائیکلو سٹائل کاغذ پر چند تحریریں ڈال کر لائے اور ایس ڈی او سے دستخط کرا کے ہمارے حوالے کردیا، ایس ڈی او سے دریافت کیا کہ اب کیا کرنا ہے تو انہوں نے کہا سامنے میز پر چلے جائیں۔وہاں جو صاحب رجسٹر لئے بیٹھے تھے انہوں نے اس چٹھی پر نمبر ڈال کر ہدایت کی کہ ملتان روڈ پر ریونیو کے دفتر چلے جائیں ،باقی کام وہ کریں گے۔مَیں برخوردار کو ساتھ لے کر وہاں گیا،جب عاصم نے ریونیو شعبہ کے متعلقہ شخص کو چٹھی اور بل دیا تو ہدایت ہوئی کہ بل اور چٹھی کی فوٹو کاپیاں کراکر لائیں۔اس سے پہلے سب ڈویژن میں کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ فوٹو سٹیٹ کی ضرورت ہوگی۔بہرحال مجبوری تھی، باہر نکلے، بیٹے نے گاڑی بھگائی ،جہاں جہاں گئے لوڈشیڈنگ تھی، بالآخر وحدت روڈ تک آنا پڑا، وہاں بھی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑا اور بجلی بحال ہونے کے بعد فوٹو کاپی بنوائی گئی۔اب شعبہ ریونیو نے جو مہربانی کی، وہ یہ تھی کہ 880یونٹوں کو تین ماہ جون، جولائی اور اگست پر تقسیم کیا اور الگ الگ حساب کرکے پھر تینوں کو یکجا کیا اور 8415روپے کا بل بنا کر تھما دیا کہ یکمشت ادائیگی کردی جائے۔ اس بل میں سے جون اور جولائی کے دو ماہ میں ادا ہونے والے 130اور140روپے کا کوئی ذکر نہیں تھا اور نہ منہا کئے گئے، الٹا یکمشت ادائیگی کا پروانہ تھما دیا گیا،جو مجبوراً ادا کرنا پڑے۔اب اگر میٹر ریڈر یہ زیادتی نہ کرتے تو مجھے ہر ماہ ادائیگی کی سہولت ہوتی اورمَیں ہر ماہ دو سوا دو ہزار روپے ادا کرتا۔یوں میرے جیسے تنخواہ دار پر یہ بوجھ نہ بنتا۔اقبال ٹاﺅن ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر مسٹر اقبال سے ملاقات کی اور ان کو اپنی بپتا سنائی۔مقصد یہ تھا کہ ادائیگی کے حوالے سے کوئی سہولت مل جائے۔انہوں نے یہ فرمایا یہ یقیناً زیادتی ہوئی ہے، اس لئے میٹرریڈر کے خلاف محکمانہ کارروائی ہونا چاہیے۔انہوں نے سب ڈویژن والی سلپ کی فوٹوکاپی پر اظہار وجوہ کا حکم لکھا اور اسے پاس رکھ لیا،تسلی دی کہ تحقیقات کراکے سزا دی جائے گی۔میٹر ریڈر کا نام صبغت اللہ ہے ۔یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ہمارے جو رپورٹر لیسکو، واپڈا کی بیٹ کور کرتے ہیں ان کا نام بھی صبغت اللہ چودھری ہے۔میں نے بلا کم و کاست مختصر انداز میں حقائق بیان کر دیئے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس کارروائی سے جو مالی بوجھ پڑنا تھا وہ تو پڑا ،لیکن جو ذہنی پریشانی ہوئی اور صدمہ پہنچا اس کا حل کیا ہے، ایسا میرے ساتھ ہی نہیںہوا، سب ڈویژن (کسی بھی جگہ )جا کر دیکھ لیں کہ میٹر ریڈروں کی مہربانی سے کتنے صارفین خوار ہوتے ہیں۔منتظر ہوں کہ نہ صرف زیادتیکا ازالہ ہو، بلکہ میٹر ریڈر صبغت اللہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔     ٭

مزید : کالم