عرب لیگ یا امریکن لیگ؟

عرب لیگ یا امریکن لیگ؟

 امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو تمام مسلم ممالک امریکہ کے ساتھ تھے۔ یہ تاریخ کا المیہ تھا۔ جب افغانستان پر سوویت یونین نے جارحیت کی تھی تو آزاد دنیا اور تمام مسلمان ممالک نے سوویت یونین کے خلاف بھرپور آواز بلند کی، اسے کفر اور اسلام کی جنگ قرار دیا ،یقینا وہ اسلام اور کفر کی جنگ تھی ،لیکن جب امریکہ اور ناٹو نے افغانستان میں جارحیت کی تو اسے کفر اور اسلام کی جنگ قرار نہیں دیا گیا، حالانکہ جس طرح سوویت یونین کی جارحیت کفر تھی، بالکل اسی طرح امریکہ اور ناٹو کی جارحیت بھی کفر تھی، مگر ایسا نہیں ہوا ،اس لئے کہ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک امریکی پٹھو ہیں۔ یہ سب امریکہ کے طرفدار تھے۔ پاکستان کے جنرل پرویز مشرف نے امریکہ اور اتحادیوں کو مکمل مدد فراہم کی اور ایک مسلم ملک کو پامال کیا۔ اب امریکہ شام پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ اب شام تیسرا مسلمان ملک ہوگا ،جہاں امریکہ حملہ کرے گا۔ اس سے قبل لیبیا میں ایسا کرچکا ہے۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ عرب لیگ نے کھل کر امریکہ کی حمایت کی ہے اور شام پر حملے کے لئے مصر کے اجلاس میں تائید کی ہے۔ اب تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک امریکی پٹھو کا کردار ادا کررہے ہیں، ان کا یہ عمل مسلم دشمن عمل ہے ،ان کا سرمایہ مغربی کفر کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ اب پہلی بار سعودی عرب کی پالیسی کھل کر امریکہ نواز اور اسرائیل نواز نظر آرہی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف فوجی بغاوت کو سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔اس فوجی بغاوت کی پشت پر اسرائیل اور امریکہ تھے ،جبکہ سعودی عرب کا سرمایہ تھا، اس لئے اس نے اخوان المسلمون کی مخالفت کی کہ اس کا اقتدار خطرے میں تھا اور وہاں بھی تبدیلی آسکتی تھی۔ اخوان المسلمون امریکہ، مغرب اور سعودی عرب کے لئے خطرہ تھی، اس لئے اس کی حکومت ختم کردی گئی۔ شام کے بشارالاسد نے فوجی بغاوت کی حمایت کی تھی، آج وہ خود امریکی سازش کی زد میں ہے ۔اس کاکہنا تھا کہ مصر میں سیاسی اسلام ناکام ہوگیا ہے ۔اب اس کی حکومت امریکہ اور سعودی عرب کے رحم وکرم پر ہے۔آج نہیں تو کل حملہ ہوگا۔امریکہ نے ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنایا ہے، لیکن امریکہ کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا ہے کہ ایک مسلمان ملک پر حملہ آور ہو۔ امریکہ نے اس حملے سے ایک سال پہلے اس مسئلے کو شیعہ سنی مسئلہ بنایا ،تاکہ سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ امریکہ شہنشاہ ایران کا زبردست حامی تھا، جبکہ وہ شیعہ تھا۔ اس وقت اسے یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ رضا شاہ شیعہ ہے۔ امریکہ نے عراق میں صدام کو ہٹانے کے لئے شیعوں کی مدد کی، افغانستان میں طالبان کو ہٹانے کے لئے تاجک، ازبک اور ہزارہ قبیلے کے لوگوں کو استعمال کیا۔ اب اس نے شام پر حملے کے لئے پہلے شیعہ سنی مسئلے کو ہوا دی ، تاکہ اسے حملے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ اب شام میں القاعدہ کو سپورٹ کررہا ہے ۔لیبیا میں امریکہ نے القاعدہ کو استعمال کیا۔ مسلمانوں کو ہوش میں آنا چاہیے اور دشمن کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ امریکہ نہ شیعوں کادشمن ہے نہ سنیوں کا دوست، بلکہ امریکہ اس اسلام اور جمہوریت کو پسند نہیں کرتا، جو اس کے تابع نہ ہو۔ مصر کی جمہوری حکومت ،جو اخوان المسلمون نے قائم کی تھی ،اس کو فوج کے ذریعے ختم کیا، اس لئے کہ اخوان المسلمون امریکہ اور اسرائیل کی حامی نہ تھی۔ ایران کا اس لئے دشمن ہے کہ وہ امریکہ کے تابع نہیں رہنا چاہتا ہے۔ حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔ حماس اور حزب اللہ سے اسرائیل اور امریکہ کو نفرت ہے، اس لئے امریکہ ایران کا دشمن ہے ۔وہ ایران کا اس لئے دشمن نہیں کہ وہ شیعہ ہے، بلکہ اس لئے کہ ایران امریکی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے ،اس لئے کہ ایران شام میں امریکی جارحیت کا مخالف ہے۔ شام امریکہ کا حامی نہیں ہے ، وہ ایران کا حامی ہے۔ یہ بات امریکہ کو پسند نہیں۔ امریکہ ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ شیعہ سنی مسئلے کو خوب ابھارنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد یہ دوبارہ ایران کی طرف متوجہ ہوگا۔ امریکہ پاکستان پر نظر جمائے ہوئے ہے، وہ یہاں بھی مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتا ہے ۔شیعہ سنی مسئلے کو پوری طرح ابھارے گا، پھر وہ اپنے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرے گا۔ برطانیہ نے عربوں اور ترکوں کو متصادم کیا، کمزور کیا اورتقسیم کیا۔ اسرائیل کی ناپاک ریاست کو بنایا،مسلمانوں کے لئے اسرائیل ایک کینسر کی مانند ہے۔ عالم اسلام میں جتنی بھی سازشیں ہوتی ہیں ،اس کی پشت پر اسرائیل نظر آئے گا۔ امریکہ اس کے شیطانی منصوبوں پرعمل کرتا ہے ۔امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک کو متصادم کرکے فوجی جارحیت کا ارتکاب کرے گا۔ یوں انتشار پیدا کرکے کمزور کرے گا، اب عراق کمزور ہوگیا ہے ۔اس کا اب دنیا میں کوئی مقام نہیں رہ گیا ،ایسا ہی نقشہ لیبیا کا ہے۔ اب اس کی کوئی آواز نہیں ہے،وہ ایک بے حال ملک بن گیا۔ افغانستان پر 11 سالہ ظالمانہ جارحیت نے اسے ختم کرکے رکھ دیا ہے ۔اب شام کی باری ہے، مصر کو آپس میں متصادم کردیا ہے ۔وہ اخوان المسلمون کے ساتھ الجھا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرے گا ۔مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اللہ اور رسول کے ازلی دشمن کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے ۔ہمیں آج اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور اللہ کو مسلمانوں کی وحدت پسند ہے.... ہمیں انتشار اور تفرقے سے بچنا چاہیے ۔اس کالم کو سید جلال الدین افغانی کے انمول قول پر ختم کرتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ ”مجھے حیرت ہے کہ مسلمانوں نے انتشار پر اتفاق کرلیا ہے“۔     ٭

مزید : کالم